ایچ ای سی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کا بیک وقت 2 اداروں میں مختلف عہدوں پر کام کرنے کا انکشاف
اعلی تعلیمی کمیشن آف پاکستان کے ایگزیکٹیوو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاء الحق کی جانب سے بیک وقت دو عہدوں پر کام کیے جانے کا معاملہ سامنے آیا یے۔
ایکسپریس نیوز کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایچ ای سی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیا الرحمان اس وقت خیبر میڈیکل یونیورسٹی کے وائس چانسلر بھی ہیں جبکہ 4 برس کے لیے وہ ایچ ای سی اسلام آباد میں ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کے عہدے پر بھی تعینات ہوچکے ہیں۔
تاہم خیبر میڈیکل یونیورسٹی کا عہدہ چھوڑنے میں پس و پیش سے کام لے رہے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ ایچ ای سی کے ایگزیکٹیوو ڈائریکٹر جو ملک بھر کی جامعات کے وائس چانسلرز کو یونیورسٹی کے انتظامی و اکیڈمک معاملات پر رہنمائی یا گائیڈ لائن فراہم کرتے ہیں وہ اس وقت خود ایک یونیورسٹی کے وائس چانسلر ہیں۔
علاوہ ازیں اس معاملے پر چیئرمین ای ای سی پروفیسر ڈاکٹر نیاز احمد کا کہنا یے کہ ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے بیک وقت دو عہدوں پر کام کرنے کا معاملہ میرے علم میں نہیں اسلام آباد جاکر معلوم کریں گے۔
یہ بات انھوں نے پیر کو کراچی میں " ایکسپریس " کے کیے گئے سوال پر کہی۔
چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد نے پیر کو کراچی میں مختلف جامعات کا دورہ کیا جبکہ سندھ ایچ ای سی میں صوبے کے وائس چانسلرز سے خطاب بھی کیاْ
انھوں نے سندھ ایچ ای سی کے چیئرمین ڈاکٹر طارق رفیع، چارٹر انسپیکشن کمیٹی کے سربراہ ڈاکٹر سروش لودھی ، سیکریٹری سندھ ایچ ای سی ڈاکٹر نعمان احسن ، کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی کے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی، چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر عطاء الرحمن، ایچ ای جے کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر اقبال چوہدری، موجودہ ڈائریکٹر ڈاکٹر رضا شاہ اور آئی بی اے کراچی کے ڈائریکٹر ڈاکٹر اکبر زیدی سے ان کے اداروں میں جاکر ملاقات کی۔
اپنے دورے کے موقع پر چیئرمین ایچ ای سی ڈاکٹر نیاز احمد کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی، این ای ڈی یونیورسٹی، آئی بی اے کراچی ، جامعہ کراچی کے ایچ ای جے ریسرچ انسٹیٹیوٹ اور ازاں بعد سندھ ایچ ای سی گئے کراچی میٹروپولیٹن یونیورسٹی میں انھوں نے وائس چانسلر ڈاکٹر وسیم قاضی اور المنائی کی جانب سے 46 طلبہ کو 5 کروڑ روپے کی اسکالر شپس دینے کی تقریب سے خطاب کیا ۔
اس موقع پر نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے طلبہ میں اسناد تقسیم کی گئیں سندھ ایچ ای سی میں صوبے کی سرکاری و نجی جامعات کے وائس چانسلرز سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین ایچ ای سی کا کہنا تھا کہ پاکستان میں4 ملین طلبہ جامعات میں انرولڈ ہیں، ایچ ای سی کی جانب سے ٹیچر ٹریننگ اور ریسرچ پروجیکٹ پبلک اور پرائیویٹ دونوں جامعات کے اساتذہ کے لیے ہیں انھوں نے کہا کہ سندھ کی تمام جامعات کے لیے کلائوڈ ڈیٹا سینٹر کراچی میں بھی قائم ہوچکا ہے یہ سینٹر وفاقی حکومت نے این ای ڈی یونیورسٹی میں قائم کیا یے ۔
انہوں نے کہا کہ اب ہم نے جامعات کو خط لکھ کر کہا ہے کہ اپنا ڈیٹا یہاں محفوظ کریں ان کا کہنا تھا کہ این ای ڈی ایک بہترین ادارہ ہے یہاں کے ریسرچ سینٹر اے آئی، سائبر سیکیورٹی اور دیگر شعبوں میں بہت اچھا کام کررہے ہیں لیکن انجینئرنگ سائیڈ پر پاکستان میں این ای ڈی پہلے یا دوسرے نمبر پر بھی نہیں ہے کیونکہ یونیورسٹی کا ڈیٹا شیئر نہیں ہوتا۔
انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر سروش لودھی نے این ای ڈی یونیورسٹی کے لیے اچھا کام کیا ہے ایک وائس چانسلر کے سوال پر ان کا کہنا تھا کہ مجھے بتانے میں خوشی ہورہی ہے کہ گزشتہ برس بھارت کے ساتھ جنگ میں ہمارے طلبہ نے سائبر سیکیورٹی کی سطح پر دشمن کا مقابلہ کیا۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ سندھ اور فیڈرل ایچ ای سی ملکر جامعات کے پروگرام کو مشترکہ این او سی جاری کریں گے تاکہ جامعات کو ڈپلیکیشن کی زحمت نا ہو۔
علاوہ ازیں آئی بی اے کے دورے کے موقع پر ایگزیکٹیوو ڈائریکٹر ڈاکٹر اکبر زیدی کی جانب سے چیئرمین ایچ ای سی کو بتایا گیا کہ آئی بی اے کراچی اب اسلام آباد میں کیمپس جلد کھول رہا ہے اس مقصد کے لئے اسلام آباد میں زمین حاصل کرلی یے جون میں اسلام آباد کیمپس کا سنگ بنیاد رکھیں گے آئی بی اے کا بورڈ آف گورنرز اس منصوبے کی منظوری دے چکا ہے سندھ حکومت کی جلد منظوری کابینہ سے متوقع ہے۔