پاکستان کی کامیاب سفارت کاری

پاکستان کی ناقابل یقین ڈپلومیسی کی بدولت دنوں ممالک کے وفود نے آمنے سامنے بیٹھ کر مذاکرات کیے

قوموں اور ملکوں کی زندگی میں ایسے لمحات اور دن آتے رہتے ہیں کہ جو تاریخ کا انمٹ حصہ بن کر رہ جاتے ہیں اور جب بھی اس قوم یا ملک کا ذکر کیا جائے تو اس لمحے یا دن کا تذکرہ کئے بغیر وہ تاریخ مکمل ہی نہیں ہوتی۔

وہ لمحہ ضروری نہیں کہ خوشی کا ہی ہو، بلکہ وہ غم اور دکھ کا بھی ہوسکتا ہے۔ لیکن وہ ملک کی تاریخ پر ایسا اثر چھوڑتا ہے کہ آپ اسے نہ چاہتے ہوئے بھی یاد کرتے ہیں اور اسے اپنی یادوں سے محو نہیں کرسکتے اور اگر وہ لمحہ خوشی، مسرت اور فخر کا ہو تو پھر تو اس کے کیا ہی کہنے۔

پھر تو وہ لمحہ یا دن ہماری یادوں کا جھومر بن کر ساری زندگی جگماتا رہتا ہے بلکہ اسے ہر سال دھوم دھام سے منایا بھی جاتا ہے اور اس کی یاد کو ہمیشہ تروتازہ رکھا جاتا ہے کہ آنے والی نسلیں اس کی اہمیت اور ہماری تاریخ پر ایک طرف اس کے اثرات کا مشاہدہ کر سکیں اور دوسری طرف اسے اپنی زندگیوں کا حصہ بناتے ہوئے اسے اپنی اگلی نسلوں میں منتقل کرسکیں۔

ہمارے وطن پاکستان کی تاریخ میں ایک ایسا ہی قابل فخر اور یادگار لمحہ اس وقت آیا جب اس نے خطے میں جنگ نہ روکنے پر تلے دو ممالک ایران اور امریکا کو نہ صرف اپنے ملک میں مدعو کیا، بلکہ دونوں کے وفود کو اسلام آباد میں مذاکرات کی ایک ہی ٹیبل پر ایک دوسرے کے سامنے لا بٹھایا۔ اور یہ 11 اپریل 2026 کا ایسا لمحہ تھا جس پر پوری دنیا میں یقین کرنے والا کوئی نہیں تھا لیکن ایسا ہوا اور یہ سب پاکستان نے کر دکھایا۔

ایران کی طرف سے اسپیکر باقر قالیباف اور وزریر خارجہ عباس عراقچی اپنے وفد کے ساتھ پہلے یہاں پہنچے اور بعد میں امریکا کے نائب صدر ڈی جے وینس اپنے وفد کے ساتھ نور خان ایئر بیس پر اترے تو ان کا بھرپور اور گرم جوشی سے استقبال کیا گیا۔ اسی طر ح کا گرم جوش استقبال پہلے ایران کے وفد کا کیا جاچکا تھا۔ ان دونوں وفود کی سیکیورٹی کو یقین بنانے کےلیے پاکستان نے ان دونوں کو اسلام آباد کے سرینا ہوٹل میں ٹھہرایا تاکہ دونوں کو کسی قسم کے شک کی گنجائش نہ رہے۔

پہلے دونوں وفود نے الگ الگ اپنے ثالث یعنی پاکستان کے ذریعے بات چیت کی اور بظاہر لگتا تھا کہ شاید دونوں اسی طرح بالواسطہ ہی بات کریں لیکن پاکستان کی کوشش اور ناقابل یقین ڈپلومیسی کی بدولت مذاکرات میں وہ لمحہ بھی آن موجود ہوا جب دنو ں ممالک کے وفود نے بلاواسطہ یعنی ڈائریکٹ آمنے سامنے بیٹھ کر مذاکرات کیے۔

اگرچہ اس مذاکرات کے 21 گھنٹوں کے دور میں دونوں ممالک کے درمیان کوئی ڈیل تو نہ ہوسکی لیکن پاکستان کی کوششوں کی بدولت وہ دو ممالک مذاکرات کی اس ٹیبل پر آمنے سامنے تو بیٹھے جس پر وہ 1979 کے بعد نہ بیٹھے تھے۔ دونوں ممالک کے مطابق تمام پوائنٹس پر بھرپور بات چیت ہوئی لیکن چند ایک بلکہ آخر میں صرف ایک نیوکلیئر ایشو پر معاملات فائنل نہ ہونے سے ڈیل فائنل نہ ہو سکی اور دونوں وفود پاکستان کی کوششوں کی تعریف اور شکریہ ادا کرتے ہوئے 12 اپریل 2026 اپنے ملکوں کی طرف روانہ ہو گئے۔ پاکستان کی ثالثی میں ابھی بھی معاہدہ کرنے کی طرف کوششیں جاری ہیں۔

جب ہم پاکستان کی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو ایک وہ وقت تھا جب پاکستان کو دنیا کے ان خطوں میں پذیرائی ملتی تھی یا پہچانا جاتا تھا، جہاں ہاکی اور کرکٹ جیسے کھیل کھیلے جاتے تھے، پھر اسکواش کی بدولت بھی ملک کی پہچان بنی۔ ایک وقت وہ بھی رہا جب پاکستان بیک وقت ہاکی، کرکٹ، اسکواش اور اسنوکر کا عالمی چیمپئن تھا اور آج وہ دور ہے کہ ہمیں اپنی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کے نام تو کیا کپتان تک کا نام بھی معلوم نہیں۔ اسی طرح ہماری کرکٹ ٹیم میں بھی وہ دم خم نہیں رہا جس کی بدولت دنیا میں ہمارا ڈنکا بجتا تھا۔

میں سمجھتا ہوں کہ دنیا پر پاکستان کی دھاک اس وقت پہلی مرتبہ بیٹھی جب 28 مئی 1998 کو پاکستان کی اس وقت کی حکومت نے عالمی طاقتوں کی دھمکیوں اور امداد کی لالچ کو جوتے کی نوک پر رکھ کر بھارت کے ایٹمی دھماکوں کے بدلے میں دھماکے کرکے بلوچستان میں چاغی کے پہاڑوں کا رنگ تبدیل کردیا تھا اور دنیا کو بتا دیا تھا کہ ہم پہلی مسلم ریاست ہیں جو ایٹمی قوت ہیں اور اس طرح ہمارا دفاع ناقابل تسخیر ہوچکا تھا۔

پاکستان میں وہ لمحہ ایک قابل فخر لمحہ تھا۔ ہر پاکستانی کا سر پوری د نیا میں فخر سے بلند ہوا تھا۔ اس کے بعد یقیناً ہمیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن اپنے ملک کا دفاع ناقابل تسخیر ہو چکا تھا۔

اس کے بعد آپریشن ’’بنیان المرصوص‘‘ میں پاک فوج اور خاص کر پاکستان ایئر فورس کی اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کو اس کی ہمارے ساتھ کی گئی شرارت کے بدلے میں ناقابل یقین کارکردگی اور اسے ناقابل تلافی اور ناقابل یقین نقصان پہنچانے کی بدولت پاکستان کا ڈنکا پوری دنیا میں بجنے لگا اور پوری دنیا کی افواج اور ممالک پر ہماری دھاک بیٹھ گئی۔ اور بھارت کو اتنا نقصان پہنچا کہ امریکا کا صدر ڈونلڈٹرمپ وہ نقصان گنوانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا اور ابھی بھارت کے شکست کے زخم مندمل بھی نہیں ہوپاتے کہ امریکی صدر پھر ساری دنیا کو یاد کرا دیتے ہیں کہ پاکستان نے اس کے کتنے مہنگے اور ایڈوانس ٹیکنالوجی والے طیارے مار گرائے اور اس نے یہ جنگ رکوائی، جس پر اسے امن کا نوبیل انعام ملنا چاہیے۔

اگرچہ امریکی صدر کو امن کا نوبیل انعام تو نہ مل سکا لیکن بھارت کو خوب آرام مل گیا اور ہمارے آرمی چیف کو بنیان المرصوص میں شاندار اور ناقابل یقین کارکردگی پر فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ بلاشبہ اس آپریشن بنیان المرصوص نے پاکستان اور اس کی افواج کو پوری دنیا میں صحیح متعارف کروا دیا اور یہ بھی پاکستان کی تاریخ میں قابل فخر اور یادگار لمحات تھے جنہیں تاریخ کے صفحات سے کبھی نکالا نہیں جاسکے گا۔

آپریشن ’’بنیان المرصوص‘‘ میں عظیم الشان کامیابی کی ابھی دھول بھی نہ بیٹھی تھی کہ پاکستان نے سفارتی میدان میں اپنی لیاقت کا لوہا منوا لیا اور دنیا کو تیسری عالمی جنگ سے بچالیا۔

دیکھنے میں اگر کسی کو آسان نظر آتا ہو لیکن حقیقت میں یہ انتہائی جان جوکھوں کا کام ہے جو پاکستان کی سیاسی اور ملٹری قیادت نے سر انجام دیا، جس پر پوری دنیا بھی حیران ہے۔

اس ناقابل یقین واقعے نے پوری دنیا کی توجہ پاکستان پر مرکوز کر دی اور میرے خیال میں دنیا کے نقشہ پر کوئی ایک بھی ملک ایسا نہیں ہوگا جس کے پرنٹ، الیکٹرانک اور سوشل میڈیا کا رخ ان دنوں اسلام آباد کی طرف نہ ہو۔ پاکستان کی وزارت اطلاعات کی سربراہی اور نگرانی میں اسلام آباد کنونشن سینٹر کو لوکل اور انٹرنیشنل میڈیا کے نمائندوں کےلیے سہولت کاری کا مرکز بنا کر وہاں ہر ممکن سہولت فراہم کردی گئی، جس کی انٹرنیشنل میڈیا نے بہت تعریف کی۔ الغرض پاکستان نے اس حوالے سے کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی اور پاکستان کا سبز ہلالی پرچم پوری دنیا میں جگمگاتا رہا اور بہت سارے ممالک نے پاکستان کی تعریف میں ترانے تک بنا ڈالے اور پاکستان کے علاوہ دیگر ممالک میں اپپا پرچم لہراتا دیکھ کر اپنا تو ڈیڑھ سیر خون بڑھ گیا ہے۔

اللہ ہمارے ملک اور ہمارے پرچم کو سدا بلند رکھے اور اس کی دھاک پوری دنیا پر بٹھائے رکھے۔ اللہ ہمارے ملک کو ترقی دے اور اسے ہمیشہ کے لیے ناقابل تسخیر بنا کر رکھے۔ آمین۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story