غیریقینی صورتحال سے زرمبادلہ کی مارکیٹوں پر شدید دباؤ
انٹربینک میں ڈالر کی قدر 100 روپے سے تجاوز، اوپن مارکیٹ میں قیمت 99.95 رہی
انٹربینک میں ڈالر کی قدر 100 روپے سے تجاوز، اوپن مارکیٹ میں قیمت 99.95 رہی۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل
حکومت مخالف دھرنے اور سول نافرمانی کی تحریک شروع کرنے کی دھمکی کے باعث زرمبادلہ کی دونوں مارکیٹوں میں غیریقینی کیفیت کو مزید بڑھادیا ہے اور پیر انٹربینک مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر 100 روپے سے تجاوز کرگئی جس سے ڈالر کے انٹربینک ریٹ 6 پیسے کے اضافے سے 100.01 روپے کی سطح پر آگئی جس کے نتیجے میں انٹربینک ریٹ اوپن مارکیٹ کے مقابلے میں بھی 6 پیسے زیاد ہوگئے۔
اوپن مارکیٹ میں پیر کو کو امریکی ڈالر کی قدر 99 روپے 95 پیسے پر مستحکم رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی بحران، سول نافرمانی شروع کرنے اور دھرنوں کے دائرہ کار کو تمام صوبوں تک توسیع دینے کے اعلانات کی وجہ سے نہ صرف درآمدی شعبے نے ڈالر کی فارورڈ بکنگ شروع کر دی ہے بلکہ اوپن مارکیٹ میں بھی خریداری دباؤ بڑھ گیا ہے اور لوگ اپنے سرمائے کو ڈالر کی صورت میں محفوظ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار منگل کو حکومت کو دیے گئے الٹی میٹم کی مدت ختم ہونے کے بعد کی صورتحال پر مضطرب نظر آرہے ہیں۔
اوپن مارکیٹ میں پیر کو کو امریکی ڈالر کی قدر 99 روپے 95 پیسے پر مستحکم رہی۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سیاسی بحران، سول نافرمانی شروع کرنے اور دھرنوں کے دائرہ کار کو تمام صوبوں تک توسیع دینے کے اعلانات کی وجہ سے نہ صرف درآمدی شعبے نے ڈالر کی فارورڈ بکنگ شروع کر دی ہے بلکہ اوپن مارکیٹ میں بھی خریداری دباؤ بڑھ گیا ہے اور لوگ اپنے سرمائے کو ڈالر کی صورت میں محفوظ بنانے کی کوشش کررہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ سرمایہ کار منگل کو حکومت کو دیے گئے الٹی میٹم کی مدت ختم ہونے کے بعد کی صورتحال پر مضطرب نظر آرہے ہیں۔