چینی صدر اور ابوظہبی کے ولی عہد کی ملاقات؛ مشرق وسطیٰ میں امن کیلیے 4 نکات پر اتفاق
چین کے صدر شی جنپنگ سے ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد خالد بن زائد النہیان نے بیجنگ میں ملاقات کی جس میں مشرق وسطیٰ کی صورت حال سمیت دوطرفہ تعلقات پر بات چیت کی گئی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق متحدہ عرب امارات کا اعلیٰ سطح کا وفد چین کے دورے پر بیجنگ پہنچا جس کی قیادت ابوظہبی کے ولی عہد کر رہے تھے۔
بیجنگ میں ہونے والی اس ملاقات میں چین اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
صدر شی جنپنگ نے کہا کہ متحدہ عرب امارات ہمارا ایک جامع اسٹریٹجک شراکت دار ہے اور دونوں ممالک کے درمیان سیاسی اعتماد، عملی تعاون اور عوامی روابط میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ چین اور یو اے ای مل کر ایک زیادہ مضبوط، متحرک اور مستحکم شراکت داری قائم کریں گے جبکہ توانائی، سرمایہ کاری، تجارت، سائنس و ٹیکنالوجی، تعلیم، سیاحت اور سول ایوی ایشن سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید وسعت دی جائے گی۔
اس کے علاوہ دونوں ممالک کے رہنماؤں نے اقوام متحدہ اور برکس جیسے عالمی پلیٹ فارمز پر بھی باہمی رابطہ اور تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے شی جنپنگ نے امن و استحکام کے لیے چار نکات پیش کیے۔
جس میں پرامن بقائے باہمی کے فروغ، مشترکہ، جامع، پائیدار سیکیورٹی ڈھانچے کی تشکیل، تمام ممالک کی خودمختاری، سالمیت کا احترام اور کسی بھی ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرنا شامل ہے۔
صدر شی جنپنگ نے عالمی قوانین کی پاسداری کو بھی ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی نظام کو اقوام متحدہ کے تحت مضبوط بنایا جائے اور قانون کے یکساں اطلاق کو یقینی بنایا جائے تاکہ دنیا جنگل کے قانون کی طرف نہ جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ انھوں نے ترقی اور سلامتی کو ایک دوسرے سے جڑا ہوا قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے کے ممالک کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا ضروری ہے تاکہ معاشی ترقی اور امن دونوں کو یقینی بنایا جا سکے۔
اس موقع پر ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد نے کہا کہ چین کے ساتھ تعلقات کو بے حد اہمیت دیتے ہیں اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینا چاہتے ہیں۔
انھوں نے مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے حل کے لیے چین کے تعمیری اور ذمہ دارانہ کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ جنگ بندی کے قیام، خطے میں امن کی بحالی، بین الاقوامی بحری راستوں کے تحفظ اور عالمی معیشت و توانائی کے استحکام کے لیے چین کے ساتھ قریبی رابطہ رکھے گا۔
انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ یو اے ای میں موجود چینی شہریوں اور اداروں کی سکیورٹی کو یقینی بنایا جائے گا جبکہ دونوں ممالک موجودہ علاقائی اور عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر متفق ہیں۔