پاکستان، ترکیہ، سعودیہ اور مصری حکام کا اجلاس، نئے 4 فریقی اتحاد کے ڈھانچے کی حتمی تجاویز تیار

ان چاروں ملکوں کا وزرائے خارجہ کی سطح پر پہلا اجلاس ریاض میں ہوا

اسلام آباد:

پاکستان، ترکیہ، مصر اور سعودی عرب خاموشی سے لیکن مستقل مزاجی کے ساتھ ایک نئے 4فریقی ڈھانچے کو باقاعدہ شکل دینے کی جانب بڑھ رہے ہیں کیونکہ مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے ہونے والی تبدیلیاں اہم علاقائی ممالک پر سفارت کاری اور سیکیورٹی پر زیادہ قریبی ہم آہنگی پیدا کرنے کا دبائو ڈال رہی ہیں۔

حکام اسے باقاعدہ اتحاد کہنے سے کترا رہے ہیں تاہم رابطوں کی رفتار اور تعداد یہ ظاہر کرتا ہے کہ 4ملکی فورم ایک منظم گروپ میں تبدیل ہو رہا ہے جس کا مقصد غیر مستحکم خطے میں نتائج پر اثر انداز ہونا ہے۔

اس حوالے سے حالیہ قدم منگل کو اٹھایا گیا جب ان چاروں ممالک کے اعلیٰ حکام نے اپنے وزرائے خارجہ کے درمیان ہونے والی سابق مشاورت کے تسلسل میں اسلام آباد میں ملاقات کی۔

پاکستانی وفد کی قیادت ایڈیشنل سیکریٹری خارجہ اور ترجمان سفیر طاہر انداربی نے کی۔ ترکیہ کے وفد کی سربراہی نائب وزیر خارجہ سفیر موسیٰ کولاکلیکایا نے کی، مصر کی نمائندگی اسسٹنٹ وزیر خارجہ سفیر نزیہ النگاری نے کی  اور سعودی وفد کی قیادت وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل شہزادہ ڈاکٹر عبداللہ بن خالد بن سعود الکبیر السعود نے کی۔

اس اجلاس میں اعلیٰ عہدیداروں نے ان تجاویز کو حتمی شکل دی جو  ترکیہ کے شہر انطالیہ میں  17 اپریل کو انطالیہ ڈپلومیسی فورم کے موقع پر وزرائے خارجہ کے آئندہ اجلاس میں پیش کی جائیں گی۔ یہ مشاورت بالخصوص ایران اور امریکہ کے حالیہ فوجی تناؤ کے پس منظر میں ہو رہی ہے۔

اس فوجی تناؤ نے سفارتی حساب کتاب بدل کر رکھ دیا ہے اور کشیدگی کے مزید پھیلاؤ کو روکنے کے لیے فوری پسِ ردہ کوششوں کی ضرورت محسوس کی گئی ۔ 

ان چاروں ملکوں کا وزرائے خارجہ کی سطح پر پہلا اجلاس 19 مارچ کو ریاض میں اس وقت ہوا تھا جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی عروج پر تھی۔ محض دس دن بعد وہ دوبارہ اسلام آباد میں جمع ہوئے جو اس اقدام کی فوری ضرورت اور سنجیدگی کو اجاگر کرتا ہے۔ 

چند ہی دنوں میں انطالیہ میں ایک اور اجلاس طے پانے کے بعد حکام کا کہنا ہے کہ یہ رفتار اس مشترکہ اعتراف کی عکاسی کرتی ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے ابھرتے ہوئے بحرانوں کا جواب دینے کے لیے روایتی سفارتی طریقے اب کافی نہیں رہے۔

سفارتی ذرائع نے ’’ دی ایکسپریس ٹریبیون‘‘  کو بتایا کہ بات چیت کا محور ایک ایسے تعاون پر مبنی فریم ورک کی تشکیل ہے جو تنازعات کی روک تھام، اقتصادی ہم آہنگی اور کلیدی علاقائی مسائل پر سیاسی ہم آہنگی کے گرد گھومتا ہے۔

ایک ذریعے نے بتایا کہ مربوط نقطہ نظر کی ضرورت پر چاروں دارالحکومتوں کے خیالات میں واضح ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ اس گروپ کے ڈھانچے پر ابھی کام ہو رہا ہے، لیکن یہ عارضی مشاورت سے آگے بڑھ رہا ہے۔

دورے کے دوران وفود نے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار سے بھی ملاقات کی جنہوں نے ان برادر ممالک کے درمیان تعاون کو ادارہ جاتی شکل دینے کی اہمیت پر زور دیا۔

اسحاق ڈار نے اس بات پر زور دیا کہ قریبی ہم آہنگی امن، استحکام اور اقتصادی ترقی کے مشترکہ اہداف کو آگے بڑھانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر ایک ایسے وقت میں جب مشرقِ وسطیٰ میں جغرافیائی و سیاسی غیر یقینی کی صورتحال گہری ہو رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابھرتا ہوا چار فریقی ڈھانچہ کسی باقاعدہ بلاک کے بجائے ایک عملی ہم آہنگی کی عکاسی کرتا ہے جس کا محرک علاقائی استحکام، توانائی کی سلامتی اور سفارتی اثر و رسوخ میں مشترکہ مفادات ہیں۔

دریں اثنا ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق  حالیہ اجلاس مقصد باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا اور مشترکہ حکمت عملی وضع کرنا تھا۔

Load Next Story