امریکی بحریہ کا کروڑوں ڈالر مالیت کا جدید جاسوس ڈرون خلیج فارس میں گر کر تباہ

جدید AESA ریڈار سے لیس ہے اور الیکٹرانک اور انفراریڈ نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے

ایران جنگ میں امریکی بحریہ کا کروڑوں ڈالر مالیت کا جدید جاسوس ڈرون تباہ

امریکی بحریہ نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اس کا جدید MQ-4C Triton جاسوس ڈرون 9 اپریل کو مشرق وسطیٰ کی فضائی حدود میں گر کر تباہ ہوگیا۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکی نیول سیفٹی کمانڈ نے جاسوس ڈرون کے تباہ ہونے کے واقعے کو “کلاس اے حادثہ” قرار دیا جو عام طور پر 2 ملین ڈالرز سے زائد نقصان یا انتہائی سنگین نوعیت کے حادثات کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

یہ ڈرون خلیج فارس کے اوپر تقریباً 50 ہزار فٹ کی بلندی پر اپنی معمول کی نگرانی کی پرواز پر تھا جب اس نے اچانک آن لائن فلائٹ ٹریکنگ سسٹمز پر اپنی موجودگی کھو دی۔

ابتدائی معلومات کے مطابق ڈرون نے اچانک تیزی سے نیچے آنے لگا تھا اور چند ہی لمحوں میں 10 ہزار فٹ سے بھی نیچے آگیا تھا۔

اس وقت جاسوس ڈرون کی پرواز کا رخ بحیرہ عرب اور آبنائے ہرمز کے قریب تھا اور آخری اطلاعات میں یہ اٹلی میں موجود نیول ایئر اسٹیشن سیگونیلا کی طرف واپس جا رہا تھا۔

مزید یہ کہ اس نے ہنگامی صورتحال ظاہر کرنے والا کوڈ 7700 بھی نشر کیا تھا جبکہ کچھ رپورٹس کے مطابق اس سے قبل اس نے 7400 کوڈ بھی بھیجا جو کنٹرولرز سے رابطہ منقطع ہونے کی علامت ہے۔

ڈرون کی اہمیت اور خدشات

MQ-4C Triton امریکی بحریہ کا انتہائی جدید طویل فاصلے تک نگرانی کرنے والا بغیر پائلٹ طیارہ ہے جو 50 ہزار فٹ بلندی پر طویل عرصے تک پرواز کر سکتا ہے۔

یہ جدید AESA ریڈار سے لیس ہے اور الیکٹرانک اور انفراریڈ نگرانی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ جس کے باعث یہ خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے حساس علاقوں کی نگرانی پر مامور تھا۔

Load Next Story