ایران مالی طور پر کمزور ہوچکا ہے، جنگ کی سکت نہیں رہی؛ امریکی حکام کا دعویٰ
ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی معاہدہ جلد ممکن ہے
امریکی مذاکرات سے واقف ایک عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران ایک ایسے فریم ورک معاہدے کے قریب پہنچ رہا ہے جو جنگ کو ختم کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان، ترکیہ اور مصر دو ہفتے کی جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات بحال کرانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
اس حوالے سے امریکی حکام نے بتایا کہ تمام فریقین کے ساتھ بات چیت جاری ہیں اور جنگ بندی معاہدہ اب بہت قریب ہے۔
ایک اور امریکی حکومتی عہدیدار نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ہم معاہدہ کرنا چاہتے ہیں اور ایرانی حکومت کے کچھ لوگ بھی تیار ہیں مگر اصل چیلنج اعلیٰ قیادت کو راضی کرنا ہے۔
امریکی عہدیدار کا مزید کہنا ہے کہ ایرانی حکام اگر جنگ بندی معاہدے پر راضی ہوئے تو اس کی وجہ ان بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی ہے جس سے ایران کی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔
امریکی حکام کے بقول ایران کے پاس اب پیسہ نہیں رہا ہے اور وہ مالی طور پر نہایت کمزور ہوچکا ہے اور یہ بات ایرانی حکومت کو بھی معلوم ہے۔
ایک اور امریکی عہدیدار نے کہا کہ اگر تیل پیدا نہ ہوسکا تو ایران کی صورتحال وینزویلا سے بھی بدتر ہوسکتی ہے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اگر یہ فریم ورک معاہدہ طے پا جاتا ہے تو جنگ بندی میں توسیع کر دی جائے گی تاکہ مزید مذاکرات جاری رہ سکیں۔
تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ابھی تک جنگ بندی میں توسیع پر باقاعدہ اتفاق نہیں ہوا۔ فی الحال دونوں ممالک کے درمیان رابطے اور بات چیت جاری ہے۔