بجٹ کا جائزہ لینے کے لیے آئی ایم ایف مشن مئی میں پاکستان آئے گا
پاکستان کے لیے آئندہ مالی سال 2026-27ء کے وفاقی بجٹ اور دیگر امور کا جائزہ لینے کے لیے آئی ایم ایف کا مشن مئی پاکستان آئے گا۔
وزارت خزانہ کے مطابق وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے بہار اجلاس 2026ء کے موقع پر آئی ایم ایف کے ڈپٹی منیجنگ ڈائریکٹر نائجل کلارک سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران وزیر خزانہ نے پاکستان کی بیرونی مالی ضروریات، آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد اور مجموعی معاشی صورتحال پر بریفنگ دی اور بتایا کہ اہم معاشی اشاریے مجموعی طور پر درست سمت میں ہیں۔
سینیٹر اورنگزیب نے بتایا کہ کرنٹ اکاؤنٹ کی کارکردگی توقع سے بہتر رہی ہے، جس میں رمضان کے دوران ترسیلات زر میں نمایاں اضافہ اہم کردار رہا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی جانب سے مالی معاونت اور ڈپازٹس کے رول اوور سے زرمبادلہ ذخائر مزید مستحکم ہو رہے ہیں۔
وزیر خزانہ نے پاکستان کی مالیاتی حکمت عملی سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت مالی ذرائع کو متنوع بنانے پر کام کر رہی ہے، جس میں پانڈا بانڈ، یورو بانڈ اور مقامی کرنسی میں فنانسنگ کے ذریعے زرمبادلہ کے خطرات کم کرنے کی کوشش شامل ہے۔
سینیٹر اورنگزیب نے پاکستان کے پروگرام پر عملدرآمد اور مالیاتی حکمت عملی کے حوالے سے نائجل کلارک کے مثبت جائزے کو سراہا، خاص طور پر مختلف مالی ذرائع پیدا کرنے کی کوشش کو اہم قرار دیا۔ دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی اور عالمی حالات کے اثرات طویل عرصے تک برقرار رہ سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ شرح مبادلہ میں لچک برقرار رکھی جائے اور مالی گنجائش محفوظ رکھی جائے، بجائے اس کے کہ خطرناک قرض لے کر ترقی کو سہارا دیا جائے۔
وزیر خزانہ نے آئی ایم ایف کے مشن کی آئندہ ماہ پاکستان آمد کا بھی خیرمقدم کیا، جو بجٹ اور دیگر پروگرام سے متعلق امور کا جائزہ لے گا۔