اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی؛ حزب اللہ نے بھی اپنی شرائد رکھ دیں
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے گریٹر اسرائیل منصوبے کو مسترد کردیا
امریکی صدر ٹرمپ نے اسرائیل اور لبنان کے درمیان 10 روزہ جنگ بندی کا اعلان کیا ہے جس پر حزب اللہ نے بھی اپنے مطالبات پیش کر دیے۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق حزب اللہ کے رکن پارلیمان علی فیاض نے جنگ بندی کے حالیہ اعلان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں۔
علی فیاض نے کہا کہ آئندہ مرحلہ نہایت پیچیدہ اور چیلنجز سے بھرپور ہوگا۔ لبنان کے لیے بدترین صورتحال داخلی بدامنی یا خانہ جنگی کی دوبارہ شروعات ہو سکتی ہے۔
انھوں نے لبنانی حکومت پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات سے گریز کرے اور حزب اللہ کو بات چیت میں شریک کیا جائے گا کیوں کہ یہ جماعت عوامی نمائندگی رکھتی ہے۔
حزب اللہ کے رہنما نے 3 شرائش کرتے ہوئے کہا کہ لبنان کی سرزمین پر حملوں کے مکمل خاتمے، اسرائیلی فوج کی نقل و حرکت پر بندش اور 2 مارچ سے پہلے کی صورتِ حال کی بحالی کے بغیر جنگ بندی بے معنی ہے۔
یاد رہے کہ اسی تاریخ ( 2 مارچ) کو حزب اللہ نے ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بدلے میں اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون حملے کیے تھے جس کے جواب میں اسرائیل نے ملک بھر میں فضائی حملے کیے تھے۔
حزب اللہ کے رہنما کا مزید کہنا تھا کہ لبنانی سرزمین پر اسرائیل کا مسلسل قبضہ لبنان اور اس کے عوام کو مزاحمت کا حق دیتا ہے۔ یہ حق دفاع ہے جس کا استعمال کرتے رہیں گے۔
دوسری جناب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے واضح کیا کہ لبنان میں حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا اسرائیل کی بنیادی شرط ہے اور جب تک یہ مطالبہ پورا نہیں ہوتا خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیل، حزب اللہ کے اس مطالبے کو تسلیم نہیں کرے گا جس میں اسرائیلی افواج سے سرحدی علاقوں سے پیچھے ہٹنے کا کہا گیا ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو اور لبنانی صدر جوزف عون کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جلد دونوں ممالک کا دورہ کریں گے۔