سری لنکا سے کلین سوئپ پر سابق کرکٹرز تلملا اٹھے
بیٹسمینوں کی خامیاں سامنے آگئیں، معیاری بولنگ کا سامنا نہیں کر سکتے، میانداد
یوسف نے مصباح کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے جنید کو کپتان بنانے کی تجویز پیش کردی۔ فوٹو : فائل
سری لنکا کے ہاتھوں کلین سوئپ پر سابق ٹیسٹ کرکٹرز تلملا اٹھے، جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ بیٹسمینوں کی خامیاں کھل کر سامنے آگئیں، معیاری بولنگ کا سامنا کرنے کے قابل ہی نہیں ہیں۔
محمد یوسف نے مصباح الحق کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے جنید خان کو کپتان بنانے کی تجویز پیش کردی۔ تفصیلات کے مطابق جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ ہمارے بیٹسمین کوالٹی بولنگ کے سامنے انتہائی کمزور نظر آتے ہیں،ہم زمبابوے جیسی ٹیموں کا تو سامنا کرسکتے ہیں لیکن سری لنکا، جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کا نہیں، سیریز شروع ہونے سے قبل ہی جانتا تھا کہ سخت ترین کنڈیشنز میں آئی لینڈرز کیخلاف ان کے میدان پر بیٹنگ قطعی طور پر آسان نہیں ہو گی۔انھوں نے کہا کہ کرکٹ بورڈ میں بہت زیادہ سیاست ہے، ادارے کمزور ہوں تو پیداوار اچھی کیسے ہوگی۔
سابق کپتان محمد یوسف نے کہا کہ آج سے 4 سال قبل مصباح الحق کو کپتان بنایا گیا تو بھی اس فیصلے کیخلاف تھا، ان کی اس وقت بھی عمر 36 سال تھی، کسی نوجوان کو قیادت سونپنی چاہیے تھی، اگر ٹاپ آرڈر پرفارم نہ کررہی ہو تو کپتان کو آگے بڑھ کر اس چیلنج کو قبول کرنا چاہیے۔
مصباح خود نچلے نمبرز پر کیوں کھیلتے ہیں، اگر بعد میں آکر وہ 50 یا 60 سست رفتار رنز بنا بھی لیں تو نتیجہ ٹیم کے حق میں کرنے میں کوئی مدد نہیں ملتی۔ انھوں نے جنید خان کو کپتان بنانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ مصباح کی قیادت میں ٹیم ہار رہی ہے تو کسی نوجوان کو یہ ذمہ داری سونپنے میں کوئی حرج نہیں۔
محمد یوسف نے مصباح الحق کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے جنید خان کو کپتان بنانے کی تجویز پیش کردی۔ تفصیلات کے مطابق جاوید میانداد کا کہنا ہے کہ ہمارے بیٹسمین کوالٹی بولنگ کے سامنے انتہائی کمزور نظر آتے ہیں،ہم زمبابوے جیسی ٹیموں کا تو سامنا کرسکتے ہیں لیکن سری لنکا، جنوبی افریقہ اور انگلینڈ کا نہیں، سیریز شروع ہونے سے قبل ہی جانتا تھا کہ سخت ترین کنڈیشنز میں آئی لینڈرز کیخلاف ان کے میدان پر بیٹنگ قطعی طور پر آسان نہیں ہو گی۔انھوں نے کہا کہ کرکٹ بورڈ میں بہت زیادہ سیاست ہے، ادارے کمزور ہوں تو پیداوار اچھی کیسے ہوگی۔
سابق کپتان محمد یوسف نے کہا کہ آج سے 4 سال قبل مصباح الحق کو کپتان بنایا گیا تو بھی اس فیصلے کیخلاف تھا، ان کی اس وقت بھی عمر 36 سال تھی، کسی نوجوان کو قیادت سونپنی چاہیے تھی، اگر ٹاپ آرڈر پرفارم نہ کررہی ہو تو کپتان کو آگے بڑھ کر اس چیلنج کو قبول کرنا چاہیے۔
مصباح خود نچلے نمبرز پر کیوں کھیلتے ہیں، اگر بعد میں آکر وہ 50 یا 60 سست رفتار رنز بنا بھی لیں تو نتیجہ ٹیم کے حق میں کرنے میں کوئی مدد نہیں ملتی۔ انھوں نے جنید خان کو کپتان بنانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ مصباح کی قیادت میں ٹیم ہار رہی ہے تو کسی نوجوان کو یہ ذمہ داری سونپنے میں کوئی حرج نہیں۔