ملک عنبر سے کچھ تو سیکھ لیجیے!
شہنشاہ جہانگیر دربار میں جلوہ افروز تھا۔ وزراء ‘ امراء اور سپہ سالار ‘ شاہی خلعتوں میں ملبوس موجود تھے۔ 1615ء کا سن تھا۔ بادشاہ‘ پورے برصغیر پر شان و شوکت سے حکومت کر رہا تھا۔ دربار میں سب کو معلوم تھا کہ آج شہنشاہ ‘ حد درجہ طیش میں ہے ۔تمام لوگ مکمل طور پر بت بنے کھڑے ہوئے تھے۔
جہانگیرکے تاج میں بیش قیمت ہیرے جڑے تھے۔ لباس اتنا قیمتی تھا کہ آج کے ماحول میں تصور تک نہیں کیا جا سکتا۔ بادشاہ اس قدر غصہ میں تھا کہ مونہہ سے جھاگ نکل رہی تھی۔تالی بجائی اور حکم دیا کہ ابوالحسن کو تصویر سمیت پیش کیا جائے۔ ابوالحسن‘ دربار میں شاہی مصور تھا۔ تعمیل ِحکم ہوئی۔ مصور‘ ایک تصویر لے کر بادشاہ کے سامنے کھڑا ہو گیا۔ صاحبان! تصویر ایک حبشی کے کٹے ہوئے سر کی تھی۔
اس کے سر پر تیر پیوست ہوئے دکھائے گئے تھے۔ تصویر دیکھ کر شہنشاہ آپے سے باہر ہو گیا۔ زبان سے اس حبشی کے لیے تبرے سنائی دینے لگے۔ بدقسمت ‘ سیاہ پوش اور ادنیٰ جانور کوئی ایسا برا لفظ نہیں تھا جو زبان سے جاری نہ تھا۔ درباری ساکت کھڑے تھے۔ کیونکہ جانتے تھے کہ یہ سر بریدہ تصویر کس کی ہے۔ اس کی بادشاہ سے کیا دشمنی ہے۔ دراصل ابوالحسن نے‘ ملک عنبر کی تصویر کشی کی تھی جو دکن کی ایک سلطنت کا سپہ سالار اور وزیراعظم تھا۔ اس امیر نے ‘ مغلوں کی دکن فتح کرنے کی ہر مہم ‘ کو شکست فاش دی تھی۔ مغلوں کے عسکری تکبر کو خاک میں ملا ڈالاتھا۔ دکن میں پیہم رسوائی‘ بادشاہ کے لیے جگ ہنسائی کا سبب بن چکی تھی۔ نفرت کی انتہا دیکھئے کہ جہانگیر نے حکم دیا‘ کہ اس تصویر کو تیر اندازوں کے سامنے رکھا جائے۔ اسے مہلک تیروں سے چھلنی کر دیا جائے۔ چنانچہ ایسے ہی ہوا۔ جہانگیر کا رعب و دبدبہ اپنی جگہ۔ مگر ملک عنبر کے ہاتھوں ‘ اس کی اور ریاست کی فوج کی بربادی سکہ بند مقام پر تھی۔
عنبر کا اصل نام چاپو تھا۔ 1548ء میں ایتھوپیا کے ’’مایا‘‘ قبیلے میں پیدا ہوا۔ والدین اس قدر مفلس تھے کہ اپنے بچے کی کفالت کرنے سے مجبور تھے۔ انھوں نے بیٹے کو غلاموں کے ایک سوداگر کو فروخت کر ڈالا۔کمسن بچہ یمن سے ہوتا ہوا‘ بغداد پہنچ گیا۔ جہاں بیس سکوں کے عوض‘ میر قاسم الابغدادی نے اسے خرید لیا۔ چاپو سے اس کا نام بدل کر عنبر رکھا گیا اور وہ مسلمان ہو گیا۔ میر قاسم نے اس کی صلاحیت کو جانچ لیا۔ اسے تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا ۔ پھر بذات خود دکن منتقل ہو گیا۔ عنبر اس طرح‘ افریقہ سے ایک حد درجہ متضاد علاقہ میں پہنچ گیا۔ یہاں قسمت کی دیوی‘ اس کا انتظار کر رہی تھی۔ دکن میں ‘ اسے چنگیز خان نے خرید لیا جو احمد نگر کی سلطنت کا پیشوا یا وزیراعظم تھا۔ اس علاقہ میں ایک جنگ مسلسل جاری و ساری رہتی تھی۔
بہامائی سلطنت جو اپنے آپ کو ’’دکنی‘‘ کہتے تھے۔ ان کے برعکس فارس سے آئے ہوئے لوگ تھے۔ جن کے اپنے لشکر بھی تھے۔ طویل عرصے سے دکنی اور فارسی لوگوں کی جنگ ہو رہی تھی۔ ملک عنبر‘ دکنی فوج میں شامل ہو گیا۔ ا پنے مالک کی موت کے بعد علاقائی قوانین کے تحت آزاد قرار دیا گیا۔ عنبر ایک قابل فوجی لیڈر ثابت ہوا۔ ابتدا میں بیجا پور کے سلطان کے پاس کام کرتا رہا۔ مگر 1595ء میں احمد نگر کی نظام شاہی فوج کا حصہ بن گیا۔ اسے بادشاہ کا اعتماد حاصل ہوگیا۔ بہت قلیل عرصے میں اس نے نظام شاہی فوج کی ترتیب بدل ڈالی۔ اس میں دس ہزار حبشی بھرتی کیے۔ چالیس ہزار دکنی اس کے علاوہ تھے۔اصل نکتہ یہ تھا کہ اس نے اپنی طاقت ور فوج کو روایتی جنگ کے لیے بالکل تیار نہیں کیا۔ بلکہ برصغیر میں وہ پہلا سپہ سالار تھا جس نے اپنے سپاہیوں کو ’’گوریلا جنگ‘‘ کا ماہر بنا دیا۔اپنی فوج کو تربیت دی‘ کہ وہ کسی بھی وقت ‘ اچانک مغل لشکر پر حملہ کرے اور انھیں بھرپور نقصان پہنچائے ۔ پھر یک دم واپس چلی جائے۔ مغل فوج آمنے سامنے لشکر کشی کی عادی تھی۔ انھیں گوریلا جنگ لڑنے کا کوئی تجربہ نہیں تھا۔ ملک عنبرکی تربیت مغلوں کے لیے عذاب بن گئی۔عنبر‘ انھیں ہر جگہ برباد کرتا چلا گیا۔
بات یہاں نہیں رکتی۔متعدد مرہٹہ سردار‘ اس کے ساتھ تھے۔ جن میں لاکھو جی یادو راؤ‘ مولو جی بھوسلے‘ رالوجی واہلے‘ شاہا جی بھوسلے جیسے نامور لوگ بھی تھے۔ یہاں یہ عرض کرنا ضروری ہے کہ ملک عنبرکی جنگی ترتیب نے برصغیر میں طاقت کا توازن ہمیشہ کے لیے تبدیل کر دیا۔ مرہٹوں کی سلطنت کی بنیاد انھیں مرہٹہ سرداروں نے رکھی‘ جو نظام شاہی فوج میں گوریلا جنگ کے ماہر بن چکے تھے۔ اسی تربیت کو بروئے کار لاتے ہوئے ’’مراٹھا سرکار‘‘قائم ہوئی ۔ جس نے بعدازاں دہلی کے تخت پر بھی قبضہ کر لیا۔ مغل سردار‘ عبدالرحیم خان خاناں کو ملک عنبر نے متعدد بار شکست دی اور وہ بڑی مشکل سے جان بچا کر بھاگا۔ ستتر (77) برس کی عمر میں مغلوں نے اسے دھوکہ سے مار وڑ میں قتل کر دیا۔ اور اس طرح‘ افریقہ کے ایک گمنام قبیلہ سے منسلک بچہ‘ ایک ایسے علاقے میں بہادری کی تاریخ رقم کر گیا جس سے اس کا کوئی جغرافیائی تعلق نہیں تھا۔ وہ حد درجہ ذہین انسان تھا۔ اس نے کئی نئے شہر تعمیر کیے۔ اورنگ آباد میں‘ برصغیر کا پہلا نہری نظام قائم کیا‘ جو ایک مشینی چرخی کے ذریعے کام کرتا تھا۔
ملک عنبر نے جنگ کے حد درجہ نئے اسلوب قائم کیے۔ پرکھا جائے ‘ تو اس کا جوہری نکتہ کیا تھا؟ غور فرمایئے۔ اس کے نزدیک ‘ دشمن کو اچانک نقصان پہنچانا‘ بہترین حکمت عملی تھی۔ مغل فوج کی تعداد لاکھوں میں ہوتی تھی۔ ان کے پاس ہزاروں توپیں‘ لاکھوں گھڑ سوار‘ ان گنت ہاتھی اور پیادے موجود ہوتے تھے۔ مگر انھیں یہ پتہ نہیں چلتا تھا کہ ان کی دشمن کی طاقت ‘ کس وقت اور کہاں حملہ کرے گی۔ وقت اور میدان کا انتخاب‘ ملک عنبر کرتا تھا۔ اس میں نیا پن موجود تھا۔ یہ بھی طے ہے کہ عنبر آمنے سامنے کی روایتی جنگ مغل طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتا تھا۔ لہٰذا اس نے ہمیشہ گوریلا جنگ کے طرز عمل کو ترویج دی۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آج کے پاکستان میں جہاں کامیاب سفارت کاری کے علاوہ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی۔ جہاں‘ ایران اور امریکا جیسے ازلی دشمنوں کے درمیان امن قائم کرنے کی جے جے کار ہو رہی ہے۔ ایسے معلوم ہورہا ہے کہ حکمران طبقہ دنیا میں طاقت کاتوازن تبدیل کرنے کی داغ بیل ڈال رہاہے۔وہاں ماضی کے ایک حکمت کار کی حکمت عملی کا کیوں ذکر کر رہا ہوں۔ آپ بالکل صحیح ہیں۔ موجودہ حالات کا دکن کے معاملات سے کوئی تعلق نہیں ۔ مگر دوبارہ سوچیے۔ کیا ملک عنبر نے برصغیر میں یہ کلیہ نہیں سکھایا کہ اگر آپ کامخالف مضبوط ہو تو اسے میدان جنگ میں للکارنا صرف اور صرف بے وقوفی ہے۔ اس تدبیر کا اطلاق ‘ زندگی کے ہر شعبہ میں کیا جا سکتا ہے۔ سیاسی میدان کا ذکر کرنا چاہوں گا۔ کیونکہ ہمارے ملک میں سیاست کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ صنعت‘ تجارت‘ زراعت اور نظام عدل تو کب کا زوال پذیر ہے۔
اب تو قرضے اور سود ہی سود رہ گئے ہیں۔اس حقیقت کے برعکس ایک ایسی ترقی کا ڈھول پیٹا جا رہا ہے‘ جو کسی کو بھی نظر نہیں آ رہی۔ گھسے پٹے سیاسی الزامات سے ان کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔ سنجیدگی سے دیکھئے‘ تو سیاست میں دو ہی فریق ہیں۔ ہائیبرڈ حکومت اور اڈیالہ میں مقید سیاسی قوت۔ان دونوں کے درمیان گھمسان کا رن ہے۔ لازم ہے کہ طاقت کا توازن‘ اقتدار کی طرف ہے۔فی الحال اسے ہرانا کافی مشکل ہے۔ بلکہ اب تو ایسے نظر آ رہاہے کہ ناممکن ہے۔ تو مقید سیاسی قوت کیا کرے؟ یہ وہ سوال ہے جس کا جواب دانشمندی سے تلاش کرنا چاہیے۔ کیونکہ اسی میں ملک کی سالمیت پوشیدہ ہے۔ جی ہاں! میں عدم استحکام نہیں‘ سالمیت کی بابت گزارش کر رہا ہوں۔
مقید سیاسی قیادت‘ ابھی تک دھرنوں اور جلوسوں کے جال سے باہر نہیں نکل پائی۔حالانکہ یہ وقت کا تقاضا بالکل نہیں ہے۔ پھر سیاسی چال کیا ہونی چاہیے؟ برسراقتدار قیادت نے جو کچھ کرنا تھا ‘ جو نقصان پہنچانا تھا‘ پیہم پہنچا دیا۔سیاست و اقتدار میں جو چہرے ہیں‘ کچھ عرصہ رہیں گے توپھر قفس میں پھنسی ہوئی سیاسی قیادت کیا کرے؟اسے اپنی حکمت عملی کو بالکل تبدیل کرنا چاہیے! سیدھی سیدھی لشکر کشی صرف خودکشی ہے۔ اور بدقسمتی سے جیل سے اسی طرز کے فیصلے سامنے آ رہے ہیں۔ جس میں ٹکراؤ اور باہمی نقصان کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے۔ پابند سلاسل لوگوں کو غور کرنا چاہیے۔ کہ عام کارکن کو خطرے میں ڈالنا کسی قسم کی عقلمندی نہیں ہے۔ ابھی کچھ بھی حتمی نتیجہ نظر نہیں آ رہا۔ مگرمقید لوگوں کو ملک عنبر کی حکمت عملی سے ضرور سیکھنا چاہیے۔ مناسب وقت کا انتظار کر کے ‘ درست سیاسی چال چلنے میں ہی کامیابی ہے۔ انتظار کیجیے ۔ ہو سکتا ہے کہ طاقت کی بساط پرکھیلنے کیلیے آپ کے پاس حکم کا یکہ آ جائے؟ملک عنبر سے کچھ تو سیکھ لیجیے؟