ایسا کیسے
متحدہ عرب امارات کے حوالے سے ایران اور امریکا، اسرائیل جنگ کے تناظر میں سوشل میڈیا کے رنگ ہر طرح کے ہی تھے، خاص کر پاکستان کے تین ارب ڈالرز کے حوالے سے ایک عجیب سی صورت حال تھی کیونکہ پاکستان کے معاشی حالات اور تیل کی بڑھتی قیمتیں بہت سی الجھنیں الگ اس کے باوجود پاکستان کا بڑھ کر ثالثی کا کردار مثبت طور پر نمایاں ہوا ہے لیکن یو اے ای نے ایک مشکل وقت میں ہمارا بھی ہاتھ تھاما تھا۔
ہمیں یہ یاد ہے لیکن ادھر اُدھر سے ٹویٹ کی اڑتی چڑیاں ایک عام انسان کی ذہنی حالت کو بدلنے میں کردار ادا کرتی ہیں اور وہ ہوا بھی جس طرح پاکستان نے ایران اور امریکا سے آئے نمایندوں کو خوش آمدید کہا، اس میں خاص کر پاکستان پر بلا جواز تنقید ایران کے نمایندوں کے حوالے سے ایک فکر انگیز سوچ کو جنم دیتی ہے۔
جب سے متحدہ عرب امارات کی دولت کا ایک دنیا میں چرچا ہوا لوگوں کی آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ ریگستان میں سونے کے محل، یہ محل بنانے، سنوارنے اور مواقع فراہم کرنے میں پاکستان اور اس کی عوام کا بھی حصہ ہے یہ ایک الگ باب ہے لیکن مسلمان ہونے کے ناتے قدرتی طور پر جو دردمند دل رب العزت کی طرف سے عطا کردہ ہے، اس کا کیا کیا جائے جو امت مسلمہ کی محبت میں ہمکتا ہی ہے،وگرنہ اسے سازشوں، افواہوں اور لگائی بجھائی کے جدید طریقوں سے تیار نہ کیا جائے اور آج کل ایسا ہو رہا ہے۔
ان حالات میں لگتا تھا کہ اب میرا اپنا کوئی مددگار نہیں، میں اکیلی کمزور عورت میرا کون سا رشتہ دار یا سگا تھا جو ان کے آگے ڈٹ کر کھڑا ہو جاتا۔ ایک جانب دولت مند تو دوسری جانب ایک کمزور غریب خاتون، وہاں رشوت، چرب زبانی کے حربے اختیار کیے گئے اور مظلوم ہونے کے باوجود میں کیس ہار گئی۔میرے لیے یہ اذیت ناک تھا سنا تھا کہ دبئی اور دیگر امارات کی ریاستوں میں قانون کے حوالے سے بہت شفافیت ہے اگر جرم ثابت ہو جائے تو چوکتے نہیں چارج کرنے میں، لیکن میں تو اپنے نصیبوں پر آنسو بہانے کو رہ گئی تھی، اتنے پیسے آنے جانے اور ویزے کے حصول پر خرچ کرکے بھی قصوروار اور کیس خارج۔
’’آپ بتائیں کیا کریں ہم؟‘
’’دیکھیں وہ وکیل بہت مشہور ہے اس طرح کے کیسز کے لیے وہ اپنی چرب زبانی سے جج کو قائل کر لیتا ہے اور لینے دینے کے معاملے میں بھی سنا ہے کہ....‘‘
’’کیا دبئی میں بھی....؟‘‘
’’بھئی یہ دنیا ہے آپ سمجھیں۔ کہاں نہیں چلتی رشوت، مظلوم کا ساتھ دینے کا مطلب ہے کہ آخرت میں انعام ملے گا، اب کون اتنا لمبا انتظار کرے، اس لیے شاید آپ کے ساتھ بھی ایسا ہوا،کیا جج نے پیسے کھا لیے؟‘‘
’’میں نے تو بہت اعتماد اور یقین کے ساتھ کیس کیا تھا کہ میں حق پر ہوں، اب کیا کروں۔ ایک دوسرے ملک میں جا کر خاص پاکستان سے جا کر کتنا پیسہ لگا ہمارا اور صلہ یہ ملا کہ میں ہی حق پر ہو کر ہار گئی۔ اب کس سے درخواست کروں؟ کوئی تو ہوگا اس جج سے اوپر۔ اوپر تو اللہ ہے، پر اس نے بھی تو فیصلے کا حق اپنے بندوں کو دیا ہے۔ کوئی تو ہوگا جو ان کی بھی چیکنگ کریں، جانچیں اصل جھوٹ کا فیصلہ کرے۔‘‘
’’آپ وہاں کے بادشاہ کو ای میل کر دیں کیونکہ والی ریاست کو ہی تمام حقوق حاصل ہوتے ہیں۔ پھر اللہ آپ کے لیے راستہ بنائے۔‘‘
سوچ کر کہا گیا تھا۔
اور ایسا ہی کیا گیا ایک موہوم سی امید تھی جو اس سوچ کے ٹھنڈے انداز میں کہے جواب میں مقید تھی، پھیل کر نور کا ہالہ بنا چکی تھی۔ یقین کا ہالہ جو رب العزت عطا کرتا ہے بس اس کے تحت ساری الف سے یے تک کی بات لکھ دی گئی کہ دل میں یہی تھا کہ فیصلہ تو آسمان اور زمین کے مالک کا ہے یہ درخواست تو خانہ پری ہے پر اس میں بھی وہی یقین مجسم تھا۔
اور کچھ عرصے بعد۔
’’آپ نے آخر کیا کیا تھا؟‘‘ سوال پوچھا گیا جو پہلے ٹھنڈی سانس کے ساتھ یقین کے موتی تسبیح کی مانند تھما گئے تھے۔
’’جیسا آپ نے کہا تھا کہ دبئی کے بادشاہ کے نام ای میل کریں۔‘‘
’’کیا واقعی...؟‘‘ حیرت نمایاں تھی۔
اس حیرت میں جیت کی آمیزش تھی جو فون کے دوسری جانب سے سنی گئی تھی۔
ساری سازشیں، چرب زبانی، دروغ گوئی، بھڑکانا سب دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے جب رب العزت کا فیصلہ صادر ہوتا ہے۔
اس بات کو دس برس سے زائد گزر چکے ہیں۔ اس دوران دنیا کہاں کی کہاں پہنچ گئی ہے۔ آج بھی وہ واقعہ لوگوں کی یادداشت اور تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہے جب دیبل کے ساحل پر بحری قذاقوں نے سمندری جہاز لوٹا تو ایک عورت نے فریاد کی تھی۔
’’یا حجاج! ہماری مدد کرو۔‘‘
ایک کمزور عورت کی پکار نے ہند کی تاریخ بدل ڈالی تھی، محمد بن قاسم کا نام اس حوالے سے ابھرا گو اور بہت سے حالات و واقعات بھی ابھرتے ہیں لیکن حکمرانوں اور مظلوم رعایا کا تاریخی کنکشن اسلامی منظرنامے پر بارہا ابھرے ہیں۔اس ترقی یافتہ دور میں ایک چھوٹی سی مثال نے کسی غم زدہ دل کو کامیابی اور امید کے دیے تھما دیے تھے تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ حالیہ حالات میں مسلمان اپنے دوسرے مسلمان بھائی کو در بدر کر دے، حقائق سے آنکھیں پھیر لیں۔ دنیا بہکانے والوں ریاکاروں سے بھری ہوئی ہے پر فیصلہ رب العزت کی جانب سے ہی صادر ہوتا ہے پھر دلوں پر یہ برف کیسی، پکار پر سرد مہری، عزم، یقین اور اوپر والے کے فیصلے کا انتظار کیوں نہیں؟
دیکھیں اور سوچیں کیا یہود و نصاریٰ ہمارے دوست ہو سکتے ہیں۔ چودہ سو سال پہلے سب کچھ تحریر میں آ چکا ہے۔ اور ہم ناامید نہیں ہیں کہ رب العزت کو مایوسی پسند نہیں۔ ایک معمولی سی ای میل پر ایکشن لینے والے آج کیا ردعمل دکھاتے ہیں، وقت منتظر ہے۔