پاکستان کی کامیاب سفارت کاری
فوٹو: فائل
پاکستان کی امن کوششیں رنگ لے آئیں، ایران نے آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان کر دیا، امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کھولنے پر ایران، پاکستان کا شکریہ۔ ایرانی صدر نے بھی جنگ روکنے میں پاکستان کا کردار قابل ستائش قرار دے دیا۔ اسرائیل ، لبنان میں جنگ بندی کا آغاز ہو گیاہے۔ یہ انتہائی غیرمعمولی پیش رفت ہے۔
پاکستان نے اس معاملے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف نے سعودی عرب اور قطر کا دورہ کیا اور اس کے بعد وہ ترکیہ بھی گئے جب کہ پاک افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران گئے جہاں انھوں نے ایران کے اہم لیڈروں سے بات چیت کی جس کے بعد آبنائے ہرمز کھولنے کا اعلان سامنے آیا۔ جب سے خلیج جنگ شروع ہوئی ہے، اس معاملے میں پاکستان نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔
پاکستان نے اسلام آباد میں متحرک فریقوں کو اکٹھا کیا اور انھیں آپس میں بات چیت کا موقع فراہم کیا ہے۔ اس کے بعد ہی معاملات آگے بڑھے ہیں اور اب امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والے دنوں میں جنگ بند ہو جائے گی اور تنازعات کا کوئی نہ کوئی آبرومندانہ حل بھی نکل آئے گا۔ فی الحال جو باتیں اور خبریں سامنے آ رہی ہیں، وہ ملی جلی ضرور ہیں لیکن عالمی منڈی میں جو مثبت ٹرینڈ دیکھنے میں آیا ہے اس سے یہی لگتا ہے کہ عالمی سٹیک ہولڈرز کو خلیج میں امن کا مکمل یقین ہے۔
اگلے روز کی خبروں کے مطابق سوشل میڈیا اکائونٹ X پر پوسٹ میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے لکھا ہے کہ اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ لبنان میں جنگ بندی ہو چکی ہے، ہرمز کی خلیج کے ذریعے تمام تجارتی جہازوں کے گزرنے کے لیے راستہ مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے، البتہ فوجی جہازوں کے داخلے پر مکمل پابندی برقرار رہے گی۔
آبنائے ہرمز کو تمام جہازوں کے لیے کھولنے کے اعلان پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایران کا شکریہ ادا کیا۔ امریکی صدر نے آبنائے ہرمز کھلنے پر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم شہباز شریف کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم، فیلڈ مارشل دونوں بہترین اور عظیم لوگ ہیں، امریکی صدر نے مدد کے لیے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور قطر سے بھی اظہار تشکر کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آج دنیا کے لیے شاندار دن ہے، امر یکہ بھی اس بات کو یقینی بنائے گا کہ یہ آبی گزرگاہ ہمیشہ کھلی رہے۔ تاہم ایران کے حوالے سے بحری ناکہ بندی پوری طاقت اور مؤثر انداز میں برقرار رہے گی اور یہ اسی وقت تک جاری رہے گی جب تک ایران کے ساتھ معاہدہ مکمل نہیں ہو جاتا۔ یہ عمل بہت تیزی سے مکمل ہونا چاہیے کیونکہ زیادہ تر نکات پہلے ہی طے پا چکے ہیں۔
تاہم ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے سوشل میڈیا اکائونٹ پر اپنی پوسٹ میں واضح الفاظ میں کہا کہ ایسا کوئی معاہدہ نہ ہوا ہے اور نہ ہی اس پر کوئی بات چیت جاری ہے۔ افزودہ یورینیم ہمارے لیے ایرانی سرزمین جتنا مقدس ہے اور اسے کسی بھی حالت میں کہیں منتقل نہیں کیا جائے گا، ایرانی پارلیمان کے اسپیکر اور مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے بھی امریکی صدر کے دعوئوں کو مسترد کردیا ہے۔
ادھر تازہ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ایرانی پاسداران نے آبنائے ہرمز کو ایک بار پھر بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بہرحال یہ بات طے ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ بندی کے حوالے سے خاصی پیش رفت ہو چکی ہے اور آنے والے دنوں میں صورت حال مزید بہتر ہو جائے گی۔
امریکی صدر نے ریاست نیواڈا کے شہر لاس ویگاس میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران سے جنگ نہیں کرنا چاہتا تھا لیکن جوہری پروگرام کی وجہ سے یہ کرنا پڑی، یہ جنگ بہت جلد ختم ہونی چاہیے اور یہ جنگ اچھے طریقے سے ختم ہونے جارہی ہے۔ ٹرمپ نے اسرائیل لبنان جنگ بندی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا حزب اللہ نے معقول انداز اپنایا تو یہ ان کے لیے ایک عظیم لمحہ ہوگا، کوئی ہلاکتیں نہیں ہوں گی، آخر کار امن لازمی طور پر ہونا چاہیے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان جنگ بندی علاقائی استحکام کے لیے اہم کامیابی ہے،یہ دن لبنان کے لیے تاریخی ہو سکتا ہے، معاملات بہتری کی جانب جا رہے ہیں۔حزب اللہ کے مسئلے سے مناسب انداز میں نمٹ لیں گے۔ امریکی صدر کی باتوں سے لگتا ہے کہ حزب اللہ کے ساتھ لڑائی کے معاملات پر بھی خاصی پیش رفت ہو چکی ہے اور اس حوالے سے بھی اچھی خبریں سننے کو ملیں گی۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ ایران امن، استحکام اور خطے میں برادرانہ تعلقات کا خواہاں ہے، ایرانی عوام کا وعدے توڑے جانے کی وجہ سے امریکا پر اعتماد نہیں۔
انھوں نے زور دیا کہ عالمی قوانین اور اصولوں کے تحت ایرانی قوم کے حقوق برقرار رہنے چاہیں، امریکا اس تنازع میں فاتح بن کر نہیں ابھرے گا، تنازع سے خطے کے ممالک اور دنیا سنگین نقصانات اٹھائے گی۔ انھوں نے خبردار کیا کہ کسی بھی کشیدگی کی صورت میں مخالفین کو بھاری ضربوں اور ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آرمی ڈے پر تقریب سے خطاب میں ایران کے آرمی چیف میجر جنرل امیر حاتمی نے کہا کہ دشمن کے کسی بھی خطرے یا جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اور آخری سانس تک اپنے عہد پر قائم رہیں گے۔
دشمنوں کی یہ خواہش ہے کہ ایران ان کے سامنے ہتھیار ڈال دے مگر ان کی یہ خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔ ادھر لبنان اور اسرائیل میں 10 روزہ جنگ بندی کا باقاعدہ آغاز ہو گیا جس کے بعد دارالحکومت بیروت میں شہریوں نے سڑکوں پر نکل کر خوشی کا اظہار کیا، جشن منایا گیا اور بعض مقامات پر ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔
جنگ بندی کے آغاز کے ساتھ ہی بیروت و دیگر علاقوں میں پناہ پینے والے ہزاروں خاندانوں نے جنوبی مضافات (Dahieh) کی طرف واپسی شروع کر دی، لوگ اپنے گھروں کی حالت دیکھنے کے لیے بے تاب ہیں۔ ایران کی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر اسماعیل قاآنی نے اپنے بیان میں کہا کہ لبنان اور خطے کے عوام بخوبی جانتے ہیں کہ اس جنگ میں کامیابی حزب اللہ کی ہوئی ہے، جنگ بندی لبنان کی مزاحمت اور ایران کی حمایت کا نتیجہ ہے۔
حزب اللہ نے لبنان میں جاری جنگ بندی کے دوران اسرائیل کی جانب سے کسی بھی دھوکے یا غداری کی صورت میں کہا ہے کہ وہ انگلی ٹریگر پر رکھے ہوئے ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایران اور امریکا کے درمیان پہلے سے موجود مفاہمت کے تناظر میں مثبت پیش رفت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ لبنان میں جنگ بندی ایران کے لیے اہم پیش رفت ہے اور یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ سعودی عرب نے بھی لبنان میں جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز تمام بحری جہازوں کے لیے کھولنے کی خبر پر عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھی گئی۔ اس حوالے سے پاکستان کے لیے بہتر خبر یہ ہوئی ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے ڈیزل کی قیمت میں فی لیٹر 32 روپے 12 پیسے کمی کی منظوری دے دی۔ اس کے ساتھ ساتھ جیٹ فیول کی قیمتوں میں بھی کمی کی گئی ہے۔
اس صورت حال سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ خلیج میں مستقل طور پر جنگ بند ہونے کے امکانات روشن ہیں۔ امریکا اور ایران جنگ کے اثرات پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہیں۔ دنیا کا کوئی بھی ملک ایسا نہیں ہے جو اس لڑائی سے متاثر نہ ہو رہا ہو۔ اب اس حوالے سے اچھی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ اسی لیے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ پاکستان کی حکومت نے بھی اس صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے تیل کی قیمتوں میں کمی کی ہے۔
ابھی جنگ کے حوالے سے فریقین کی جانب سے متضاد خبریں آ رہی ہیں۔ امریکا کے صدر ٹرمپ بھی ملی جلی باتیں کر رہے ہیں جب کہ ایران کی طرف سے بھی اسی قسم کی باتیں سامنے آ رہی ہیں۔ اس قسم کی خبریں اس وقت تک آتی رہیں گی جب تک کہ کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا جاتا۔ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کل بھی یہ کہا ہے کہ ایران کے حوالے سے ہمارے پاس اچھی خبریں ہیں۔ برطانیہ، یورپی یونین اور چین نے بھی صورت حال میں اس مثبت تبدیلی کو سراہا ہے۔
اس میں کوئی شبہ ہیں ہے کہ خلیج میں جنگ بند کرانے کے لیے پاکستان نے تاریخ ساز کردار ادا کیا ہے۔ پاک فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا ایران جانا غیرمعمولی واقعہ ہے۔ وہاں انھوں نے ایرانی ٹاپ قیادت کے ساتھ جو بات چیت کی ہے، اس کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔ پاکستان نے پوری دنیا پر ثابت کیا ہے کہ وہ ایک ایسا مضبوط ملک ہے جو بڑے تنازعات کو حل کرانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس صورت حال میں اگر بھارتی پالیسی کو دیکھا جائے تو ان کی سفارت کاری ناکام نظر آتی ہے۔ بھارت دنیا میں تنہا نظر آ رہا ہے۔ اتنی بڑی سفارتی سرگرمیوں کے درمیان بھارت کہیں نظر نہیں آیا جب کہ پاکستان اس عالمی ڈپلومیسی کا محور بنا ہوا ہے۔