مہنگی ترین بجلی اور اعصاب شکن لوڈ شیڈنگ
وزیر اعظم جناب شہباز شریف تین اسلامی ممالک کے ہنگامی اور طوفانی دَورے سے واپس آ چکے ہیں۔ وہ پہلے سعودی عرب پہنچے اور سعودی ولی عہد جناب محمد بن سلمان سے تازہ ترین بدلتے عالمی حالات بارے تفصیلی ملاقات کی ۔ سعودیہ سے وہ قطر پہنچے اورامیرِ قطر جناب شیخ تمیم بن حمد سے ، اِسی تناظر میں،ملے۔ قطر سے جناب شہباز شریف ترکیہ کے معروف ساحلی اور سیاحتی شہر ’’انطالیہ ‘‘ پہنچے جہاںچھٹا عالمی ’’انطالیہ ڈپلومیسی فورم‘‘ منعقد ہو رہا تھا۔ اِسی عالمی فورم پر جناب شہباز شریف نے دیگر کئی عالمی رہنماؤں کے ساتھ ، 17اپریل کو، ترکیہ کے صدر جناب طیب ایردوان سے بھی ملاقات کی ۔
اِن تین ملاقاتوں کی جو سرکاری تصاویر میڈیا میں شائع اور نشر ہُوئی ہیں ،زبانِ حال سے بتاتی ہیں کہ ہمارے وزیر اعظم صاحب کا تینوں مقامات پر کھلے بازوؤں اور کھلے دل سے استقبال کیا گیا۔ جناب شہباز شریف کی یہ عزت افزائی درحقیقت پورے پاکستان کی عزت فرمائی کے مترادف ہے ۔ پاکستان کو عالمی سطح پر حالیہ جو بلند اور منفرد مقام ملا ہے، یہ درحقیقت اُن شاندار اور بے مثال سفارتی کوششوں کا ثمر ہے جو پاکستان نے ایران اور امریکہ ( پلس اسرائیل) میں جنگ بندی اور امن کے لیے کی ہیں ۔ پوری دُنیا( مائنس صہیونی اسرائیل اور بی جے پی کے بھارت ) کی جانب سے پاکستان کی مذکورہ امن کوششوں کی ستائش اور تحسین کی جا رہی ہے ۔
امریکی صدر ، جناب ڈونلڈ ٹرمپ ، بھی پاکستان کو شاباش دے رہے ہیں ۔ جن ایام میں وزیر اعظم جناب شہباز شریف اپنے سہ ملکی ہنگامی دَورے پر تھے، پاک آرمی کے سربراہ، فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر، بھی ایران میں اپنے سہ روزہ دَورے پر تھے (جنرل صاحب 18اپریل کو ایران سے وطن واپس پہنچ گئے) ساری دُنیا نے ہمارے فیلڈ مارشل کے دَورئہ ایران پر نظریں جما رکھی تھیں ۔ ہمارے سی ڈی ایف صاحب ایران ہی میں تھے کہ ایران نے متنازع بنی آبنائے ہرمز بارے اعلان کیا کہ ’’اِسے مکمل طور پر کھول دیا گیا ہے ۔‘‘
اِس اقدام کو جنرل عاصم منیر صاحب کی مساعی کا نتیجہ قرار دیا گیا۔امریکہ تک اِس خبر نے خوشی ، مسرت اور اطمینان کی لہریں دوڑا دیں ۔ نتیجہ یہ نکلا کہ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کی آمدورفت پھر سے ، معمول کے مطابق، شروع ہو گئی ؛ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ امریکی صدر نے وزیر اعظم جناب شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جناب عاصم منیر کو، پاکستان کے ساتھ ، یکساں طور پر ’’ شاندار ‘‘۔۔زبردست‘‘۔۔اور ’’عظیم‘‘ کے الفاظ سے یاد کیا اور پکارا ہے ۔ بِلا شبہ اِن الفاظ سے، اقوامِ عالم میں، پاکستان ہی کی شوبھا میں اضافہ ہُوا ہے ۔
امریکی صدر کی زبان سے پاکستان اور اعلیٰ ترین پاکستانی سویلین و غیر سویلین قیادت کی تحسین کے ساتھ ہی ، ہم سب نے دیکھاکہ ، تیل کی عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں کم از کم 23فیصد کمی آ گئی (اور ٹرمپ کے تحسینی بیان کی بنیاد پر ہی دُنیا بھر میں حصص کے دارالمبادلہStock Exchangesکا گراف بلند ہُوا) اِسی کارن ، شائد، وزیر اعظم جناب شہباز شریف نے پاکستان میں ڈیزل اور جیٹ آئل کی قیمتوں میں کمی کر دی ہے ۔
اِس اقدام کی تعریف کی جانی چاہیے ، لیکن عوام ابھی تک منتظر ہیں کہ وزیر اعظم صاحب اور وفاقی حکومت کی جانب سے پٹرول کی قیمتوں میں کب اور کتنی کمی کی جاتی ہے ؟ سچی بات تو یہ ہے کہ مہنگا ترین پٹرول استعمال کرنے والے غریب اور زیریں متوسط طبقات کا بھرکس نکل چکا ہے ۔ بھرکس تو ویسے عوام کا مہنگی ترین بجلی نے بھی نکال دیا ہے ۔ اوپر سے بے تحاشہ اور بے وقتی لوڈ شیڈنگ نے قیامت ڈھا رکھی ہے ۔جس طرح آبنائے ہرمز بارے ڈونلڈ ٹرمپ کے ( مثبت اور منفی) بیانات سے دُنیا بھر کے حصص کے دارالمبادلہ (Stock Exchanges)میں بے تحاشہ ادلی بدلی اور نااستواری (Fluctuation)آتی ہے ، اِسی طرح بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں بھی جس وحشت سے نااستواری دیکھنے میں آ رہی ہے ، اِس نے عوام کی زندگیاں مزید اجیرن بنا دی ہیں ۔
طویل لوڈ شیڈنگ کے بعد اچانک بجلی آتی ہے تو کبھی نہائت مدہم اور کبھی بے حد زیادہ ۔ اِس نا مطلوبہ اُتار چڑھاؤ سے گھریلو الیکٹرانک اشیا کے جلنے کے حادثات میں اضافہ ہورہا ہے ۔ آج کل طلبا و طالبات کے سالانہ امتحانات بھی ہو رہے ہیں ۔ لوڈ شیڈنگ عذاب کے موجب نہ وہ اپنے امتحانات کی تیاری کر پائے ہیں اور نہ ہی کمرئہ امتحان میں ، شدید گرمی کے باعث، درست حواس کے ساتھ اپنے پرچے حل کر سکے ہیں۔ گویا عذاب کئی رُخا ہے ۔ اِس عذاب نے وفاقی حکومت بارے عوامی رائے کو متاثر کیا ہے ۔
بیرونِ ملک اگر وفاقی حکومت کی (بجا طور پر) تعریف و تحسین ہو رہی ہے تو اندرونِ ملک مہنگی ترین بجلی اور لوڈ شیڈنگ کی قیامتوں نے عوام کو حکومت سے بے حد نالاں کردیا ہے ۔ ایسے میں ہمیں حیدر علی آتش کا معروف شعر یاد آ تا ہے : سُن تو سہی جہاں میں ہے تیرا فسانہ کیا/ کہتی ہے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا !! شدید لوڈ شیڈنگ اور مہنگی ترین بجلی ( اور اوپر سے مہنگائی اور بے روزگاری ) کی اساس پر خلقِ خدا غائبانہ طور پر حکومت کو جن القابات سے یاد کررہی ہے، کیا حکومت ہمت اور حوصلے کے ساتھ یہ القابات سُن سکتی ہے ؟
اِن القابات کا طوفان ِ محشر سوشل میڈیا کے متنوع پلیٹ فارمز پر بپا ہے ۔ مہنگی ترین بجلی اور لوڈ شیڈنگ سے عاجز آئی عوام جس اسلوب میں سوشل میڈیا فورمز پرحکومت بارے جوردِ عمل دے رہی ہے، اِسے لگام ڈالنا شائد حکومت کے لیے ممکن نہیں ہے۔ اِسی لیے تو سوشل میڈیا اہلِ اقتدار کو چبھتا ہے۔حکومت عوام کے غصے اور ردِ عمل کو پرِ کاہ کے برابر بھی اہمیت نہیں دے رہی۔ اعدادو شمار کا ایسا ہیر پھیر بتایا جاتا ہے کہ سادہ لوح عوام کی سمجھ ہی میں نہیں آتا کہ مہنگی ترین بجلی اور لوڈشیڈنگ کے عذاب کا اصل سبب کیا ہے ؟اور حکومت کتنی ذمے دار ہے؟ حکومت آجکل صرف ایک بات پر نازاں ہے کہ اس نے پاور سیکٹر کے ملازمین ( گریڈ 17سے اوپر) کو ملنے والی مفت بجلی کی سہولت(عدالتی فیصلے کے بعد) ختم کر دی ہے ۔ وہ مگر عوام کو یہ نہیں بتایا جا رہا کہ( مبینہ طور پر) اِنہی ملازمین کو مفت بجلی کے بدلے میں سرکار کے خزانے سے کتنی، رقوم ادا کی جارہی ہیںاوراعلیٰ ترین سرکاری حاضرسروس اور ریٹائرڈ ملازمین کو مفت بجلی، مفت گیس اور مفت پٹرول کی( بے جا) سہولیات کب ختم کی جا رہی ہیں؟ یہ مفت فراہم کی جانے والی سہولیات اربوں روپے مالیت کی حامل ہیں اور اِن کا بوجھ غریب عوام کی جیب پر مسلسل پڑرہا ہے ۔
میڈیا میں وزیر توانائی سے عذابناک لوڈ شیڈنگ بارے جو تڑپتے پھڑکتے سوالات پوچھے جا رہے ہیں ، موصوف اِن کا جواب دینے سے تقریباً قاصر ہیں ۔ بجلی کی لوڈشیڈنگ بارے اُن کے اپنے دلائل، اپنی منطق اور اپنی وضاحتیں ہیں ، مگر عوامی سوالات کا پلّہ بھاری ہے۔ سچی بات یہ ہے کہ حکومت کے 2وزار جونہی ٹی وی کی اسکرین پر نمودار ہوتے ہیں ، عوام کی جان ہی نکل جاتی ہے : وزیر بجلی اور وزیر تیل !دونوں وزرا عوام کا تیل نکالنے کے لیے نِت نئے حربے اور ہتھکنڈے بروئے کار لا رہے ہیں ۔
اِن دونوں محکموں کے پچھلی حکومتوں کے وزرا بھی اِسی راستے پر گامزن تھے ۔مہنگی ترین بجلی اور لوڈ شیڈنگ کے عذابوں سے نجات پانے کے لیے عوام پیسے جوڑ جوڑ کر کبھی یو پی ایس لگاتے ہیں ، کبھی بیٹریاں خریدتے ہیں ، کبھی مہنگے داموں جنریٹرز لاتے ہیں اور کبھی سولر سسٹم کے تحت نیٹ میٹرنگ کے سرکاری جھانسے میں آتے ہیں ۔ اِن مدات میں عوام اپنا اربوں روپیہ ڈبو چکے ہیں ، مگر بجلی کے عذاب سے نجات نہیں ملی۔ حکومت نے سولر پلیٹوں پر نئے بھاری ٹیکس بھی عائد کر دیئے ہیں۔