کراچی کے سرکاری کالج میں درخت کاٹ کر لکڑیاں فروخت کردی گئیں

کالج انتظامیہ کا واقعے سے لاعلمی کا اظہار، تحقیقات کیلیے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دے دی گئی

فوٹو : فائل

جامعہ کراچی سے متصل صوبائی محکمہ کالج ایجوکیشن کے زیر انتظام گورنمنٹ ڈگری بوائز کالج گلستان جوہر میں درختوں کی کٹائی اور اس کی لکڑی کی مبینہ فروخت کا معاملہ سامنے آیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق جوہر ڈگری کالج میں لگے درختوں کی کٹائی اور لکڑی کی فروخت کے معاملے پر کالج انتظامیہ نے لاعلمی کا اظہار کیا جس کے بعد ریجنل ڈائریکٹوریٹ کالج کی جانب سے اس معاملے پر ایک سہ رکنی "فیکٹ فائنڈنگ 
کمیٹی" تشکیل دے دی گئی ہے۔

فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی معاملے کی تحقیقات کرکے اپنی رپورٹ 3 روز میں ریجنل ڈائریکٹر کراچی کو پیش کرے گی۔ بتایا جارہا ہے کہ اتوار کے روز چھٹی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کالج کی حدود میں عمارت کی عقبی جانب موجود درختوں کو کٹوادیا گیا اور متعلقہ افراد ایک 
مال بردار موٹر سائیکل رکشے پر کٹے ہوئے درختوں کی لکڑیاں رکھ کر کالج سے باہر لے گئے۔

اس حوالے سے ایک ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر گردش کررہی ہے جس میں کٹے ہوئے درختوں کی لکڑیاں موٹر سائیکل رکشے پر لے جاتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے جبکہ لکڑیاں لے جانے والا شخص یہ کہتا ہوا نظر آرہا ہے کہ درختوں کی کٹائی کی اجازت کالج پرنسپل کی جانب سے دی گئی ہے۔

تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ صبح یا شام میں سے کس شفٹ کے پرنسپل کی جانب سے درخت کٹائی کی اجازت دی گئی۔

ادھر کالج زرائع کا کہنا ہے کہ کچھ روز قبل ان درختوں میں آگ لگ گئی تھی جس کے سبب یہ درخت جل کر ناکارہ ہوگئے تھے تاہم گردشی ویڈیو میں نظر آنے والی لکڑی بظاہر جلی ہوئی نہیں ہے۔

ادھر ریجنل ڈائریکٹر کالجز گلاب رائے کی جانب سے اس سلسلے میں جو فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی قائم کی گئی ہے اس میں آدم جی گورنمنٹ سائنس کالج کے پرنسپل پروفیسر ناصر اقبال  کنوینر جبکہ گورنمنٹ ڈگری بوائز کالج سچل گوٹھ کے پرنسپل عبدالخالق راجپر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر حسین فاروق خان کمیٹی کے رکن ہونگے۔

کمیٹی کالج کا دورہ کرکے جگہ کا معائنہ کرے گی اور درختوں کی تعداد اور صورتحال کا جائزہ اور عملے کے انٹرویوز کرکے ذمے داروں کا تعین کرے گی۔

کمیٹی اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ اگر یہ درخت ماحول دوست تھے تو انھیں کیوں کاٹا گیا۔

Load Next Story