سبز پرچم، پاسپورٹ اور عوام
سبز ہلالی پرچم اور پاکستانی سبز پاسپورٹ یہ دونوں پاکستان میں اپنی ایک تاریخ رکھتے ہیں۔ ایٹمی میدان میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے کارناموں نے پوری اسلامی دنیا میں پاکستان سبز پرچم کو امر کردیا جب کہ کھیلوں کے میدان میں جب بھی پاکستان نے ہاکی اور کرکٹ وغیرہ میں اپنا لوہا منوایا تو دنیا بھر میں پاکستانیوں نے سبز ہلالی پرچم بڑے فخر سے بلند کیا۔
1982 میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے بھارت کو اس کی سرزمین پر ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں ایک کے مقابلے میں تین گول سے تاریخی شکست دے کر پاکستانی پرچم بھارتی فضاؤں میں سربلند کیا۔ شارجہ کرکٹ کپ میں میانداد نے آخری گیند پر چھکا لگا کر بھارت کو شکست دی تو شارجہ سے لے کر دنیا بھر میں ہر جگہ پاکستانی شائقین نے سبز ہلالی پرچم لہرائے۔ اسی طرح اسکواش میں جہانگیر خان کی اپنی ایک طویل تاریخ ہے۔
لیکن سبز پاکستانی پاسپورٹ اس معاملے میں ہمیشہ بدقسمت رہا۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستانی دوران سفر بھی اپنا سبز پاسپورٹ مجبوری میں ہی دکھاتے تھے کیونکہ ہم سب جانتے ہیں کہ ہمارے پاسپورٹ کو دیکھ کر کوئی اچھا رسپانس نہیں ملتا تھا ،جس کی وجہ بھی ہم سب کو معلوم ہے اور ہم نے اس پر مرحوم عمر شریف کے لطیفے بھی سن رکھے ہیں لیکن اب کے برس کچھ ایسا ہوا ہے کہ پاکستانی پر چم ہی نہیں لوگ پاکستانی پاسپورٹ بھی جیب سے نکال کر لہرا رہے ہیں اور فخر سے دکھا رہے ہیں کہ دیکھو، ہم پاکستانی ہیں یہ ہمارا پاسپورٹ ہے۔ سوشل میڈیا ایسی ویڈیوز سے بھرا پڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں؟ اور اس کا جواب سب ہی جانتے ہیں کہ ایسا اس لیے ہوا کہ پاکستان نے عالمی سطح پر وہ کام کر دکھایا ہے جو اس وقت دنیا کا کوئی دوسرا ملک نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہی کر سکا۔
خارجی سطح پہ پاکستان کا یہ کارنامہ دنیا نے دیکھا اور تسلیم بھی کیا اور تعریف بھی کی۔ پہلے امریکی صدر ٹرمپ صرف یہ بتاتے تھے کہ پاکستان نے بھارت کے کتنے طیارے گرائے اور یہ کہ انھوں نے ہی پاک بھارت جنگ رکوائی، مگر اب وہ خود اپنی جنگ بند کر وانے پر اور ثالثی کے کردار پر پاکستان کا شکریہ بار بار کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکستان کے اس کردار پر اب کوئی دو رائے نہیں ہیں کیونکہ پاکستان نے صرف ثالثی کا کردار ادا نہیں کیا بلکہ تمام فریقین کو مذاکرات کی میز پر اکٹھا کیا اور اپنے جنگی طیاروں کی حفاظت میں ’’ پک اینڈ ڈراپ‘‘ کی سہولت بھی دی۔
ماضی میں ایک طویل عرصہ گزرا ہے کہ جب ہم میں سے نہ جانے کتنے لوگ یہ اعتراض کرتے تھے کہ فوج سب سے زیادہ بجٹ استعمال کرتی ہے، اس کا بجٹ کم ہونا چاہیے، وغیرہ وغیرہ لیکن آج وقت نے ثابت کیا کہ جس فوج پر یہ تنقید کی جاتی تھی اس نے وقت پڑنے پر ثابت کر دیا کہ فوج وہ ادارہ ہے جس پر جو کچھ خرچ کیا گیا اس نے اس خرچ سے بڑھ کر پاکستان کو دیا۔آج جو پاکستان کو عزت ملی ہے شاید پاکستان کی پوری تاریخ میں کبھی ایسی عزت نہیں ملی۔
بہت سے لوگ جن میں بڑے نام بھی شامل ہیں پاکستان کی یہ کارکردگی سراہ رہے ہیں اور تعریف بھی کر رہے ہیں مگر ساتھ ہی کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کی معیشت کب صحیح ہوگی؟اس بات کو اگر یوں کہیں تو کیسا ہوگا کہ جن کا شعبہ دفاع تھا انھوں نے تو اپنا لوہا منوا لیا لیکن جن کا شعبہ سیاست تھا وہ کب اپنی کارکردگی کا لوہا منوائیں گے؟ بات یہ ہے کہ سیاست دانوں نے بھی خارجہ پالیسی میں اپنا لوہا منوا لیا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں۔ صرف شہبازشریف یا اسحاق ڈار ہی نہیں اس سے قبل بلاول بھٹو بھی بطور وزیر خارجہ ایک بہترین پرفارمنس دے چکے ہیں۔
بات سمجھنے کی صرف اتنی سی ہے کہ جب حکمران (یعنی سیاسی لوگ) اور فوج نے مل کر کوشش کی تو پاکستانی پاسپورٹ کو بھی دنیا بھر میں عزت مل گئی، اب رہا مسئلہ معیشت کا یا اندرونی مسائل کا تو اس پر بھی یہ دونوں قوتیں مل کے پاکستان کو معاشی لحاظ سے بھی دنیا میں قابل دید قوت بنا سکتی ہیں۔ یہ بات بھی حقیقت ہے کہ بیرون ملک بعض پاکستانیوں کے کردار سے بھی دنیا بھر میں پاکستان کا امیج خراب ہوا ۔ سعودی عرب میں تو بھیک مانگنے والوں کی باقاعدہ ایک مافیا پائی جاتی ہے۔ چنانچہ اب جب کہ سبز پاسپورٹ کی دنیا بھر میں عزت و توقیر بڑھی ہے تو بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کو بھی چاہیے کہ وہ آیندہ اپنے کردار سے اپنے سبز پاسپورٹ کا بھرم رکھیں، نیز حکمرانوں کو بھی چاہیے کہ وہ مالی امداد کے لیے اب مزید کسی ملک کے آگے ہاتھ نہ پھیلائیں بلکہ پاکستانی معیشت کو مضبوط تر بنائیں۔
راقم نے کافی عرصے پہلے بھی اپنے کالم میں خصوصی طور پر اس طرف توجہ دلائی تھی کہ ملکی معیشت کے حوالے سے اور ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے کہ جس میں فوج اور حکمرانوں کی نمائندگی ہو اور اس پلیٹ فارم سے ہی تمام ترقیاتی منصوبے (وفاق کی سطح پر) پیش کیے جائیں اور معیشت کے حوالے سے ٹھوس پالیسی بنائی جائے جو کم از کم پنج سالہ ہو تاکہ کوئی بھی حکومت آئے یا جائے معاشی پالیسیاں اور ترقیاتی منصوبے اپنے ٹریک سے نہ ہٹیں۔
اس طرح سے تمام منصوبے اپنے وقت پر مکمل بھی ہوں گے ان کے اخراجات بھی نہیں بڑھیں گے اور کرپشن بھی کم ہوگی نیز معاشی پالیسی بھی اپنے نتائج اچھے دے گی، کیونکہ تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ ہمارا المیہ ہے کہ جب بھی کوئی حکومت گرا دی جاتی ہے یا اس کی مدت ختم ہوتی ہے تو اس کے ساتھ ہی اس کے دور کے تمام منصوبے اور پالیسیاں بھی ختم کر دی جاتی ہیں۔ ہرآنے والا اپنی نئی پالیسی اور نیا نظریہ اس ملک پر نافذ کرنے کی کوشش کرتا ہے جس سے ملک کی معیشت کا خاص طور پر بیڑا غرق ہو جاتا ہے، کوئی نیا پاکستان کا نعرہ لگاتا ہے کوئی پرانے پاکستان میں آنے کی بات کرتا ہے، یوں اس کا خمیازہ پاکستانی عوام کو بھگتنا پڑتا ہے۔
اب قابل غور بات صرف اتنی سی ہے کہ جب خارجی محاذ پر ہماری دونوں قوتیں کندھے سے کندھا ملا کر کھڑی ہوئیں تو دنیا میں پاکستان کا نام ایسا روشن ہوا کہ لوگ سپر پاور کو بھول گئے، اگر یہی قوتیں ملک کے اندرونی مسائل اور معیشت کے لیے مل کے کھڑی ہو جائیں تو کیا معاشی لحاظ سے پاکستان کا نام روشن نہ ہوگا؟ کیا عوام کو اپنے مسائل سے نجات نہیں ملے گی۔
راقم کے خیال میں پاکستان کی موجودہ کامیابی اور عزت کا سبق یہی ہے کہ آپ کو مزید کامیابی اور عزت چاہیے تو پاکستان کے اندرونی مسائل پر بھی ایسے ہی مل کے کھڑے ہوں کسی کی حکومت آئے یا کسی کی حکومت جائے لیکن پالیسی ایک ہی رہے، تمام منصوبے اپنے وقت پر ختم ہوں اور عوام کے مسائل حل ہوں۔
ایسا کرنا کوئی مشکل کام بھی نہیں ہے کیونکہ ماضی قریب میں ہم اس کی ایک عملی شکل ’’کورونا وائرس‘‘ کے دور میں دیکھ چکے ہیں۔ اس وقت تمام اہم فیصلے فوج اور حکومت کے ایک مشترکہ پلٹ فارم سے ہی ہو رہے تھے حتیٰ کہ ’’ کورونا وائرس ‘‘ سے مرنے والے مریضوں کے اعدادو شمار بھی اس کے توسط سے بتائے جا رہے تھے۔ اس وقت ملک شدید بحران کا شکار تھا اور اس مشترکہ پلٹ فارم کا بنانا بھی وقت کا تقاضا تھا۔ آج پھر ملکی معشیت ایک بحران سے گزر رہی ہے اور عوام مہنگائی کے ہاتھوں سخت پریشان ہیں، کراچی جیسا شہر کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے، چنانچہ آج ایسی ہی کسی کوشش کی اندرون ملک بھی ضرورت ہے۔