پاکستان میں امریکا ایران مذاکرات 36 سے 72 گھنٹوں میں شروع ہوسکتے ہیں؛ ٹرمپ

ایران نے امریکا پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت سے انکار کردیا تھا

امریکا ایران مذاکرات کا آغاز 36 سے 72 گھنٹوں میں پاکستان میں ہوسکتا ہے، ٹرمپ

صدر ٹرمپ نے امریکی وفد کا دورۂ پاکستان مؤخر کرکے جنگ بندی میں توسیع کا اعلان کیا تھا تاہم ایرانی بحریہ کی ناکہ بندی بھی جاری رکھنے کا عندیہ دیا تھا۔

امریکی اخبار نیویارک پوسٹ نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں حیران کن انکشاف کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ڈیڑھ سے تین دنوں میں مذاکرات شروع ہونے کے امکان کی تصدیق کی ہے۔

بی بی سی اردو کے مطابق نیو یارک پوسٹ سے وابستہ صحافی کیٹلن ڈورنبوس نے کہا ہے کہ انھیں ٹرمپ اور پاکستانی ذرائع نے بتایا کہ بات چیت جمعے کو بھی ممکن ہے۔

نیویارک پوسٹ نے یہ دعویٰ ایک پاکستانی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کیا جس نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر امریکی اخبار کو بتایا تھا کہ اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات اگلے تین روز میں کسی بھی وقت شروع ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں میں کہا گیا کہ صدر ٹرمپ سے پاکستانی ذرائع کے تین روز میں مذاکرات شروع ہونے کے امکان سے متعلق پوچھا تو امریکی صدر نے ٹیکسٹ پیغام میں جواب دیا کہ یہ ممکن ہے۔

یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان دو ہفتوں کی جنگ بندی میں 22 اپریل کو ختم ہونے والی ہے تاہم گزشتہ روز صدر ٹرمپ نے جنگ میں اس وقت تک توسیع کردی جب تک ایران کی سیاسی اور عسکری قیادت میں آبنائے ہرمز پر اتفاق نہیں ہوجاتا۔

 

 

Load Next Story