معمر حضرات کی تنہائی کا ذمے دار کون؟

دنیا میں سب سے زیادہ تبدیلی اس نسل نے دیکھی لیکن سب سے کم تبدیلی بھی اسی نسل نے قبول کی

آج کل سماجی ذرائع ابلاغ پر معمر والدین یا معمر حضرات کی تنہائی کے حوالے سے بہت کچھ لکھا جارہا ہے اور کچھ مشہور حضرات کو مثال کے طور پر بھی پیش کیا جارہا ہے کہ جن کو ان کے گھر والوں نے اکیلا چھوڑ دیا ہے اور وہ تنہائی کی زندگی گزار رہے ہیں۔

ان حالات یہ سوال انتہائی منطقی بنتا ہے کہ ان معمر حضرات کی تنہائی کا ذمے دار کون ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہ معمر حضرات خود اپنی تنہائی کے ذمے دار ہیں؟ کیسے؟ یہی آج کی تحریر کا مرکزی خیال ہے۔

جو حضرات تقسیم ہند سے تھوڑا پہلے یا پاکستان بننے کے کچھ عرصے بعد پیدا ہوئے ہیں، یہ لوگ انتہائی محنتی اور جفاکش لوگ ہیں۔ انھوں نے اپنے والدین کا کل سرمایہ اپنی آنکھوں کے سامنے لٹتے دیکھا یا سنا اور پھر صفر یا اس سے بھی نیچے یعنی قرضے اور ذمے داریوں کے ساتھ ازسر نو زندگی کے سفر کا آغاز کیا۔
زیادہ تر لوگ اسے اس جگہ سے بھی اونچا لے گئے کہ جہاں انھوں نے اپنے والدین کو دیکھا یا سنا تھا۔ یہ ان کی محنت، کامیابی اور عظمت کی دلیل ہیں لیکن اس کے بعد انھوں نے مزید کچھ سیکھنے یا سمجھنے سے انکار کردیا اور یوں ان کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی ہی ان کی سب سے بڑی کمزوری بن گئی۔

انھوں نے وقت کے ساتھ بدلنے سے انکار کردیا اور اپنی جگہ منجمد ہوکر بیٹھ گئے اور یہی ’’ضد‘‘ پھر ان کو لے کر بیٹھ گئی۔ ابھی ہم نے ان کی جوانی میں ہونے والے واقعات کو موضوع نہیں بنایا ہے کیونکہ بڑھاپے میں زوجہ محترمہ اور بچوں کو متنفر کرنے میں آپ کے ماضی کا بھی بڑا دخل ہوتا ہے۔ ہم یہ بھی مانتے ہیں کہ سب کا ماضی متنازع نہیں ہوتا لیکن اگر آپ نے کاروبار یا نوکری کی وجہ سے بھی گھر والوں کو نظر انداز کیا تو وہ بھی آپ کو بڑھاپے میں تنہا کردینے کےلیے کافی ہے۔

ضد ویسے تو ایک منفی وصف ہے لیکن میں اسے مثبت اور منفی دونوں سمجھتا ہوں۔ اگر آپ نے کوئی کام کرنے کی ٹھان لی اور راستے کی صعوبتیں اور مشکلات آپ کو اپنے مقصد سے پیچھے ہٹا نہیں سکیں، اور آپ مستقل جدوجہد سے اپنی منزل مقصود تک پہنچ جاتے ہیں تو یہ ضد کا مثبت پہلو ہے، جس کو آپ استقامت بھی کہہ سکتے ہیں۔

آپ اس کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ پیشہ ورانہ زندگی میں ضد کبھی کبھی آپ کو اپنا مقصد حاصل کرنے میں مدد دیتی ہے لیکن اگر یہی ضد رشتوں کے درمیان آجائے تو دراڑ ڈالتے ہوئے مکمل علیحدگی کا بھی موجب بن سکتی ہے۔ یہ اس کا بہت بڑا منفی پہلو ہے، شاید اسی وجہ سے ضد کو ایک منفی وصف سمجھا اور بولا جاتا ہے۔ یہی غلطی ہماری اس بزرگ نسل سے ہوئی کہ پیشہ ورانہ زندگی میں ضد (استقامت) کی وجہ سے کامیابی کو انھوں نے رشتوں کے حصول کا بھی ذریعہ سمجھ لیا۔ لیکن یہاں اس کا اثر بالکل الٹ ہوا۔

اب چونکہ انھوں نے ایک بالکل ’’حتمی‘‘ رائے قائم کرلی تھی اس لیے ان کےلیے اس سے پیچھے ہٹنا شکست کے مترادف ہے اور چونکہ انھوں نے زندگی میں کبھی شکست تسلیم نہیں کی تھی اس لیے یہاں بھی وہ رشتے توڑنے پر آمادہ ہوگئے لیکن اپنی جگہ سے پیچھے ہٹنے سے انکار کردیا اور یوں اپنوں کے ہوتے ہوئے بھی تنہا ہوگئے۔

ایک اور دلچسپ بات ان کے بارے میں یہ ہے کہ دنیا میں سب سے زیادہ تبدیلی اس نسل نے دیکھی لیکن سب سے کم تبدیلی بھی اسی نسل نے قبول کی اور اپنے پرانے طریقوں پر اصرار کیا کہ جس نے بالآخر انھیں نظام سے ہی باہر کردیا۔

زندگی کی خوبصورتی لچکدار رویوں میں ہے۔ جو قوانین بچپن کی زندگی پر لاگو ہوتے ہیں وہ جوانی کی زندگی پر اثر نہیں کرتے اور اس کےلیے الگ قوانین ہیں اور بالکل ایسا ہی بڑھاپے کےلیے بھی ہے۔ دو نسلوں کے تعلقات پر ’’مہتہ بوائز‘‘ ایک شاندار ہندوستانی فلم ہے جو ہمیں اس تعلق اور ان کے درمیان جو جنریشن گیپ ہے اسے سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔

اگر معمر حضرات اپنی تنہائی ختم کرنا چاہتے ہیں تو انھیں چاہیے کہ وہ اپنی ضد جو اب قریب قریب گھمنڈ کا روپ اختیار کرچکی ہے اس کو پس پشت ڈال کر گھر والوں کے ساتھ ایک اکائی کے طور پر شریک ہوجائیں۔ ہم ان کا مسئلہ سمجھتے ہیں کہ ان کے والد نے کبھی انھیں اپنے قریب نہیں آنے دیا اور وہ اسی سوچ کے ساتھ پلے بڑھے ہیں۔ اگر وہ خود پیش رفت کرکے نئی نسل تک نہیں جانا چاہتے تو کوئی بات نہیں لیکن اگر نئی نسل آپ تک آنا چاہتی ہے اور اگر آپ اس کی حوصلہ افزائی نہیں کرسکتے تو کم از کم حوصلہ شکنی تو نہ کریں۔ رشتوں میں تھوڑی سی لچک رشتوں کو نہ صرف پائیدار بلکہ خوشگوار کردیتی ہے۔

آخر میں ایک حکایت نما کہانی اور اختتام، سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ حکایت بھی ہمیں ہمارے بزرگوں نے سنائی تھی پتہ نہیں کیوں اس پر وہ عمل کرنا بھول گئے۔

حکایت کچھ یوں ہے کہ ایک دفعہ چاروں موسموں میں یہ بحث چل نکلی کہ کون سا موسم سب سے بہتر ہے۔ جب وہ آپس میں کسی فیصلے پر نہیں پہنچ سکے تو انھوں نے دیکھا کہ پاس ہی جنگل میں ایک بڑھیا رہتی تھی۔ انھوں نے کہا کہ ہم باری باری اس سے پوچھتے ہیں اور جو فیصلہ وہ دے گی ہم قبول کرلیں گے۔ چاروں باری باری بڑھیا کے پاس گئے اور اپنے بارے میں پوچھا۔

بڑھیا نے سب موسموں کی تعریف کی اور انعام پایا کہ اب اس کے پاس کبھی اناج کی کمی نہیں ہوگی۔ اس کے پڑوس میں ایک اور بڑھیا رہتی تھی لیکن وہ بڑھیا بہت بدمزاج اور بدزبان تھی۔ چاروں موسموں نے اس سے بھی وہی سوال کیا اور اس نے جی بھر کے ہر موسم کو خوب صلوٰتیں سنائی اور ان کی برائی کی اور اس کے نتیجے میں پھر سزا بھی پائی۔

یہ حکایت پڑھنے کے بعد فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ اگر اس کے بعد بھی آپ سمجھتے ہیں کہ نئی نسل ہی قصوروار ہے تو ہم آپ کی رائے کا احترام کرتے ہیں۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story