روشنی کا خواب، اندھیرے کی حقیقت
شام ڈھل رہی تھی، آسمان پر سورج کا آخری سنہرا دھاگا کسی ادھوری نظم کی طرح لٹک رہا تھا۔ اچانک کمرے کی بجلی چلی گئی، پنکھا اسی لمحے یوں رکا جیسے کسی نے اس کی سانس روک دی ہو اور پھر مکمل خاموشی چھا گئی۔ یہ خاموشی محض آوازوں کی نہیں تھی ایک پورے عہد کی خاموشی تھی جس میں خواب، روزگار، امیدیں سب ایک ساتھ بجھ جاتی ہیں۔ بھوک، غربت، مزدور کا خالی ہاتھ، بچے کا بھوکا پیٹ، کارخانوں کی بندش یہ سب ایک ساتھ اُگ جاتے ہیں۔ یہ لوڈ شیڈنگ نہیں یہ اجتماعی دکھ ہے کیونکہ بجلی جب جاتی ہے تو صرف بلب نہیں بجھتا بلکہ ایک طالب علم کا مستقبل مدہم ہو جاتا ہے۔
ان دنوں کراچی کے ساڑھے تین لاکھ طالب علم لوڈ شیڈنگ کے باعث کیسے کیسے عذاب جھیل کر امتحان دے رہے ہیں، کتنے ہی اسکول ایسے ہیں جہاں پنکھے نہیں ہیں۔ ٹوٹی ہوئی ڈیسکوں پر بیٹھ کر گرمی سے بے حال، لوڈ شیڈنگ کا مقابلہ کرکے، پسینے سے شرابور پھر بھی مستقبل کی امید میں امتحان نہیں دے رہے بلکہ وہ لوڈ شیڈنگ کے عذاب کے شدید امتحان سے گزر رہے ہیں۔ چند دنوں کے بعد انٹر کے بھی امتحانات شروع ہونے والے ہیں۔ اسی طرح پورے ملک کے طالب علم لوڈ شیڈنگ سے شدید متاثر ہونے کے باوجود امتحان کی اس منزل کو بھی پار کر رہے ہیں۔ ایک طرف طالب علم شدید پریشان ان کے ساتھ والدین بھی پریشان ہیں۔
کہا جا رہا ہے کہ ملک میں بجلی کا شارٹ فال 4000 میگا واٹ تک پہنچ چکا ہے۔ بعض جائزوں کے مطابق 6 ہزار میگاواٹ تک پہنچ چکا ہے جو کچھ بھی ہو فی الحال تو 7 سے 8 گھنٹوں کی لوڈ شیڈنگ ہو رہی ہے۔ صنعتوں کو بھی بجلی کی طویل بندش کا سامنا ہے اور کارخانے جب خاموش ہو جاتے ہیں تو مشینیں نہیں روتیں بلکہ ان کے ساتھ جڑے مزدور روتے ہیں، کیونکہ ان کو اپنی دیہاڑی مرتی ہوئی نظر آتی ہے کیونکہ کارخانہ دار جب بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے باعث مشینوں کی رفتار کھو دیتا ہے تو وہ آرڈر بھی کھو دیتا ہے۔ وہ بیرون ملک خریدار کا اعتماد کھو دیتا ہے، وہ اپنا منافع نہیں کھوتا وہ مزدور کی تنخواہ بھی کھو دیتا ہے اور جب مزدور بے روزگار ہوتا ہے تو اس طرح ملک بھر کی مشینیں جب رکتی چلی جاتی ہیں تو لاکھوں بے روزگاروں کی تعداد مزید بڑھ جاتی ہے۔
اس طرح پھر ملک میں بے روزگاروں کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے، اگر بے روزگاروں کی تعداد میں اضافے کی بات کریں تو چند دن کے بعد ساڑھے تین لاکھ سے زائد طالب علم بے روزگاروں کی فہرست میں شامل ہو چکے ہوں گے۔ یہ صرف کراچی سے میٹرک کا امتحان دینے والوں کی تعداد ہے اگرچہ یہ نویں اور دسویں دونوں کلاسوں کے اعداد و شمار ہیں۔ ان میں ہزاروں ایسے بھی ہیں جو فی الحال روزگار کے متلاشی نہیں ہوں گے کیونکہ ان کی منزل اعلیٰ پیشہ ورانہ تعلیم ہے۔ کراچی کے علاوہ ملک بھر سے اسی طرح لاکھوں طالب علم جلد ہی بے روزگاروں کی فہرست میں شامل ہو جائیں گے اور اس کی ایک ذمے داری لوڈ شیڈنگ پر بھی عائد ہوتی ہے، جو کارخانوں کو ویران کر رہی ہے، بے روزگاروں کو پریشان کر رہی ہے۔
معیشت ایک درخت کی مانند ہوتی ہے جس کی جڑیں پیداوار میں ہوتی ہیںجب بجلی نہیں ہوتی تو فیکٹریوں میں کام رک جاتا ہے، مشینیں ایک دم ساکت ہو جاتی ہیں، آرڈر اپنی وقعت کھو دیتے ہیں۔ برآمدات کم ہونا شروع ہو جاتی ہیں، پھر ڈالرز کی کمی واقع ہوتی ہے اور ملک مالی مسائل سے گھرتا چلا جاتا ہے۔ دنیا بھر کی حکومتوں نے بجلی کے لیے اپنے دریاؤں کو ڈھال بنایا، اپنی صنعتی ترقی کو تیز تر بنانے کے لیے ڈیمز کا جال بچھایا۔ بھارت پاکستان کی طرف آنے والے تمام دریاؤں کو کنٹرول کر رہا ہے اور ہم نے یہ حل ڈھونڈ نکالا کہ آئی پی پیز کے ذریعے مہنگی بجلی پیدا کر رہے ہیں اور ڈیمز کی تعمیر کو سیاست کی نذر کر رہے ہیں۔
شام جب بجلی چلی جاتی ہے تو اندھیروں کا ملک خوابوں کے چراغ جلانے لگتا ہے اور شہروں میں تو شام ایسے اترتی ہے جیسے کسی نے آسمان سے روشنی کا پردہ آہستہ سے کھینچ لیا ہو۔ گرمی کے موسم میں گرمی مزید شدید محسوس ہونے لگتی ہے کیونکہ بجلی کے آنے کا انتظار کا بوجھ بڑھنے لگتا ہے۔
انتظار سے زیادہ اس میں چھپی بے بسی اور بے یقینی کا بوجھ معلوم نہیں بجلی کب آئے گی اور پھر ہر اندھیرے کے بعد روشنی آتی ہے اور پھر جب اچانک بجلی آ جاتی ہے تو ہر ایک پکار اٹھتا ہے ’’شکر الحمداللہ‘‘۔ اندھیرے کی حقیقت یہ ہے کہ اس اندھیرے کو ہم مستقل روشنی میں بدل سکتے ہیں، اگر ہم سولر توانائی کو بھرپور انداز میں اپنائیں اور بڑے بڑے ڈیمز کو ترجیح دیں۔ 1970 سے پہلے بڑے ڈیمز بنانے کا عمل جاری تھا۔ اگرچہ نصف صدی گزر چکی اب بھی ہم بڑے ڈیمز کی تعمیر پر توجہ دیں۔ یہ فیصلے مشکل نہیں لیکن عزم، ہمت، حوصلہ اور بھرپور توجہ طلب ہیں۔ لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ ہم نے لوڈ شیڈنگ سے چھٹکارا حاصل کرنا ہے غالباً 1980 سے یہ لوڈ شیڈنگ ہمارا مقدر بن چکی ہے۔ 45 برس گزر گئے ابھی تک ہم لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے گزر رہے ہیں اور روشنی کا خواب دیکھ رہے ہیں۔