امریکا میں تیل و گیس کی فروانی کیلیے غیر ملکی جہازوں کو دی گئی چُھوٹ میں 3 ماہ کی توسیع
ڈونلڈ ٹرمپ نے خام تیل کی عالمی قیمتوں کو معمولی بات قرار دیدیا
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے توانائی کی ترسیل کو آسان بنانے کے لیے جونز ایکٹ میں دی گئی چھوٹ کو مزید 90 دن کے لیے بڑھا دیا ہے جس کے تحت غیر امریکی جہازوں کو تیل اور قدرتی گیس امریکا منتقل کرنے کی اجازت ہوگی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اس سے قبل مارچ میں صدر ٹرمپ نے 60 دن کی چھوٹ کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد توانائی کی قیمتوں کو مستحکم کرنا اور امریکا تک تیل و گیس کی فراہمی کو یقینی بنانا تھا۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق اس استثنیٰ کے بعد جمع کیے گئے نئے اعداد و شمار سے ظاہر ہوا ہے کہ اس اقدام کے نتیجے میں زیادہ مقدار میں توانائی کی سپلائی تیزی سے امریکی بندرگاہوں تک پہنچ سکی۔
ادھر عالمی مارکیٹ میں برینٹ کروڈ آئل کی قیمتوں میں اس اعلان کے بعد کچھ کمی دیکھی گئی تاہم قیمتیں اب بھی 103 سے 107 ڈالر فی بیرل کے درمیان رہیں جو 28 فروری کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد زیادہ ہیں جب امریکا اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے جواب میں ایران نے آبنائے ہرمز کو بند کردیا تھا جس کے باعث دنیا بھر میں تیل کی ترسیل رک گئی اور پیٹرولیم مصنوعات میں قلت پیدا ہوگئی اور تیل و گیس کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنی لگیں۔