طلبہ: تربیت اور نظم و ضبط کی پابندی کیسے ممکن؟

واضح رہے کہ بزرگ بالکل درست فرماتے ہیں کہ خالی ذہن شیطان کا گھر ہوتا ہے

آج کل کے طلبہ سے خواہ وہ اسکول میں زیر تعلیم ہوں، کسی کالج میں یا پھر یونیورسٹی میں، تقریباً ہر جگہ اساتذہ کو یہ شکایت رہتی ہے کہ یہ نظم و ضبط کی پابندی نہیں کرتے بلکہ انہیں نظم و ضبط کے دائرے میں لانا نہایت مشکل ہوتا ہے۔عموماً والدین کو بھی یہ مشکلات پیش آتی ہیں کہ وہ اپنے بچوں کی صحیح تربیت کس طرح کریں کیونکہ ان کو نظم و ضبط میں لانا بڑا مشکل ہوتا ہے خاص کر موجودہ دور میں کیونکہ آج کی نسل پہلی نسل کی بہ نسبت خاصی مختلف ہے جو پہلی نسل کی طرح اساتذہ اور اپنے سے بڑوں سے گفتگو کرنے کے آداب اور طور طریقوں سے بھی واقف نہیں۔

سوال یہ ہے کہ اچھی تربیت کرنا اور نظم و ضبط میں لانا کیوں مشکل ہے اور اس مسئلے کو حل کیسے کیا جا سکتا ہے؟ اس کا جواب بالکل سیدھا سا ہے کہ آپ اپنے بچوں اور طالب علموں کو ان کی عمر کے اعتبار سے مصروف رکھیں۔اصل مسئلہ یہ ہے کہ جب بچوں اور طالب علموں کو مصروفیت نہیں ملتی تو وہ اپنی پسند کی مصروفیت ڈھونڈ لیتے ہیں خاص کر موبائل میں وقت گزارنے جیسی مصروفیت۔ چنانچہ ایسے میں انہیں نظم و ضبط کے دائرے میں لانا اور مشکل ہو جاتا ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ چھوٹے بچوں اور اسکول کی سطح کے طالب علموں کو نظم و ضبط میں لانے کے لیے ان کو پرکشش مصروفیات دے دی جائیں اور اس کے ذریعے انہیں نظم و ضبط میں لاتے ہوئے انھیں اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کا موقع دیا جائے۔ مثلاً چھوٹے بچوں کو ڈرائنگ، خوشخطی اور گارڈننگ کے اسائنمنٹ دے کر مصروف کیا جا سکتا ہے۔ صبح سے شام تک اسی حوالے سے ان کی مصروفیت طے کر دی جائیں توایسے بچوں اور طالب علموں کا سارا وقت انہی سرگرمیوں میں گزرے گا جو والدین یا اساتذہ کی طرف سے دی گئی ہوں گی۔ یوں ان کی جو بھی مصروفیت ہوں گی وہ والدین اور اساتذہ کی ہی فراہم کردہ ہوں گی لہذا وہ نظم و ضبط کے دائرے میں بھی رہیں گے اور ان کی تربیت بھی اچھی ہوگی۔

مزید یہ کہ اس سلسلے میں اساتذہ چھوٹے بچوں کو کہانیاں لطیفے جمع کرنے کا اسائنمنٹ دے سکتے ہیں اور ہفتے میں مخصوص دن رکھ کے کلاس روم میں ان سے یہ کہانیاں اور لطیفے سن سکتے ہیں اس طرح بچے خوش بھی رہیں گے اور اپنے فالتو وقت کو کہانیوں اور لطیفوں کی تلاش میں وقت گزاریں گے نیز مطالعہ کی طرف بھی آئیں گے۔ اسکول کے اساتذہ بچوں میں اس سلسلے میں ہر مہینے مقابلہ منعقد کروا کے انہیں اور مصروف رکھ سکتے ہیں۔ والدین بھی اپنے گھر میں یہ کام کرسکتے ہیں۔

اسی طرح سے اگر ہم کالج اور جامعہ کی سطح پر طالب علموں کو کنٹرول کرنا چاہیں اور نظم و ضبط میں لانا چاہیں تو انہیں بھی مصروفیت والے اسائنمنٹ دے کر مصروف رکھ سکتے ہیں۔مثلاً اگر کوئی نیا موضوع آپ نے طلبہ کو پڑھایا ہے تو اس کے بعد اپنے طلبہ کو اس لیکچر کا فیڈ بیک لکھنے کو دے سکتے ہیں یہ چھوٹا سا فیڈ بیک بڑا آسان ہوگا کہ جس نے لیکچر سنا ہے وہ اس پر ایک دو پیراگراف میں اپنی رائے لکھ کر دے۔

اس فیڈ بیک کا فائدہ یہ ہوگا کہ طالب علم ایک تو استاد کے ہر لیکچر کو غور سے سنے گا کہ اس کا فیڈ بیک دینا ہے، پھر جب وہ اس پر فیڈ بیک دے گا تو وہ اس قابل ہوگا کہ وہ تمام لیکچر کو سمجھ سکے ،یعنی اس عمل سے ان طلبہ کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے جو کلاس روم میں بالکل سست بیٹھتے ہیں یا نیند لینے کی کوشش کرتے ہیں یا آپس میں باتیں کرتے ہیں۔چونکہ عموماً طالب علموں کو پتہ ہوتا ہے کہ لیکچر دینے کے بعد استاد نے چلے جانا ہے اور اس کو کچھ نہیں کرنا تو عموماً غیر سنجیدہ طالب علم اپنے استاد کے لیکچر میں یا تو شرارتیں کرتے ہیں یا پھر اپنی توجہ لیکچر کے بجائے دیگر امور پر رکھتے ہیں۔

 اساتذہ کو چاہیے کہ وہ طلبہ کو ہمہ وقت مصروف رکھیں اور مختلف مواقعوں کی نسبت سے انہیں مختلف اسائنمنٹ دے کر اپنی تخلیقی صلاحیتیں سامنے لانے کے مواقع فراہم کریں۔مثلاً شجرکاری کا موسم آئے تو ہر طالب علم کو کوئی پودا لگانے اور اس کی آبیاری کرنے کا اسسائنمنٹ دیں یا ہفتہ صفائی میں مصروف رکھیں اسی طرح وقتاً فوقتاً تخلیقی صلاحیتوں کے اسائنمنٹ طلبہ کو دیتے رہیں۔ مثلاً ہر ہفتے کبھی مقابلہ مضمون نویسی رکھا جائے تو کبھی کسی کتاب پر تبصرہ تو کبھی میرا پسندیدہ مشغلہ یا میری پسندیدہ شخصیت یا میری تخلیقی چیز، گویا یہ اور جیسے تمام موضوعات ہر ہفتے طلبہ کو انتہائی مصروف رکھ سکتے ہیں جس کے باعث وہ غیر ضروری سرگرمیوں میں ملوث نہیں ہو سکتے کیونکہ جب فالتو وقت ہوتا ہے تب ہی کوئی انسان غیر ضروری چیزوں میں اپنا وقت ضائع کرتا ہے۔

 ایک اور چھوٹی سی مگر اہم بات اور یہ کہ کلاس روم میں عموماً دو چار طالب علم ایسے ہوتے ہیں کہ جو کلاس کا ماحول خراب کرتے ہیں۔ ایسے طالب علم کو کنٹرول کرنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ کلاس کے دوران جو کچھ لیکچر دیا جا رہا ہو اس سے متعلق تھوڑی تھوڑی دیر بعد ان سے سوالات کیے جائیں۔ مثلاً یہ پوچھا جائے کہ اس کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟ اس حکمت عملی سے ایسے طالب علم کنٹرول میں آجاتے ہیں۔

ایک اور عام طریقہ ہم نے اپنے اسکول کے زمانے میں یہ بھی دیکھا ہے کہ ہمارے اساتذہ نے ایسے طالب علموں کو جو بہت زیادہ شرارتی ہوں انھیں اسکول کی کسی نہ کسی ایسی اہم ذمہ داری پہ لگا دیا کہ جس میں انہیں خود نظم و ضبط کو کنٹرول کروانا ہوتا ہے(مثلاً کسی کام کی نگرانی کرنا) چنانچہ اس عمل سے وہ خود بھی نظم و ضبط کے کنٹرول میں آجاتے ہیں۔

 واضح رہے کہ بزرگ بالکل درست فرماتے ہیں کہ خالی ذہن شیطان کا گھر ہوتا ہے، لہذا ضرورت اس امر کی ہے کہ طالب علموں کو خالی ذہن نہ چھوڑا جائے ورنہ وہ موبائل یا منشیات جیسی عادت میں بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔ طلبہ میں منشیات کا استعمال بھی آج کل ایک سنگین مسئلہ بن چکا ہے۔ میڈیا میں آنے والی خبروں کے مطابق کالجز اور جامعات کے طلبہ میں منشیات کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ ایک منظم طریقے سے تعلیمی اداروں میں منشیات کی سپلائی جاری ہے اور خوفناک بات یہ ہے کہ یہ عمل صرف سگریٹ نوشی کرنے والوں تک محدود نہیں ہے بلکہ اس میں تعلیمی اداروں کی عام لڑکیاں بھی شامل ہیں۔

اعلیٰ تعلیمی اداروں میں نت نئی منشیات کا استعمال ہو رہا ہے۔ یہاں پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر طلبہ کے پاس ایسی سرگرمیوں کے لیے پیسہ اور وقت کہاں سے آجاتا ہے؟ اور یہ سب کیسے ہو رہا ہے؟ آخر ہماری تربیت اور نظم و ضبط کارگر کیوں نہیں؟ بہرکیف یہ والدین اور اساتذہ دونوں کی ذمے داری ہے کہ وہ نئی نسل کو اچھے کاموں میں اس قدر مصروف رکھیں کہ انھیں فرصت کا وقت ہی نہ ملے کہ وہ کسی منفی سرگرمیوں کی طرف راغب ہوں۔

Load Next Story