ٹرمپ نے وفد کو مذاکرات کیلیے پاکستان جانے سے روکدیا؛ دورۂ منسوخ کرنے کا اعلان
دورۂ پاکستان کی منسوخی کا مطلب ایران جنگ دوبارہ شروع ہونا نہیں ہے، امریکی صدر (اے آئی سے بنائی گئی تصوراتی تصویر)
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کے لیے اپنے وفد کو عین وقت پر پاکستان جانے سے روک دیا۔
فاکس نیوز کی رپورٹ کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پاکستان نہیں جائیں گے۔
امریکی نیوز چینل سے گفتگو میں صدر ٹرمپ نے ایران جنگ میں فاتح اور غالب ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ سارے پتّے ہمارے پاس ہیں۔
ٹروتھ سوشل پر بیان میں بھی صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ میں نے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کا ایران کے ساتھ جنگ بندی مذاکرات کے لیے دورۂ پاکستان منسوخ کردیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اب ایسا نہیں ہو گا کہ صرف زبانی جمع خرچ کے لیے امریکی وفد 18 گھنٹے کی پرواز کرے۔ سفر میں بہت وقت ضائع ہو رہا تھا اور کام بہت ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایران کی قیادت کے درمیان شدید اختلافات اور کنفیوژن بھی پائی جاتی ہے۔ کسی کو نہیں معلوم کہ وہاں فیصلہ کون کر رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے مزید کہا کہ اس کے برعکس امریکا کے پاس تمام اختیار ہے، ایران کے پاس کچھ نہیں۔ اگر وہ بات کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں خود کال کریں۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ ایران کے رویے نے مجھے اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر کے دورۂ پاکستان کو منسوخ کرنے پر مجبور کیا ہے۔
تاہم صدر ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی وفد کو اسلام آباد مذاکرات کے لیے نہ بھیجنے کا مطلب ایران جنگ دوبارہ شروع کرنے کا اشارہ نہیں ہے۔
یاد رہے کہ یہ بیان اس وقت سامنے آیا ہے جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی وفد کا انتطار کرنے کے بجائے پاکستان سے مسقط کے لیے روانہ ہوگئے جب کہ امریکی وفد کو آج شام میں روانہ ہونا تھا۔