ڈونلڈ ٹرمپ کا اونٹ

آخر ڈونلڈ ٹرمپ میں ایسا کیا ہے جو پہلے کے امریکی صدور میں نہ تھا

’’بھائی تو پاکستان آنا چاہ رہے تھے لیکن آپ کو تو پتا ہے ناں کہ ٹرمپ کبھی کچھ کہتا ہے کبھی کچھ۔ اور بھائی کے بچے ہیں اپنی فیملی ہے خدانخواستہ کچھ ہو جائے تو ہم تو انھیں کچھ بھی نہیں کہہ سکتے کہ آپ پاکستان جائیں۔ بھئی! ان کی اپنی مرضی ہے ہم اپنی مرضی کسی پر ٹھونس نہیں سکتے۔ اب کیا کریں۔‘‘

یہ کہنا تھا سات سمندر پار ایک بہن کا اپنے بھائی کے بارے میں جن کے خاندانی مسائل اور والدین کی صحت کے درپیش اگر کوئی شخصیت درمیان ہے تو وہ کوئی اور نہیں امریکا کے ڈونلڈ ٹرمپ ہیں جنھوں نے جہاں ملکوں میں جنگی صورت حال رکھنے کی ذمے داری ٹھانی ہے تو وہیں عام لوگوں کے لیے کس قدر مسائل کھڑے کیے ہیں یہ تو وہی بتا سکتے ہیں۔

آخر ڈونلڈ ٹرمپ میں ایسا کیا ہے جو پہلے کے امریکی صدور میں نہ تھا۔ کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر جیفری سکس نے صدر ٹرمپ کی شخصیت، رویے اور ان کی ذہنی کیفیت کے بارے میں بڑے سخت الفاظ استعمال کیے۔ ان کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں یہ سب کچھ کسی گہری یا انتہائی حکمت عملی کا نتیجہ نہیں ہے بلکہ اس میں ایک طرح کی افراتفری شامل ہے۔ ان کے یہ خیالات ایران کشیدگی کے حوالے سے پہلے سلسلے کے ناکام مذاکرات اور موجودہ امریکی پالیسی سازی سے متعلق ہے۔

پروفیسر جیفری سکس کے مطابق درحقیقت ’’امریکا‘‘ کہنا بھی عجیب لگتا ہے کیونکہ یہ امریکا نہیں بلکہ ایک شخص ہے، وہ سمجھتا ہے کہ وہ دھمکی، دباؤ اور شور شرابے کے ذریعے اپنا مقصد حاصل کر سکتا ہے، یہ جزوی طور پر ایک فریب ہے۔

وہ شروع سے یہی سوچتا آیا ہے کہ وہ مطالبات کرے، دھمکیاں دے، بمباری کرے اور اس کے نتیجے میں اسے کامیابی مل جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ وہ واقعی اس بات پر یقین رکھتا ہے کہ وہ دھوکے یا طاقت کے ذریعے کامیاب ہو سکتا ہے یہ دراصل ون مین شو ہے۔

پروفیسر جیفری سکس مزید کہتے ہیں کہ میرے خیال میں وہ ایک وہمی اور نااہل شخص، یہ سب کچھ ایک شخص ڈونلڈ ٹرمپ کے گرد گھوم رہا ہے جس میں کوئی حقیقت نظر نہیں آتی، سوائے اس کے کہ ایک نااہل، وہمی بوڑھا آدمی شور مچا رہا ہے، انھیں لگتا ہے کہ جیسے ٹرمپ کا توازن بگڑ چکا ہے وہ ایسے بیانات اور پوسٹیں کر رہا ہے جو معمول سے بہت زیادہ ہٹ کر ہیں، ایسے جملے جو امریکی تاریخ میں کسی صدر نے نہیں کہے۔

کم و بیش کچھ اسی طرح کے خیالات پوپ لیو نے بھی کہے جن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ہاتھوں کسی کی عزت محفوظ نہیں، خود کو خدا سمجھنے لگے، گو ان کی تنقید پر انھیں بھی نشانہ بنایا گیا لیکن ایران کی جنگ کے حوالے سے جس طرح عبادات کروائی گئیں اور اس جنگ کو کسی طرح صلیبی جنگ کا روپ دینے کی کوشش کو بھی ٹرمپ کی چال کہا گیا۔

لیکن اپنے آپ کو قوم کا مسیحا ثابت کرنے کی کوشش میں ٹرمپ نے کئی قلابازیاں کھائیں جس نے ان کی شخصیت کے عجیب سے رنگ واضح کیے جسے امریکی قوم میں شدت پسندی اور غیر متناسب اور واہیات قسم کے خیالات جیسے کمنٹس سے نوازا گیا۔ کیا واقعی وہ اپنا مثبت تاثر قائم کرنے میں کامیاب رہے ہیں تو اس کا جواب ہے ناں۔

جوانی ہی سے اپنے والد کے رئیل اسٹیٹ بزنس نے ان کے اندر کے بروکر کو چمکانا شروع کر دیا تھا، اس پر معاشیات میں بیچلر آف سائنس کی ڈگری نے ان کے پور پور میں بزنس کو اتار دیا تھا۔ 

یوں کاروبار کرتے کرتے وہ سیاست کے میدان میں اترے ویسے بھی رئیل اسٹیٹ کے بزنس نے اس دور میں جس تیزی سے ترقی کی ہے اس میں کوئی شبہ نہیں پاکستان ہو یا دنیا کا کوئی بھی ملک ایک سے دس بنانے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے اوپر کی جانب سفر کرتے کرتے جس کرسی کو دوسری بار تھاما ہے وہ ان کے لیے کسی طرح چیلنج سے کم نہ تھا جس میں پہلے بھی انھوں نے مذہب کارڈ استعمال کرکے کامیابی حاصل کی تھی اور اب بھی ان کی قسمت انھیں کہاں سے کہاں لے آئی کیا کمیلا ہیریسن ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح سخت فیصلے لے سکتی تھیں؟ تو یقینا ایسا ہرگز نہیں ہے، لیکن تیسری بار بھی ٹرمپ میدان میں اترنے کے لیے بھرپور تیار ہیں۔

کہا جا رہا ہے کہ اپنے لیے گئے فیصلوں کو صحیح ثابت کرنے کے لیے وہ مذہب کا سہارا لے رہے ہیں جب کہ نیتن یاہو کی دوستی انھیں ایک الگ میدان میں اتار رہی ہے جہاں فلسطین پر غاصبانہ قبضے اور لاتعداد ہلاکتوں کے بعد بھی نیتن یاہو اپنے مذہبی فریضے اور گریٹر اسرائیل کے عمل میں جتے ہیں ایسے میں ڈونلڈ ٹرمپ کے مذہبی حوالے سے بیانات سوال اٹھاتے ہیں اور دنیا میں نسلی تعصب کو ہوا دے رہے ہیں جو آئندہ آنے والے وقت میں کیا رخ دکھاتا ہے خدا جانے۔

بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں تو یہ بھی خیال جاگزیں ہے کہ وہ یہودی ہیں اور ان کا تعلق جرمنی سے ہے، اسی لیے وہ نیتن یاہو کے ساتھ کھڑے ہیں جب کہ وہ خود اپنے آپ کو عیسائی کہتے ہیں۔ بہرحال ہر دم بدلتے خیالات اور رائے کے ساتھ دنیا میں دوسری بار امریکا کے منتخب ہوکر حکومت کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ پہلی بار بھی ملے جلے رجحانات کے ساتھ دیکھے گئے تھے اور اب بھی ان رجحانات میں ناپسندیدگی کی جھلک عود کر آئی ہے۔

دنیا اس بگڑے مزاج والے صدر سے اچھی توقعات رکھتی ہے یا نہیں لیکن اب کیا ہوگا نے ناخوشگوار سی صورت حال پیدا کر رکھی ہے، لیکن امید پر دنیا قائم ہے۔ دیکھیں ٹرمپ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔

Load Next Story