بے بس نسلوں کا نوحہ
تاریخ کے اوراق بڑے بے رحم ہوتے ہیں۔ یہ نہ تو کسی کے جاہ و جلال سے مرعوب ہوتے ہیں اور نہ ہی اقتدار کی چکا چوند انہیں سچ لکھنے سے روک سکتی ہے۔ آج ہم جس عہدِ زیاں سے گزر رہے ہیں، اسے شاید ہم اپنی مجبوریوں کے باعث ’صبر‘ کا نام دے دیں، لیکن آنے والے کل کا مورخ جب اس دور کا تجزیہ کرے گا تو وہ اسے ’خاموش قتلِ عام‘ کا نام دے گا۔
اگر وہ مورخ دیانتدار ہوا، اگر اس کے قلم میں سچائی کی روشنائی ہوئی اور اگر وہ واقعی حق پرست ہوا، تو وہ ہماری داستان کو ان الفاظ میں رقم کرے گا کہ برصغیر کے اس خطے میں ایک ایسی قوم بھی بستی تھی جو بظاہر تو آزاد تھی، مگر اس کا سانس سانس ریاست کے بھاری بھرکم محصولات (ٹیکسوں) کے بوجھ تلے سسک رہا تھا۔
مورخ لکھے گا کہ یہ تاریخ کا وہ عجیب ترین باب تھا جہاں ریاست کا عام شہری پیدا ہونے سے لے کر پیوندِ خاک ہونے تک، اپنے ہر عمل کا تاوان بھرتا تھا۔ وہ لکڑی جلانے کے لیے ماچس کی جو ڈبی خریدتا، اس پر رقم ادا کرتا؛ وہ اندھیرے کو دور کرنے کے لیے جو چراغ روشن کرتا، اس کا معاوضہ بھرتا؛ یہاں تک کہ جب وہ فاقہ کشی اور علالت سے ہار کر زندگی کی بازی ہار جاتا، تو اس کے بے جان جسم کو ڈھانپنے والے کفن کے کپڑے پر بھی ریاست اپنا حصہ وصول کر چکی ہوتی تھی۔
لیکن ستم ظریفی کی انتہا دیکھیے کہ کفن تک کا معاوضہ بھرنے والے اس محنت کش کو جب جیتے جی دو وقت کی روٹی کی ضرورت پڑتی، تو اسے ’معاشی استحکام‘ کے نام پر مزید ایثار اور قربانی کا درس دیا جاتا۔ یہ وہ بستی تھی جہاں مفلوک الحال عوام کا نوالہ چھین کر اشرافیہ کے ایوان روشن کیے جاتے رہے اور ریاست کے نگہبان اس ’قومی جذبے‘ پر غریب کی پیٹھ تھپتھپاتے رہے۔
اسی معاشی جبر کے سائے میں ایک اور المیہ جنم لے رہا تھا جسے وقت کے منصف ’ذہانت کا قتل‘ لکھیں گے۔ جب ایک عام آدمی کی خون پسینے کی کمائی سے اکٹھا ہونے والا سرمایہ عوامی بہبود کے بجائے شاہانہ جاہ و حشم، پرتعیش سواریوں اور نوکر شاہی کی مراعات پر صرف ہونے لگا، تو معاشرے میں یاسیت اور ناامیدی کی لہر دوڑ گئی۔ مورخ یہ سوال ضرور اٹھائے گا کہ اس بستی کے وسائل پر قابض طبقہ جب دیارِ غیر میں علاج کرواتا اور ان کی اولاد غیر ملکی درسگاہوں میں زیرِ تعلیم تھیں، تب اسی ملک کا باسی شفا خانوں کی راہداریوں میں ایک ادنیٰ سی گولی کو ترستا تھا۔ یہ تضاد کسی بھی ریاست کی اخلاقی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کے لیے کافی تھا۔
اس تحریر کا سب سے تکلیف دہ پہلو وہ منظر ہے جو مستقبل کے مورخ کی آنکھوں کو نم کر دے گا۔ وہ ایک ایسی سفید پوش اور مفلس ماں کی کہانی لکھے گا جس نے اپنی زندگی کی تمام بہاریں اور اپنی ممتا کی ہر راحت اس امید پر نچھاور کر دی کہ اس کا لختِ جگر پڑھ لکھ کر ان کے دکھوں کا مداوا کرے گا۔ اس ماں نے سرد راتوں میں فاقے کاٹے، اپنے تن کے کپڑے پر پیوند لگائے، مگر بچے کے تعلیمی اخراجات میں کبھی دیر نہ ہونے دی۔ اس کا خواب تھا کہ ہاتھ میں تھامی ’سند’ اس کے بچے کی تقدیر بدل دے گی اور ان کے تاریک گھروندے میں خوشحالی کا دیا روشن کرے گی۔
مگر افسوس! تاریخ گواہی دے گی کہ اس نظام کی بے حسی نے ان مقدس اسناد کو کاغذ کے بے وقعت ٹکڑوں میں بدل دیا۔ وہ نوجوان جنہیں قوم کا معمار ہونا تھا، وہ ذہانتیں جنہیں مقتدر حلقوں میں پالیسیاں بنانی تھیں، وہ اپنی اسناد بغل میں دابے تپتی سڑکوں پر ریڑھیاں لگانے اور منڈیوں میں مزدوری کرنے پر مجبور کر دیے گئے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ملک کا بہترین دماغ، معالج، انجینئرز اور ماہرینِ فن دیارِ غیر کی طرف ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے۔ وطن کی مٹی بانجھ ہوتی رہی اور ہمارے ہی ہیرے دوسرے ممالک کی ترقی کا سبب بنتے رہے کیونکہ یہاں میرٹ کے بجائے مصلحت کا راج تھا۔
اسی تاریخ کے دوسرے رخ پر ان ’نااہلوں‘ کا تذکرہ بھی جلی حروف میں ہوگا جو بغیر کسی اہلیت اور مشقت کے، صرف موروثی اثر و رسوخ یا وفاداریوں کے بل بوتے پر قوم کے مقدر کے مالک بن بیٹھے۔ وہ طبقہ جن کا فہم و ادراک اقتدار کی ہوس تک محدود تھا، وہ محلات میں بیٹھ کر ان لوگوں کے نصیب لکھتے رہے جو ان سے ہزار گنا زیادہ باصلاحیت تھے۔ مورخ پوچھے گا کہ یہ کیسا انصاف تھا کہ جہاں علم کی شمع تھامنے والا فٹ پاتھ پر رُلتا تھا اور جہالت کے اندھیرے پھیلانے والے تخت پر بیٹھ کر فیصلے کرتے تھے؟
آج جب ہم سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر ایسی ویڈیوز دیکھتے ہیں جہاں ایک عام آدمی سسکتے ہوئے اپنے دکھ بیان کرتا ہے، تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ مناظر محض ڈیجیٹل مواد نہیں بلکہ ایک دہکتا ہوا لاوا ہیں جو کسی بھی وقت پھٹ سکتا ہے۔ الیکٹرانک جرائم کے قوانین شاید زبانوں پر تالے تو لگا سکتے ہیں، لیکن وہ اس تڑپ اور ناانصافی کو نہیں مٹا سکتے جو عوام کے سینوں میں پل رہی ہے۔
ایک لکھاری کا کام صرف لفظوں کی جادوگری نہیں، بلکہ اس درد کو آواز دینا ہے جو گلی محلوں میں بکھرا ہوا ہے۔ ہم اگر آج بھی اپنی زبانیں بند رکھیں گے تو کل آنے والی نسلیں ہمیں مجرم گردانیں گی۔
اگر آج بھی ہم نے اس نظام کی کج رویوں پر خاموشی اختیار کیے رکھی، اگر ہم نے میرٹ کی پامالی اور اشرافیہ کی مراعات کے خلاف آواز نہ اٹھائی، تو یاد ریکھیے کہ تاریخ ہمیں ایک بزدل ہجوم کے طور پر یاد رکھے گی۔ وہ مورخ جو دیانتدار ہوگا، وہ لکھے گا کہ جب قوم بھوک سے نڈھال تھی، جب نوجوان اپنی اسناد جلا رہے تھے اور جب نالائق لوگ مسندِ اقتدار پر متمکن تھے، تب شعور رکھنے والے بھی خاموش تماشائی بنے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔
اس ملک کے پالیسی سازوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عمارتیں تب نہیں گرتیں جب ان کی اینٹیں پرانی ہو جائیں، بلکہ تب گرتی ہیں جب ان کی بنیادوں سے ’انصاف‘ نکال لیا جائے۔ آج کا پاکستان ایک ایسی تبدیلی کا متقاضی ہے جہاں محنت کش کو اس کا حق ملے، جہاں ماں کی قربانی کو توقیر ملے اور جہاں سند ریڑھی پر نہیں، بلکہ وقار کے منصب پر سجی ہو۔ ورنہ تاریخ کا فیصلہ بڑا بے رحم ہوگا، اور اس کی عدالت میں کسی کی سفارش کام نہیں آئے گی۔ حکومتِ وقت کو سوچنا ہوگا کہ اگر عوام کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہو گیا تو پھر کوئی قانون عوامی غیظ و غضب کا راستہ نہیں روک سکے گا۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔