عالمی بحران سے بچنے کاواحد راستہ مذاکرات
28 فروری سے شروع ہونے والی جنگ میں صدر ٹرمپ ایران کو متعدد بار ڈیڈلائنز دے چکے ہیں
امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور اس کے تناظر میں ہونے والے مذاکرات کا تعطل بظاہر ایک مایوس کن مرحلہ ضرور ہے، مگر اسے کسی حتمی ناکامی سے تعبیر کرنا نہ صرف قبل از وقت ہوگا بلکہ زمینی حقائق کے منافی بھی ہے۔
بین الاقوامی سیاست میں ایسے پیچیدہ تنازعات کبھی ایک نشست، ایک دور یا ایک معاہدے سے حل نہیں ہوتے۔ یہ ایک طویل، صبر آزما اور کثیر جہتی عمل ہوتا ہے جس میں پس پردہ رابطے، علاقائی قوتوں کی مداخلت، معاشی دباؤ، عسکری توازن اور داخلی سیاسی عوامل سب شامل ہوتے ہیں۔ اس لیے مذاکرات کے دوسرے دور کا تعطل دراصل ایک فطری مرحلہ ہے، نہ کہ اختتامی لکیر اور اسے اسی تناظر میں سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔
امریکا اور ایران کے تعلقات کی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو یہ محض حالیہ کشیدگی کا نتیجہ نہیں بلکہ کئی برسوں پر محیط ایک پیچیدہ داستان ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی، نظریاتی اختلافات اور جغرافیائی مفادات کا ٹکراؤ مسلسل جاری رہا ہے۔ اس دوران کبھی اقتصادی پابندیاں عائد کی گئیں، کبھی خفیہ کارروائیاں ہوئیں، کبھی پراکسی جنگوں کے ذریعے اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی گئی اور کبھی سفارتی محاذ پر محدود پیش رفت بھی دیکھنے میں آئی۔ تاہم ان تمام مراحل کے باوجود کوئی ایسا مستقل حل سامنے نہیں آ سکا جو فریقین کے تحفظات کو بیک وقت دور کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ مذاکراتی عمل بھی اسی تاریخی تسلسل کا حصہ ہے، جس میں کامیابی کا انحصار مستقل مزاجی اور سیاسی عزم پر ہے۔
موجودہ بحران کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے اثرات محض امریکا اور ایران تک محدود نہیں بلکہ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہے ہیں۔ آبنائے ہرمز، جو عالمی تیل کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے، اس تنازعے کا مرکزی نکتہ بن چکی ہے۔ ایران اور امریکا کی جانب سے اس اہم آبی گزرگاہ کو کنٹرول کرنے کے عمل نے عالمی معیشت کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اگر یہ راستہ بند ہوتا ہے تو نہ صرف تیل کی فراہمی متاثر ہوگی بلکہ اس کے نتیجے میں توانائی کا شدید بحران پیدا ہوگا، جس کا براہ راست اثر دنیا بھر کی معیشتوں پر پڑے گا۔ ترقی یافتہ ممالک ہوں یا ترقی پذیر، سب کو اس کے منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔توانائی کے بحران کے ساتھ ساتھ مہنگائی کی ایک نئی لہر بھی جنم لے چکی ہے۔
تیل کی قیمتوں میں اضافہ براہ راست اشیائے ضروریہ کی قیمتوں کو متاثر کرتا ہے، جس سے عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔ صنعتی پیداوار متاثر ہوتی ہے، نقل و حمل کے اخراجات بڑھ جاتے ہیں اور مجموعی طور پر اقتصادی سرگرمیاں سست روی کا شکار ہو جاتی ہیں۔ ایسے میں عالمی معیشت، جو پہلے ہی مختلف چیلنجز سے دوچار ہے، مزید دباؤ میں آ جاتی ہے۔ اس صورتحال میں کسی بھی قسم کی جنگ نہ صرف غیر ذمے دارانہ ہوگی بلکہ عالمی سطح پر تباہ کن نتائج کی حامل بھی ہو سکتی ہے۔
اسی پس منظر میں پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں میں تیزی ایک اہم اور مثبت پیش رفت کے طور پر سامنے آئی ہے۔ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا عمان کے دورے کے بعد فوری طور پر پاکستان کا رخ کرنا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ اسلام آباد کو اس بحران میں ایک اہم ثالث کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ یہ محض ایک رسمی دورہ نہیں بلکہ ایک ایسے سفارتی عمل کا حصہ ہے جس میں مختلف ممالک کے درمیان رابطے، مشاورت اور اعتماد سازی کو فروغ دیا جا رہا ہے۔عباس عراقچی کے وفد کا ایک حصہ تہران واپس جانا اور وہاں سے رہنمائی حاصل کرنا اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ ایران اس معاملے میں نہایت سنجیدگی اور منصوبہ بندی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کے بعد ان کا دوبارہ پاکستان آنا اور پھر روس کا رخ کرنا ایک مربوط سفارتی حکمت عملی کی نشاندہی کرتا ہے، جس کا مقصد مختلف علاقائی اور عالمی قوتوں کو اس عمل میں شامل کرنا ہے۔
یہ سفارتی سرگرمیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ ایران مکمل طور پر مذاکراتی راستہ ترک کرنے کے حق میں نہیں بلکہ وہ اپنے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ ایک قابلِ قبول حل کی تلاش میں ہے۔پاکستانی قیادت اور ایرانی وفد کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں اس عمل کا ایک اہم حصہ ہیں۔ وزیر اعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل عاصم منیر، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار اور دیگر اعلیٰ حکام کی موجودگی میں ہونے والی ان ملاقاتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہا ہے، اگرچہ سرکاری سطح پر ان ملاقاتوں کی تفصیلات محدود رکھی گئیں، تاہم دستیاب معلومات کے مطابق ان میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی صورتحال اور جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔وزیر اعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ہونے والی طویل ٹیلیفونک گفتگو بھی اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔
تقریباً پچاس منٹ تک جاری رہنے والی اس گفتگو میں دونوں رہنماؤں نے نہ صرف خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنے عزم کا اظہار کیا بلکہ قریبی مشاورت جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا۔ یہ رابطے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک اس بحران کے حل میں فعال کردار ادا کرنا چاہتے ہیں اور کسی بھی ممکنہ تصادم سے بچنے کے لیے سنجیدہ ہیں۔دوسری جانب امریکی موقف میں پیچیدگی نظر آتی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ایران جب چاہے امریکا سے رابطہ کر سکتا ہے اور امریکا کسی بھی سطح پر بات چیت کے لیے تیار ہے، بظاہر ایک مثبت اشارہ ہے۔
تاہم اسی کے ساتھ یہ شرط بھی عائد کی جاتی ہے کہ ایران کو نیوکلیئر ہتھیار رکھنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ یہ دہرا پیغام دراصل امریکی پالیسی کی اس حکمت عملی کو ظاہر کرتا ہے جس میں دباؤ اور مذاکرات دونوں کو بیک وقت استعمال کیا جاتا ہے۔ٹرمپ کا یہ بیان کہ ’’جب تمام کارڈز ہمارے پاس ہیں‘‘ ایک ایسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو طاقت کے توازن پر مبنی ہے۔ تاہم تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت کا استعمال ہمیشہ مطلوبہ نتائج نہیں دیتا، بلکہ اکثر اس کے برعکس پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ افغانستان اور عراق کی مثالیں اس حقیقت کی واضح دلیل ہیں کہ عسکری برتری کے باوجود سیاسی استحکام حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا۔ایرانی موقف بھی اپنی جگہ واضح اور دوٹوک ہے۔ ایرانی وزارت دفاع کا یہ کہنا کہ امریکا جنگ کے دلدل سے باعزت واپسی چاہتا ہے، ایک سیاسی مؤقف ضرور ہے مگر اس میں ایک حقیقت بھی پوشیدہ ہے۔ایران کے داخلی حالات بھی اس کشیدگی سے متاثر ہو رہے ہیں۔
صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے عوام سے بجلی کے استعمال میں کمی کی اپیل اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ملک کو توانائی کے مسائل کا سامنا ہے۔ یہ مسائل نہ صرف پابندیوں کا نتیجہ ہیں بلکہ جنگی صورتحال نے بھی انھیں مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایسے حالات میں حکومت کے لیے عوامی اعتماد برقرار رکھنا ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے، کیونکہ معاشی مشکلات اکثر سیاسی عدم استحکام کو جنم دیتی ہیں۔
عالمی سطح پر اس تنازعے کے اثرات مزید واضح ہوتے جا رہے ہیں۔ جرمنی کی جانب سے آبنائے ہرمز کے ممکنہ مشن کے لیے مائن سوئپر روانہ کرنے کا فیصلہ اس بات کا ثبوت ہے کہ یورپی ممالک بھی اس صورتحال کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔ اسی طرح امریکا کی جانب سے ایرانی تیل خریدنے والی چینی ریفائنری پر پابندیاں عائد کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ یہ تنازعہ اب ایک وسیع تر اقتصادی اور جغرافیائی کشمکش میں تبدیل ہو چکا ہے۔چین، روس اور دیگر عالمی طاقتیں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، کیونکہ اس کے اثرات ان کی معیشتوں اور علاقائی مفادات پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ تنازعہ ایک کثیر جہتی بحران کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس میں ہر فریق اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے مختلف حکمت عملی اختیار کر رہا ہے۔
یہ تمام عوامل اس حقیقت کو مزید واضح کرتے ہیں کہ مذاکرات ہی اس بحران کا واحد قابلِ عمل حل ہیں۔ اگرچہ یہ عمل سست اور پیچیدہ ہو سکتا ہے، مگر یہی وہ راستہ ہے جو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچا سکتا ہے۔ مکمل تعطل ایک خطرناک خلا پیدا کر سکتا ہے، جسے عسکری کارروائیاں پُر کر سکتی ہیں، اور اس کے نتائج کسی کے قابو میں نہیں رہتے۔پاکستان کا کردار اس تمام صورتحال میں نہایت اہم ہے۔ ایک جانب اس کے ایران کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، تو دوسری جانب امریکا کے ساتھ بھی اس کے روابط موجود ہیں۔ یہ توازن اسے ایک منفرد موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ فریقین کے درمیان پل کا کردار ادا کرے، تاہم یہ کردار نہایت نازک اور پیچیدہ ہے، جس کے لیے غیر معمولی سفارتی مہارت، صبر اور توازن کی ضرورت ہوتی ہے۔آخرکار یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ امریکا اور ایران کے درمیان تنازعہ کا حل صرف اور صرف سفارت کاری میں مضمر ہے۔
جنگ نہ تو کسی مسئلے کا مستقل حل فراہم کرتی ہے اور نہ ہی اس کے نتائج قابلِ قبول ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس مذاکرات، چاہے وہ کتنے ہی مشکل اور طویل کیوں نہ ہوں، ایک ایسا راستہ فراہم کرتے ہیں جو کم از کم تباہی سے بچنے کا موقع دیتا ہے۔موجودہ تعطل کو مایوسی کے بجائے ایک موقع کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ یہ موقع ہے اعتماد سازی کا، موقف میں لچک پیدا کرنے کا اور ایک ایسے حل کی تلاش کا جو نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ پوری دنیا کے لیے قابلِ قبول ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو نہ صرف اس بحران کو ختم کر سکتا ہے بلکہ ایک زیادہ مستحکم اور پرامن عالمی نظام کی بنیاد بھی رکھ سکتا ہے۔