نیا پٹرول بم اور سورج پر سرکاری اجارہ داری

پاکستان بد قسمتی سے خطّے کا غالباً واحد ملک ہے جہاں بجلی سب سے زیادہ مہنگی بھی ہے اور جہاں لوڈ شیڈنگ بھی نسبتاً زیادہ ہے ۔

tanveer.qaisar@express.com.pk

25اپریل کو ایرانی وزیر خارجہ، جناب عباس عراقچی،ٹوٹے ایران و امریکہ مذاکرات کی مبینہ بحالی کے لیے اسلام آباد کیا تشریف لائے، ہمارے حکمرانوں کی خوشی و مسرت کی کوئی انتہا نہ رہی ۔اِسی خوشی میں شہباز حکومت نے عوام پر ایک بار پھر 27روپے فی لٹر پٹرول کا نیا بم گرا دیا ہے ۔یعنی مارے ہوؤں کو دوبارہ مارا جارہا ہے ۔پٹرول اب تقریباً400روپے فی لٹر کی حدوں کو چھُو رہا ہے۔ نئی مہنگائی کا نیا طوفان برپا ہوچکا ہے۔ ساتھ ہی حکومت نے ملک بھر میں بجلی کی لوڈ شیدنگ میں کئی گنا اضافہ بھی کر دیا ہے ۔

سرکاری اعلان کے مطابق ،کہنے کو تو یہ لوڈ شیڈنگ (پِیک آورز میں) شام پانچ بجے سے لے کر رات ایک بجے تک ، کم از کم، ڈھائی گھنٹے پر محیط ہے، لیکن عوام کو لوڈ شیڈنگ کا عذاب10 گھنٹے روزانہ سہنا پڑ رہا ہے ۔ ہر کوئی چیخ رہا ہے ۔ عوام مہنگی ترین بجلی کے کمر شکن بِل بھی ادا کررہے ہیں اور بدلے میں مطلوبہ بجلی بھی نہیں مل رہی ۔ شائد اِسے ہی ستم ظریفی کہتے ہیں ۔ اسلام آباد میں IESCO کا ایک غریب اور مظلوم بجلی صارف اپنا بجلی کا بِل دکھاتے ہُوئے رو ہی پڑا ۔ مارچ 2026ء میں مذکورہ صارف نے کُل 36یونٹس استعمال کیے ، بجلی کا بِل مگر 4382روپے ہے ۔

بجلی کے محکمے نے سارے حکومتی ٹیکس ملا کر یہ کمر شکن رقم بنا دی ہے ۔ اور اگر ہم 4382 روپے کی رقم کو36یونٹوں پر تقسیم کریں تو یہ121روپے بنتی ہے ۔ گویا اسلام آباد کا یہ غریب بجلی صارف 121روپے فی یونٹ بجلی کی قیمت ادا کرنے پر مجبور ہے ۔ سوشل میڈیا پر بجلی کے لاتعداد صارفین اپنے اپنے بِلز دکھا دکھا کر ماتم کناں ہیں ۔

مہنگی ترین بجلی اور کمر توڑ لوڈ شیڈنگ سے تنگ آئے عوام نے شدید گرمی کے عذابوں سے نجات حاصل کرنے کے لیے سولر سسٹم کے تحت متبادل بجلی کے حصول کے لیے کوششوں کا آغاز کیا ۔ شروع شروع میں حکومت نے بھی اِس عوامی اقدام کی حوصلہ افزائی کی۔ بعد ازاں مگر ، دیگر کئی حکومتی پالیسیوں کی طرح، سولر سسٹم بارے بھی حکومتی پالیسی انحراف میں بدل گئی۔ حکومت نے پہلے سولر سسٹم کے تحت پیدا کردہ بجلی ( نیٹ میٹرنگ) کے نرخ خوفناک حد تک کم کر دیئے اوراب NEPRAکے تحت مبینہ طور پر یہ حوصلہ شکن حکومتی فیصلہ سامنے آیا ہے کہ سولر سسٹم کی نیٹ میٹرنگ کرانے والے صارف کو پہلے حکومت سے لائسنس حاصل کرنا پڑے گا ۔

اِس لائسنس کی ایک قیمت بھی مقرر کی گئی ہے۔ اور پھر لائسنس حاصل کرنے کے بعد اپنی جیب سے ادا کردہ لاکھوں روپے سولر سسٹم کے صارف کو ہر ماہ ہزاروں روپے کے ٹیکس بھی ادا کرنا ہوں گے۔ خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں کہ بعد ازاں حکومت اِنہی سولر سسٹم کے جاری شدہ لائسنسوں کی بنیاد پر سورج کی روشنی سے چلنے والے سولر سسٹم اور سولر پلیٹوں کی بنیادوں پر صارفین کو بجلی بِلز میں مستقل اضافہ کردے گی۔حقیقت یہ بھی ہے کہ سولر سسٹم لائسنس کی اُنہی صارفین کو ضرورت پڑے گی جو نیٹ میٹرنگ سے وابستہ ہوں گے ، مگر NEPRAوالے بروقت یہ معمولی سی وضاحت کرنے سے بھی قاصر رہے ۔ وضاحت کی بھی تو اُس وقت کی جب ہر طرف صارفین میں Panicپھیل چکی تھی۔

اللہ تعالیٰ نے تو سورج کی توانائی ہر امیر و غریب انسان کے لیے مفت فراہم کی تھی ۔مگر ہمارے حکمران عوام کو اللہ کی اِس عظیم نعمت سے بھی محروم کرنے کی بھرپور کوشش کررہے ہیں۔ سورج کی روشنی اور گرمی پر بھاری ٹیکس لگا کر سرکاری حکام پہلے سے اجیرن بنی عوام کی زندگیاں مزید اجیرن بنا رہے ہیں ۔ابھی تو حکومت نے سورج پر ٹیکس لگایا ہے ، خدشات و خطرات ہیں کہ حکومت کہیں انسانوں کے ہوا لینے پر بھی ٹیکس نہ عائد کر دے۔ ہمارے حکمران فخر سے پھولے نہیں سما رہے کہ اُنہوں نے بڑی دوڑ دھوپ کے بعد تین متحارب ممالک ( ایران و امریکہ و اسرائیل) میں جنگ بندی کروا دی ہے ۔

حکومت کا یہ اعزازو افتخار اپنی جگہ اہم ہے ، مگر ’’لَوٹ جاتی ہے اِدھر کو بھی نظر کیا کیجئے‘‘ کے مصداق ، عوام کو جس جان لیوا مہنگائی ، دَم بہ دَم بڑھتی بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور اب سولر ٹیکس کے نئے سنگین مسائل ومصائب کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ، اِس نے حکومت کے مذکورہ بالا افتخار کو گہنا کر رکھ دیا ہے۔ حکومت کا زیر لب کہنا ہے : ’’کیا کریں ، گیس اورفرنس آئل سے بجلی پیدا کررہے ہیں ، اورگیس و آئل عالمی مارکیٹ میں بے حد مہنگے ہو چکے ہیں ۔ یہ دونوں اشیا امریکی ڈالروں سے خریدنا پڑتی ہیں اور حکومت کے پاس مطلوبہ مقدار میں ڈالر نہیں ہیں ۔ اب یا تو بجلی کے نرخ مزید بڑھائے جائیں ( کم از کم 4 روپے فی یونٹ) یا لوڈ شیدنگ میں اضافہ برداشت کیا جائے ۔‘‘

پاکستان بد قسمتی سے خطّے کا غالباً واحد ملک ہے جہاں بجلی سب سے زیادہ مہنگی بھی ہے اور جہاں لوڈ شیڈنگ بھی نسبتاً زیادہ ہے ۔ حکومتی نااہلیوں اور بجلی کے محکمے کی نالائقیوں اور کرپشن ( بجلی چوری کی شکل میں) کا کوڑا بھی عوام ہی کی پیٹھ پر برستا ہے ۔

حکومت کے پاس مطلوبہ مقدار میں ڈالر نہیں ہیں تو کیا اِس کے ذمے دار بھی عوام ہیں؟ حکومت اگر ایکسپورٹس کی مَد میں مسلسل ناکام ہو رہی ہے تو کیا اِس کا بوجھ بھی عوام کی پُشت پر لادا جائے ؟ اگر حکومت اور حکمران غیر ملکی سرمایہ کاروں اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو ملک میں لانے میں بوجوہ ناکامی کا سامنا کررہی ہے تو کیا اِس کے ذمے دار بھی عوام ہی کو ٹھہرایا جائے ؟ٹیکسوں کے حصول میںFBRکے بھاری مراعات یافتہ افسران ناکام ہو رہے ہیںاور کرپشن کے سوراخ بند نہیں کیے جارہے ، تو کیا اِس کے ذمے دار بھی عوام ہی ہیں ؟

ہمارے حکمرانوں نے معاشی بد حالیوں پر عبوری اور وقتی طور پر قابو پانے کا آسان نسخہ اور حل یہ ڈھونڈ رکھا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضے پر قرضے لیے جائیں (دوست ممالک سے بھاری شرحِ سُود پر جو قرضے لیے جاتے ہیں ،وہ علیحدہ سنگین مسائل ہیں) جب سے پاکستان معرضِ عمل میں آیا ہے ، تب سے اب تک پاکستان کے حکمران 25مرتبہ آئی ایم ایف سے قرضے لے چکے ہیں۔یعنی اوسطاً پاکستان نے ہر تیسرے برس آئی ایم ایف کے سامنے ،قرض لینے کے لیے ،دستِ سوال دراز کیا ہے ۔حد درجہ افسوس اور شرم کی بات یہ بھی ہے کہ آئی ایم ایف سے بار بار قرض لینے کے باوجود پاکستانی عوام کی معاشی حالت اور مہنگائی بد سے بد تر ہوتی چلی گئی ہے ۔ ہمارا ہر(سویلین اور غیر سویلین) حکمران آئی ایم ایف کا دستِ نگر رہا ہے۔ مگر ہمارا کوئی حکمران عوام کو اِس سوال کا جواب دینے کے لیے تیار نہیں ہے کہ اربوں ڈالر کے یہ قرضے کہاں چلے گئے ؟ کہاں خرچ کیے گئے ؟ حیرانی کی بات ہے کہ بھارت ( جو پاکستان کے ساتھ ہی آزاد ہُوا تھا) نے پچھلے79برسوں کے دوران آئی ایم ایف سے صرف3بار مالی اعانت حاصل کی ہے۔ بھارت آخری مرتبہ 1991ء میں آئی ایم ایف کے پاس گیا تھا ۔

ہماری معیشت اور قومی خزانے کا حال یہ ہے کہ اگلے روز جونہی متحدہ عرب امارات نے بوجوہ اپنا کئی سال پرانا قرض ( تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر) پاکستان سے واپس کرنے کا مطالبہ کیا، ہمارے حکمرانوں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے ۔ اب شنید ہے کہ یہ قرض مجبوراً واپس کیا جا چکا ہے ۔

اصل بات مگر یہ ہے کہ اگر سعودی عرب پاکستان کی دستگیری نہ کرتا تو شائد یو اے ای کا اربوں ڈالر کا یہ پرانا قرض واپس ہی نہ کیا جا سکتا ۔ سعودی عرب نے مبینہ طور پر ایک بار پھر پاکستان کے حکمرانوں کی یوں دستگیری کی ہے کہ پاکستان کے خزانے میں 3ارب ڈالر ڈیپازٹ اور پہلے سے موجود5ارب ڈالر کو طویل مدت کے لیے توسیع دے دی ہے! مگر سوال یہ ہے کہ سعودی عرب کی جانب سے شہباز حکومت کی بروقت بھاری مالی دستگیری سے کیا پاکستان کے پِسے عوام کو مہنگائی ، لوڈ شیڈنگ اور بے روزگاری میں کوئی ریلیف ملے گا؟ ناممکن! کوئی مانے یا نہ مانے، حکومت کے خلاف عوامی غصہ بڑھ رہا ہے ۔

Load Next Story