ایران امریکا تنازع
www.facebook.com/shah Naqvi
ماہرین معیشت نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث دنیا کے دیگر ملکوں کی طرح امریکا میں بھی مہنگائی کی جو لہر اٹھی ہے، وہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی طویل عرصے تک برقرار رہے گی۔ ایسے میں نومبر کے وسط مدتی انتخابات ہو رہے ہیں، یہ مہنگائی ان انتخابات کے نتائج پر بھی اثر انداز ہو گی۔
آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹینا جارجیوا نے بھی دنیا میں مہنگائی بڑھنے کے خدشات کا اظہار کیا ہے ۔ برطانوی اخبار کے مطابق خلیج میں جنگ کے آغاز کے بعد سے امریکی معیشت دباؤ کا شکار ہے ۔ امریکا میں مارچ کے دوران مہنگائی کی شرح گذشتہ دوسال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے ۔ کیتھولک مسحیوں کے پیشوا پوپ لیو کے بارے میں متنازعہ بیان پر بھی امریکیوں کے بڑے حلقے نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر اعتراض اٹھا دیا ہے ۔ بعض سرویز میں کہا گیا ہے کہ 62فیصد امریکی ٹرمپ کی کارکردگی سے ناخوش ہیں ۔
ادھر ایران کے خلیجی ملکوں پر میزائیل حملوں سے بھی ان ملکوں کا اعتماد متزلزل ہوا ہے۔ ادھر یہ بھی کہا جارہا ہے کہ خلیجی ملکوں نے اینٹی میزائیل دفاعی نظام پر 142ارب ڈالر خرچ کیے مگر حالیہ ایرانی میزائل اور ڈرونز حملوں نے اس دفاعی نظام کی کارکردگی بے نقاب کردی ۔ کم لاگت ایرانی ڈرونز اور میزائلوں نے مہنگے امریکی تھاڈ اور پیٹریاٹ نظام کی دفاعی صلاحیت کو چیلنج کردیا۔ اس پس منظر میں سلامتی کے بدلتے منظر نامے کے بعد خلیجی ریاستوں میں امریکی دفاعی انحصار کے متبادل پر بحث تیز ہو گئی ہے ۔
کیونکہ امریکی جدید ترین دفاعی نظام ان حملوں کو موثر طور پر روک نہیں سکا۔ اس سے نہ صرف دنیا بھر میں امریکا کے اس دفاعی نظام کی ساکھ کو نقصان پہنچا بلکہ خلیجی ملک بھی معاشی طور پر شدید متاثر ہوئے ہیں۔ برطانوی میڈیا کے مطابق ایران میں ایک امریکی F-15لڑاکاطیارہ گرنے اور دو امریکی پائلٹوں کے لاپتہ ہونے کے بعد امریکی صدر ٹرمپ شدید غصے میں آگئے ۔
ایرانی ڈرونز کی کارکردگی نے دنیا کو حیرت میں ڈال دیا ۔ جب ستمبر 2022ء میں انکشاف ہوا کہ ایران روسی فوج کو ڈرون ٹیکنالوجی فراہم کر رہا ہے ۔ اس کا اندازہ اس سے لگائیں کہ اس ڈورن کو بنانے میں 20ہزارڈالر کی لاگت آتی ہے تو دوسری طرف اس کے مقابلے میں 20لاکھ ڈالر مالیت کا امریکی کروز میزائل ہے ۔ اگر ایران بیک وقت 100شاہد ڈرونز فائر کرے توانھیں مار گرانے کے لیے امریکا کو کم از کم 100کروز میزائل استعمال کرنا پڑیں گے اس طرح ایران نے اس جنگ کو امریکا کے لیے انتہائی مہنگا بنا دیا ہے ۔
ایک کہانی یہ بیان کی جاتی ہے کہ اصفہان یونیورسٹی سے اس ڈرون کی کہانی شروع ہوتی ہے۔ ایک فزکس کا طالبعلم تھا، دوسرا ایک سویلین پائلٹ اور تیسرا پیشہ ور سنار تھا ، جنھوں نے یہ ڈرونز ٹیکنالوجی تیار کی۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا اور اسرائیل نے اصفہان یونیورسٹی اور دوسرے تعلیمی اداروں کو فضائی حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔ کچھ صحافی مغربی میڈیا کے حوالے سے یہ انکشاف کررہے ہیں کہ ایران سائنس وٹیکنالوجی کے کئی شعبوں میں امریکا اسرائیل کے برابر بلکہ آگے ہے ۔
وائے افسوس امریکا اور اسرائیل نے ایران میں رجیم چینج جو دو سے تین دن میں کرنی تھی، اس کے بعد ایران کو پانچ حصوں میں تقسیم کرنا تھا، اور تہران میں رضا پہلوی کی قیادت میں حکومت بنانی تھی ، وہ منصوبہ طویل ہوگیا ہے یا پھر اس کا ممکن ہونا ہی سوالیہ نشان بن چکا ہے۔ کچھ لوگ یہ بھی کہہ رہے کہ صدر ٹرمپ کو ایران پر حملے سے قبل رائے دی گئی تھی کہ ایران میں رجیم چینج ناممکن ہے۔ اب عالمی اور امریکی میڈیا تک کہہ رہے ہیں کہ ٹرمپ مشکل صورت حال سے دوچار ہیں۔اب تو رجیم چینج کے امکانات ہر گزرتے دن کے ساتھ کم ہوتے جارہے ہیں ۔ امریکا کے کئی اہم عہدیداروں کو ہٹایا بھی گیا ہے ۔
میرا خیال ہے کہ ایران نے گریٹر اسرائیل کا منصوبہ ناکام بنادیا ۔ ایسا لگتا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے اندرونی معاملات پر غلط یا ادھوری معلومات دی جارہی ہیں جیسا کہ ایران میں چھ خواتین کو پھانسی دینے کی بات ہے، جب کہ خود ایران اور مغربی میڈیا نے اس خبر کو غلط قرار دیا ہے ۔ صدر ٹرمپ اور نیتن یاہو مقدر کے شکنجے میں پھنس چکے ہیں ۔ بقول پوپ لیو کے جن کے ہاتھ خون سے رنگے ہوں ان کی دعائیں قبول نہیں ہوتیں۔ میری تحریر سے ایسا لگ رہا ہوگا جیسے اس جنگ میں نقصان صرف امریکا اور اسرائیل کا ہو رہا ہے، جب کہ ایران کا کچھ نہیں بگڑا ، ایسا نہیں ہے، میرا آج کا موضوع چونکہ امریکا تھا لہذا اس کے بارے میں بات کی، ایران کے نقصانات کے بارے میں بھی ضرور لکھوں گا۔
موجودہ جنگ بندی رہے گی یا نہیں رہے گی، اس کا فیصلہ 11مئی کے بعد ہوگا۔