153 سال پرانے کرسچن میرج ایکٹ میں ترمیم کا بل پنجاب اسمبلی میں جمع
پنجاب اسمبلی میں 153 سال پرانے کرسچن میرج ایکٹ میں ترمیم کے لیے بل جمع کرا دیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کرسچن میرج ایکٹ میں ترمیمی بِل سے متعلق مسیحی مذہبی رہنماؤں اور قانونی ماہرین نے کہا ہے کہ صرف شادی کی عمر بڑھانا کافی نہیں بلکہ طلاق، تنسیخ نکاح، وراثت، بچوں کی کفالت اور علیحدگی سے متعلق مکمل قانونی اصلاحات کی ضرورت ہے جبکہ مسیحی مذہبی رہنماؤں کو کہنا ہے مجوزہ بل کی تیاری میں چرچ سے مشاورت نہیں کی گئی۔
ترمیمی بل چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے اقلیتی امور فیلبوس کرسٹوفر کی جانب سے پنجاب اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ مجوزہ بل کے مطابق مسیحی شادی کے لیے دلہا اور دلہن دونوں کا مسیحی ہونا لازمی ہوگا جبکہ موجودہ قانون میں کسی ایک فریق کا مسیحی ہونا کافی سمجھا جاتا ہے۔
بل میں لڑکے اور لڑکی دونوں کی کم از کم شادی کی عمر 18 سال مقرر کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ موجودہ قانون کے تحت لڑکے کی عمر 16 اور لڑکی کی عمر 13 سال ہے۔
ادارہ برائے سماجی انصاف کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پیٹر جیکب نے کہا کہ پاکستان میں نافذ ڈیڑھ سو سال پرانے مسیحی شادی اور طلاق کے قوانین میں تبدیلی کی ضرورت طویل عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی۔
ان کے مطابق وفاقی حکومت پہلے ہی کرسچن میرج ایکٹ 1872 میں ترمیم کر کے شادی کی عمر 18 سال مقرر کر چکی ہے، اس لیے پنجاب میں بھی اسی نوعیت کی اصلاحات ضروری تھیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ قانون سازی سے پہلے مختلف چرچز اور مسیحی رہنماؤں سے مشاورت ہونی چاہیے تھی۔
سیموئیل پیارا کے مطابق بل میں شادی سے پہلے نوٹس، اعتراضات اور تحقیقات کے نظام کو بھی کمزور کیا گیا ہے، جس سے غیر قانونی یا دھوکے پر مبنی شادیوں کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جھوٹے بیانات، غیر قانونی شادیوں اور دیگر خلاف ورزیوں پر سزاؤں کی واضح دفعات بھی شامل نہیں کی گئیں۔ ان کے مطابق بل میں نادرا یا بائیومیٹرک تصدیق جیسے جدید نظام کا ذکر نہ ہونے سے شناخت اور ریکارڈ سے متعلق مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔