زباں فہمی279 ؛ دن بَدِن، روز بروز اور دِن پَر دِن

زباں فہمی279 ؛ دن بَدِن، روز بروز اور دِن پَر دِن، تحریر : سہیل احمد صدیقی

زباں فہمی279 ؛ دن بَدِن، روز بروز اور دِن پَر دِن، تحریر : سہیل احمد صدیقی

اہل علم کے لیے یہ بات اچنبھے کی باعث ہوسکتی ہے کہ سلسلہ ’زباںفہمی‘ میں کوئی موضوع یا اُس کی کوئی جہت مکرر کیوں زیرِبحث لائی گئی، مگر مسئلہ یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے دورمیں ہرکوئی ہر معاملے میں ہمہ وقت رائے زنی کے لیے آمادہ اور آزاد ہے اور یہی وجہ ہے کہ کیا دین مذہب،کیا سیاست،کیا عالمی مسائل ، کیا کھیل اورکیا زبان واَدب(خصوصاً اُردو زبان واَدب) .....طے شدہ اُمور پر کہیں سے کوئی صدا بلند ہوتی ہے اور پھر اُس وقت جواب دینا ناگزیر ہوجاتا ہے جب کوئی معترض اس ہیچ مدآں کا نام اور اخبار کا نام لے کر کہتا ہے کہ صاحبو! وہ ایسا کہتے یا سمجھتے ہیں۔ بقول کسے اگر جواب نہ دیں تو کیا ہوجائے گا..... ع حالانکہ اِس سے فرق تو پڑتا نہیں کوئی (رُوحی کُنجاہی)

(٭پہلا مصرع یوں ہے:  خود کو بڑھا چڑھا کے بتاتے ہیں یار لوگ)

خاکسار نے اپنے مختصر کالموں اور مفصل مضامین میں یہ نکتہ بھی کئی بار بیان کیا کہ ’’دن بَدِن‘‘ کی ترکیب اصولی طور پر بالکل غلط ہے اور صحیح ’’روز بروز‘‘ ہے ، نیز اَگر کسی کو شوق ہوتو یہ جان لے کہ ہماری قدیم (اور اَب قدرے متروک ) زنانہ بولی میں ’دن پَر دِن‘ کی عمدہ ترکیب موجودہے ، لہٰذا قواعد کو توڑے یا اُن میں انحراف کیے بغیر یہی ترکیب استعمال کرنا بہتر ہے۔ ابھی حوالہ مستحضر نہیں، مگر کچھ کچھ یاد آتا ہے کہ مولوی عبدالحق نے کہیں ’دن پر دن‘ استعمال کیا ہے۔

میری اپنی تلاش کے مطابق، راقم نے شاید آخری مرتبہ ’دن بدن‘ کے متعلق زباں فہمی نمبر 219میں کچھ خامہ فرسائی کی تھی۔اقتباس پیش خدمت ہے:

زباں فہمی نمبر219 بعنوان بَخُدا اور باخُداکا فرق، تحریر: سہیل احمدصدیقی

(آنلائن اشاعت : 25اگست 2024ء: ایکسپریس ڈاٹ پی کے اور ایکسپریس ڈاٹ کام ڈاٹ پی کے پر دستیاب)

{یہاں دو اَہم نِکات بیا ن کرتا چلوں:

ا)۔ دن بہ دن ۔یا۔دن بدن غلط ہے کیونکہ ’دِن‘ ہندی ہے اور ’بہ‘ فارسی۔ صحیح ترکیب روز بروز (بہ روز) ہے۔ اسی طرح موضوع سے ہٹ کر عرض کردوں کہ ’’آئے دن‘‘ صحیح ہے، ’’آئے روز‘‘ نہیں!

ب)۔ عوامی بول چال یا چالو بولی ٹھولی [Slang] میں گھر بگھر اور ہاتھ بہ ہاتھ بھی رائج رہے، مگر غلط (بحوالہ فرہنگ آصفیہ)}

اپنی محولہ بالا پرانی تحریر میں یہ اضافہ کرتا چلوں کہ:

 ا)۔ اہل زبان ایرانی تراکیب میں ’بہ‘ ملاکر لکھتے ہیں ،جیسے بروز (نہ کہ بہ روز)مگر ہمارے یہاں بعض ’جدیدیے‘ اپنے خیال میں اسے توڑنا ضروری سمجھتے ہیں جو ظاہر ہے کہ غلط ہے۔اور۔

ب)۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ ’دن بَدِن‘ صحیح ہے تو پھر ’گھر بگھر‘ اور ’ہاتھ بہ ہاتھ‘ میں بھی کوئی حرج نہ سمجھا جائے...کیا خیال ہے؟

مزید برآں جدید فارسی میں بھی Day-by-dayکے لیے روز بروز مستعمل ہے جس سے اُس کے دیرینہ استعمال کی صحت کو تقویت ملتی ہے۔

[English Persian Dictionary by Abbas Aryanpur Kashani & Manoocher Aryanpur Kashani, Tehran-Iran: Edition 1989]

بزم زباں فہمی کے سابق رکن جناب رضوان احمد (پی ایچ ڈی: لسانیات) نے اپنے ایک وڈیو بیان میں یہ کہہ کر چونکا دیا کہ ’’کچھ لوگوں کے نزدیک، دن بَدِن غلط ترکیب ہے‘‘۔ حضور! اس ابتدائے بیان سے تو لگتا ہے کہ شاید جُمہُور (اکثریت) کا اتفاق اس بات پر ہے کہ یہ ترکیب تکنیکی لحاظ سے صحیح ہے۔ بات آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ’’دن ہندی لفظ ہے، جبکہ ’بہ‘ فارسی کا حرفِ جار ہے اور فارسی حرفِ جار کو ہندی الفاظ کے ساتھ نہیں جوڑا جاسکتا۔ اُن کے نزدیک روز بروز کی ترکیب صحیح ہے، کیونکہ روز بھی فارسی ہے اور ’بہ ‘ بھی فارسی ہے‘‘۔ اس کے بعد انھوں نے اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے خاکسار کا نام بطور ماہرِلسانیات لیا کہ وہ بھی ’روز بروز ‘ کے قائل ہیں۔ (حضرت کی ذرّہ نوازی ہے، ورنہ مجھے پروفیسر ڈاکٹر اے بی اشرف مرحوم سمیت متعدد مشاہیر ِ ادب و دیگر نمایاں شخصیات ماہرِلسانیات کہتی، لکھتی اور سمجھتی آئی ہے، مگر بندہ کسی خوش فہمی میں مبتلا ہوئے بغیر خود کو ’لسانی محقق‘ کہتا ہے اور دیگر کے لیے بھی یہ تعریف متعین کرتا ہے کہ اوّل تو اس لقب سے ملقب ہونے والے شخص کو لسانیات بطور مضمون پڑھنا چاہیے، دُوُم یہ کہ جس زبان کی لسانیات کا ماہر ہے، اس کے بنیادی مصادر یا مآخذ پر عبور ۔یا۔کم ازکم چند ایک پر اچھی گرفت کا حامل ہونا چاہیے۔ یہاں حال یہ ہے کہ لوگ انگریزی سے ترجمہ کرکے پوری پوری کتب لکھتے جاتے ہیں اور اُن کے کور مقلدین اُنھیں ماہرِِلسانیات قرار دیتے ہیں، جبکہ اُنھیں اردو کے مآخذ میں شامل ایک آدھ زبان کا علم ہوتا ہے یا وہ بھی نہیں ہوتا، پھر اِ س زُمرے میں وہ حضرات بھی نمایاں ہیں جن کی مادری زبان ہی کچھ اور ہے;خوب لطیفہ ہے کہ جس کی مادری زبان ہی اردو نہیں، وہ ماہر لسانیات ِ اردو ہے! ) یہاں راقم عرض کرناچاہتا ہے کہ ڈاکٹر رضوان احمد عربی، فارسی اور انگریزی کے ساتھ ساتھ قدرے ہندی سے آشنا ہیں، لسانیات میں پی ایچ ڈی ہیں، لہٰذا اُنھیں ماہرِلسانیات قرار دینا تکنیکی اعتبار سے صحیح ہے۔ موصوف نے اس باب میں بنیادی قاعدے کو چیلنج کرتے ہوئے ایسے فارسی الفاظ کا ذکر کیا ہے جو اَپنی اصل شکل کی بجائے تبدیل شدہ شکل میں اردو میں رائج ہیں، مثلاً بخشیدن سے بخشنا، فرمودن یا فرمائیدن سے فرمانا، نیز آزمانا، تراشنا وغیرہ.....کمال ہوگیا صاحب! ان الفاظ کی تبدیل شدہ شکل سے ہماری زیربحث ترکیب کا کیا تعلق ہے؟ اس طرح تو عربی سے بھی بے شمار الفاظ اردو میں داخل ہوئے، سنسکِرِت اور قدیم ہندی سے، ترکی سے، علاقائی یامقامی زبانوں اور بولیوں سے بھی....تو کیا ہم ایسے الفاظ کی مثال پیش کرتے ہوئے ’دن بدن‘ کو صحیح قرار دے دیں؟

ڈاکٹر رضوان احمد نے سراج اورنگ آبادی کا مندرجہ ذیل شعر بطور نمونہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ’’اگر آ پ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قاعدہ صحیح ہے (یعنی فارسی اور ہندی کا ملاپ، بذریعہ فارسی حرفِ جار غلط قرار دینا) تو پھر آپ کو یہ کہنا ہوگا کہ سراج اورنگ آبادی کو اُردو نہیں آتی تھی ، انھوں نے غلط ترکیب اس شعر میں استعمال کی ہے:

دن بدن اب لطف تیرا ہم پہ کم ہونے لگا

یا تو تھا ویسا کرم یا یہ ستم ہونے لگا‘‘

مزید برآں کلاسیکی شاعر آبرو شاہ مبارک کا شعر پیش کیا کہ

بڑھے ہے دن بدن تجھ مُکھ کتاب آہستہ آہستہ

کہ جُوں کر گرم ہو ہے آفتاب آہستہ آہستہ

اس کے بعد فاضل ماہرِلسانیات نے احمدفراز کا شعر بھی نقل فرمایا:

دن بدن کا شریکِ حال کہاں

ہجر پھر ہجر ہے، وصال کہاں

یہاں تک ڈاکٹر رضوان احمد کا بیان تھا، اب راقم سہیل کا جواب بھی دیکھیے گا:

1۔ جب ہم کلاسیکی شاعری سے سند لاتے ہیں تو ایسا نہیں ہوتا کہ کوئی شاذ نمونہ کہیں سے مل جائے اور اُسے 99.99% شعراء خصوصاً اساتذہ نے استعمال نہ کیا ہو ، مگر ہم اپنی بات کی صحت منوانے کے لیے پیش کرکے اُس پر اِصرار کریں۔

2۔ سراج اورنگ آبادی ہوں، ولیؔ گجراتی دکنی، شاہ مبارک ہوں یا اَور پیچھے چلے جائیں قلی قطب شاہ ہی کیوں نہ ہوں، سوال یہ ہے کہ کیا یہ بڑے نام (اردو کی بطور زبان تشکیل وتدوین بشمول قواعد نثرونظم اور عَروض کی کڑے تنقیدی معیار پر مرتب ہونے کے بعد بھی) اس ضمن میں اپنی جگہ ’فرد‘ رہیں گے؟ ان کی واحد مثال مان لی جائے گی، حالانکہ ان کے بعد اُسی ترکیب یا لفظ یا متعلقات کا استعمال سرے سے متروک ہو اور پھر کسی بھی بڑے، درمیانے یا چھوٹے شاعر نے کبھی اُن بزرگوں کی پیروی نہ کی ہو؟ شمالی وجنوبی ہند کی قدیم شاعری میں ایسی بے شمار مثالیں ہیں جنھیں آج کا قاری پڑھ کر ششدر رہ جائے گا کہ ہائیں! یہ بھی ہوتا ہے یا یوں بھی ہوتا ہے۔ زبان وقت کے ساتھ ساتھ بہت کچھ بدل چکی ہے اور قواعد کے خلاف معیاری یا ادبی زبان کا رِواج بہر حال ابھی عام نہیں!

3۔ احمد فراز کا شعر یوں ہے:

دل بدن کا شریک حال کہاں

ہجر پھر ہجر ہے وصال کہاں

4۔ آپ کا یہ کہنا کہ اردو کے قواعد، فارسی یا کسی اور زبان کے تابع نہیں، بحث کو ایک اور رُخ پر لے جارہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا اردو میں مستعمل تمام تراکیب، محاورے، کہاوتیں، حکایات، الفاظ کے مختلف مفاہیم وتشریحات، اپنے تمام مآخذ سے جُدا ہوکر بھی کوئی شے ہیں؟ کیا اردو میں عربی، فارسی، ترکی، سنسکرت، ہندی، علاقائی زبانوں سے مستعار تمام قواعد اور اِن کے ذیل میں آنے والی تمام تفصیلات تَرک کرکے کوئی چیز بنائی جاسکتی ہے جو ’خالص اردو‘ ہو؟

راقم نے حسرتؔ موہانی کی ’نِکاتِ سخن‘ کھنگال ڈالی، کہیں ’’دن بَدِن بجائے روز بروز‘‘ کے عنوان سے کوئی باب دِکھائی نہ دیا، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ترکیب شاذ ہی کسی نے استعمال کی ہوگی، ورنہ وہ صاحبِ مطالعہ تھے ، نشان دِہی کے ساتھ ساتھ گرفت ضرور فرماتے۔ ایک اور تجربہ یہ بھی ہوا کہ ’’اردو کے ضرب المثل اشعار۔ تحقیق کی روشنی میں‘‘ کے فاضل مرتب، ہمارے ایک سو پانچ سالہ بزرگ معاصر محقق (اور میرے نہایت مشفق کرم فرما) جناب محمد شمس الحق (مرحوم) کو بھی اپنی ساٹھ سال سے زائد عرصے کو محیط تحقیق میں ایسا کوئی شعر نہیں ملا جس میں ’دن بَدِن‘ کی ترکیب استعمال ہوئی ہو۔

یہ بات اظہر مِن الشمس ہے کہ اہل ِزبان اپنی ضرورت اور آیندہ وقت کے لوگوں کی مختلف النوع ضروریات کے پیش ِ نظر لُغات ترتیب دیتے ہیں۔ اس ضمن میں بہت زیادہ حزم واحتیاط بھی لازم ہے اور یہی سبب ہے کہ اردو میں معیاری لغات کی تعداد بہت کم ہے۔ ہم عموماً اپنے لغوی حوالہ جات کی ابتداء فرہنگ ِ آصفیہ اور نوراللغات سے کرتے ہیں، دیگر لغات کا حوالہ بعد میں آتا ہے، مگر کسی سبب ان دوبڑی لغات میں بھی کوئی کسر رہ گئی ہو، جیسا کہ ’دن بدن‘ کی تصحیح اور روز بروز کی وضاحت (ظاہر ہے کہ بشری سہو سے ایسا ممکن ہے) تو پھر اِسے نظراَنداز کرنے کی بجائے اس کی تصحیح ، بہتری، ترمیم واضافے کا عمل ناگزیر ہے۔ (ان دونوں بڑی لغات سے اردولغت بورڈ کی مختصر اُردو لغت میں بھی دن بدن نقل کرلیا گیا اور کسی قسم کی تصحیح کا نہ سوچا گیا) اور اِس ضمن میں کماحقہ‘ معلومات کا حامل ہونا ضروری ہے، ورنہ وہی ہوتا ہے جو ماضی قریب میں فرہنگ ِ آصفیہ کے دو، یکے بعد دیگرے ’اصلاح شُدہ ‘ ایڈیشنوں (اشاعت کہہ لیں) میں ہمارے بعض خُرد معاصرین نے کردِکھایا۔ جو اَلفاظ ومفاہیم اُن کی فہم سے بالاتر تھے، اُن کی ’اصلاح‘ فرمادی۔ مولوی سید احمد دہلوی کی روح تڑ پ گئی ہوگی۔ یہ سلسلہ دیگر لغات بشمول مختصر اُردولغت (اردو لغت بورڈ) میں بھی نظر آتا ہے کہ کچی پکّی معلومات کی بِناء پر کوئی اندراج کردیا اور یار لوگ اُسے سند مانتے ہوئے آگے نقل کرنے لگے;بائیس جلدوں پر مشتمل عظیم وضخیم لغات ایک عرصے سے پیش ِنظر نہیں، مگر شُنید ہے کہ اُس کے اخیر دور میں ایسی کارستانی ہوئی کہ تصحیحات ناگزیر محسوس ہوتی ہیں۔

مندرجہ بالا اصول کا طے پانا ظاہر ہے کہ کوئی کل کی بات نہیں، بلکہ مدتوں پہلے جب اصلاحِ زبان کے باب میں متعدد مشاہیر نے پیہم مساعی کیں تو زبان کی یہ صورت ہوئی کہ آج ہم معیاری اور غیرمعیاری میں فرق کرسکتے ہیں۔ (لفظ لغت اور لغات مذکر ہیں، مگر رِواج میں بطورکتاب، مؤنث بولے جاتے ہیں۔ لغات ِ کشوری میں مولوی تصدق حسین رضوی نے یہ معانی بیان کیے:زبان کسی قوم کی، اور اصطلاح میں وہ لفظ جس کے معنیٰ مشہور نہ ہوں۔ جمع لغات۔ یہ عربی الاصل ہے)

لفظ ’دن‘ ہندی الاصل ہے اور ’ہندی اردو لغت‘ از راجہ راجیسور (راجیشور) راؤ اصغرؔ (دوسری اشاعت ، انجمن ترقی اردو پاکستان کے زیراہتمام اوّلین: 1997) میں اس کے معانی یوں درج ہیں: دن، روز، یوم۔اسی لغت کے توسیعی حصے میں قدرت نقوی صاحب نے ’دن‘ سے مشتق یا منسلک یہ الفاظ و تراکیب شامل کی ہیں: دن راج یعنی سورج، دن کرَتا یعنی سورج، دن کَنت یعنی سورج، دن ناتھ یعنی سورج، دن نائک یعنی سورج، نیز دِنے چَر، دنیچر ، دِنے شوَر، دنیشور یعنی سورج، دنوندھا یعنی دن کو نہ دیکھنے والا، وہ مرد جسے دن میں نظرنہ آئے ، سورج مکھی مرد، اُلّو، چغد، دنوندھی یعنی دن کو نہ دیکھنے والی، وہ عورت جسے دن میں نظر نہ آئے، سورج مکھی عورت، خفاش، چمگادڑ، چام چِڑی، دِنی یعنی پُرانا، قدیم ، کُہنہ۔

لفظ اِملاء مذکر ہے یا مؤنث چلتے چلتے ایک اور نکتہ سنجی ملاحظہ فرمائیں۔ ہمارے ایک قدرے بزرگ دوست شاعرجناب محسن شکیل نے دریافت کیا کہ آیا ’املاء‘ کا استعمال بطور مؤنث بھی صحیح ہے۔ میں نے جواب دیاکہ میری معلومات کے مطابق مذکر ہے اور کسی اہل ِزبان سے مؤنث نہیں سُنا۔ جب ذرا تحقیق کی تو معلوم ہوا کہ پوری شاعری میں فقط رشکؔ لکھنوی نے ایک شعر میں اسے مؤنث باندھا ہے جبکہ لکھنوی لوگ بھی اسے مذکر ہی قراردیتے ہیں۔ محسن شکیل صاحب خود بھی آبائی تعلق کے لحاظ سے لکھنوی ہیں۔ اب ناواقفین تو رشک لکھنوی کا شعر نقل کرکے یہ تکرار کرسکتے ہیں کہ جناب یہ دیکھیں، لفظ املاء تو مؤنث ہے۔ رشک ؔ کا شعر ہے:

نامہ جاں ہے یا لکھا مِری تقدیر کا

خط کی اِنشا اَور ہے، لکھنے کی اِملاء اَور ہے

Load Next Story