لفظ سے دوا تک، کوالٹی کی تخلیق کا فلسفہ

کسی دوا کی تیاری کے آغاز میں خام مال اپنی خام حالت میں ایک طرح کے ’انتشار‘ کا شکار ہوتے ہیں

زبان سیکھنا محض الفاظ کا ذخیرہ کرنا نہیں بلکہ ذہن کے اندر ایک نئی دنیا تعمیر کرنے کا نام ہے، جہاں اکثر لوگ دوسری زبان سیکھتے وقت اپنی غلطیوں سے گھبراتے ہیں حالانکہ حقیقت میں یہ ’بے ترتیبی‘ ہی وہ خام مال ہے جس سے مہارت کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔

اس عمل کی سب سے خوبصورت مثال اس چھوٹے بچے کی ہے جو اپنی زبان سیکھتے ہوئے جب یہ کہتا ہے کہ ’’میں نے پانی کھایا‘‘ تو بظاہر ایک غلط جملہ بول رہا ہوتا ہے مگر لسانیات کی نظر میں یہ اس کی بڑی کامیابی ہے، کیونکہ اس کا دماغ ایک قاعدہ ایک اصول ترتیب دے چکا ہے کہ ہر عمل کے لیے ایک ہی طرح کا جملہ استعمال کرنا ہے اور یہی وہ مقام ہے جہاں سے ذہنی انتشار ایک منظم ترتیب کی طرف سفر شروع کرتا ہے۔

دوسری زبان سیکھنا دراصل ایک پزل حل کرنے جیسا ہے، جس میں شروع میں تمام ٹکڑے بکھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ مثلاً جب کوئی کہتا ہے کہ "Yesterday I go to market" تو وہ پزل کے دو مختلف ٹکڑوں کو جوڑنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے، جہاں وقت کا تصور تو موجود ہے مگر کام کی صحیح شکل ابھی غائب ہے۔

یہ حالت ایک ایسی درمیانی زبان کی عکاسی کرتی ہے جو بظاہر بکھری ہوئی لگتی ہے لیکن درحقیقت ایک مکمل تصویر بننے کی تیاری کر رہی ہوتی ہے۔ بالکل ویسے ہی جیسے پہلی بار کھانا پکاتے ہوئے نمک یا مرچ کا توازن بگڑ جاتا ہے مگر یہی تجربہ ہمیں بتاتا ہے کہ اگلی بار ذائقہ کیسے بہتر بنانا ہے۔

کوالٹی ایشورنس کا اصل مقصد غلطیوں کو جڑ سے ختم کرنا نہیں بلکہ اس افراتفری کو ایک بامقصد سمت دینا ہے۔ کیونکہ جس طرح کائنات کا ہر نظام انتشار سے نکل کر توازن کی طرف جاتا ہے، اسی طرح ایک طالب علم کی ٹوٹی پھوٹی گفتگو ہی اس کی مستقبل کی فصاحت و بلاغت کی بنیاد بنتی ہے۔

اسی فلسفے کو اگر ادویات سازی یا فارماسیوٹیکل مینوفیکچرنگ کے وسیع تناظر میں دیکھا جائے تو وہاں بھی معیار کا حصول کسی اچانک معجزے کا نتیجہ نہیں ہوتا بلکہ ایک انتہائی منظم عمل کا حاصل ہوتا ہے۔

جس طرح زبان سیکھنے کے ابتدائی مرحلے میں الفاظ بکھرے ہوئے اور بے ترتیب ہوتے ہیں، اسی طرح کسی دوا کی تیاری کے آغاز میں خام مال اپنی خام حالت میں ایک طرح کے ’انتشار‘ کا شکار ہوتے ہیں جنہیں ایک خاص کیمیائی ترتیب اور فارمولیشن کے عمل سے گزارنا ضروری ہوتا ہے۔ یہاں کوالٹی ایشورنس کا کردار صرف تیار شدہ گولی کو جانچنا نہیں ہے بلکہ اس پورے عمل کی نگرانی کرنا ہے جہاں ذرا سی بھی بے ترتیبی یا انحراف پوری دوا کے اثر کو زائل کرسکتا ہے۔

ادویات کی تیاری میں ’’ڈیزائن کے ذریعے معیار‘‘ کا تصور بھی لسانی ترتیب جیسا ہی ہے، جہاں مینوفیکچرنگ کے دوران ہونے والے انحراف کو ایک ’’سیکھنے کے تجربے‘‘ کے طور پر دیکھا جاتا ہے تاکہ سسٹم کو مزید بہتر بنایا جاسکے۔ جس طرح ایک زبان سیکھنے والا اپنی غلطیوں سے سیکھ کر جملے درست کرتا ہے اسی طرح فارما مینوفیکچرنگ میں ’ان پروسیس کنٹرولز‘ اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ کیمیائی اجزاء کا ہر مالیکیول اپنی صحیح جگہ پر ہو اور حتمی ادویاتی پروڈکٹ انسانی صحت کےلیے محفوظ اور موثر ثابت ہو۔

درحقیقت بے ترتیبی سے ترتیب کا یہ سفر چاہے وہ زبان کے الفاظ ہوں یا دوا کے اجزا، ایک کڑی محنت اور مسلسل نگرانی کا متقاضی ہوتا ہے جو آخر کار ایک کامل نتیجے کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ اگر آپ کے الفاظ بکھرے ہوئے ہیں یا ابتدائی فارمولیشن ادھوری ہے تو یہ پریشانی کی بات نہیں بلکہ اس بات کی گواہی ہے کہ آپ کا ذہن اور آپ کا عمل ایک بڑے نظم و ضبط کی تیاری کر رہا ہے۔

کوالٹی ایشورنس (QA) کا اصل کمال خامیوں کو اچھالنا یا چھپانا نہیں بلکہ افراتفری کو افادیت میں بدلنا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ blog@express.com.pk پر ای میل کردیجیے۔

Load Next Story