کچھ ان لوگوں کے بارے میں سوچیں
salmanabidpk@gmail.com
پاکستان کی اشرافیہ یا طاقت ور طبقات سمیت اہل دانش یا رائے عامہ بنانے والے افراد یا اداروں کو اپنے مفادات کی بجائے غریب اور محروم یا کمزور طبقات کی سیاسی ،سماجی ،قانونی اور معاشی حیثیت کی طرف بھی دیکھنا چاہیے کہ وہ کن حالات سے یا کن مشکلات سے دوچار ہیں۔ حکمرانی کا نظام کس طرح سے ان کی روزمرہ کی زندگیوں میں آسانیاں کو پیدا کرنے کے بجائے مسلسل مشکلات پیدا کرنے کا سبب بن رہا ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر جب غریب اور متوسط یا کمزور طبقات کی کہانیوں کو سننے کا موقع ملتا ہے تو دل بوجھل ہوجاتا ہے ۔دل میں یہ اداسی پیدا ہوتی ہے کہ لوگ کس طرح سے مجبور ہوکر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں یا ان کی بنیادی نوعیت کے حقوق اور ضروریات کیسے پامال ہورہی ہیں۔
اس ملک کے اہم اور بڑے واقعات جن کو حکمران طبقہ بڑی ترقی اور خوشحالی کے طور پر لوگوں دکھاتا ہے وہ لوگوں پر اپنا کوئی اثر نہیں دکھاتے ۔کیونکہ لوگ اپنے ذاتی مسائل اور مشکلات کا پر امن حل چاہتے ہیں جو ان کو نہیں مل رہا ۔ان کے بقول نہ تو یہ نظام ہمارے حقوق کی پاسداری کو یقینی بناتا ہے اور نہ ہی یہ ہماری آوازوں کو سننے کے لیے تیار ہے۔ ہم جب انفرادی یا اجتماعی طور پر اپنی آواز اٹھاتے ہیں تو ہماری بات پر توجہ دینے یا اس پر غو ر کرنے کی بجائے اس طاقت کی بنیادپر دبانے کی کوشش کی جاتی ہے یا ہمارے خلاف طاقت کا استعمال کیا جاتا ہے۔
یہ کہانیاں عام لوگوں کی ہیں جو بہت سے خواب سجا کر حکمرانی کے نظام میں اپنا حصہ تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ان کے بقول یہ ہمارا حق ہے اور کوئی حکومت کا ہم پر احسان نہیں ۔یہ ہی حق ہمیں آئین پاکستان بنیادی حقوق کے پہلے باب میں ہمیں دیتا ہے اور ہمیں ہر طرح سے یہ یقین دلاتا ہے کہ آئین آپ کے حقوق کی ضمانت دیتا ہے ۔لیکن حکمران طبقات کی سطح پر مختلف نوعیت کے تضادات ہیں جو ہمارے حقوق کو متاثر کرتے ہیں۔اس ملک کی بڑی اشرافیہ کو چھوڑیں یا جن کے پاس زندہ رہنے کو بہت کچھ ہے، مسئلہ ان لوگوں کا ہے جو بہت سے حقوق سے محروم ہیں۔ہمارے جو سماجی اور معاشی اعداد وشمار ہیں، وہ ظاہر کرتے ہیں کہ لوگوں کی سطح پر سیاسی ،سماجی اور معاشی تفریق بڑھ رہی ہے۔لیکن ہماری ریاست اور حکمرانی کے نظام کے پاس عام اور کمزور طبقات کے سوالات کا کوئی نہ تو جواب ہے اور نہ ہی لوگوں کو ان مسائل کا حل دیکھنے کو ملتا ہے۔
ایسے لگتا ہے کہ جب بھی ملک کسی بڑے سیاسی اور معاشی بحران سے گزرتا ہے یا اس کو اس بحران کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو طاقت ور طبقات کے مقابلے میں کمزور طبقات کو یا تو اس کی بھاری قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ حکومت اس بحران کا سارا بوجھ طاقت ور طبقات پر ڈالنے کے بجائے کمزور طبقات پر ڈال دیتی ہے۔ مختلف نوعیت کے ٹیکس لگاکر جبری بنیادوں پر وصولی کی جاتی ہے ۔تنخواہ دار طبقہ ہو یا چھوٹا کاروباری طبقہ سب ہی مسائل سے دوچار ہیں اور دوسری طرف نئی نسل کے پاس عملی طور پر روزگار کے مواقع نہیں، یہ سب کہاں جائیں۔آئی ایم ایف کی پالیسیاں مسلسل عام آدمی پر بوجھ بن کر سامنے آرہی ہیں ۔
وہ بنیادی مسائل جو ریاست یا حکومت کے کنٹرول میں تھے ، اب نجی شعبہ کی وجہ سے لوگوں کاسرکاری اداروں پر اعتماد کم ہوا ہے۔ حکومت اب عملی طور نجی شعبے کی بنیاد اختیار کرچکی ہے جس کا مقصد لوگوں کی خدمت کم او ران سے پیسا کمانا زیادہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ریاست اور حکومت لوگوں کے ساتھ نہیں بلکہ طاقتور طبقوں کے مفادات کے ساتھ کھڑی ہے۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ریاستی نظام کی ترجیحات عام یا کمزور طبقات ہوسکتے ہیں اور اگر نہیں تو پھر اس سوچ اور فکر کو کیسے بدلا جائے کہ ریاست اور حکمران اپنی ترجیحات کا ہی درست تعین کریں۔عملی طور پر اس ملک کا طاقت ور طبقہ ملک کے کمزور طبقہ کا مذاق اڑارہا ہے یا ان کو یہ واضح پیغام دیا جارہا کہ عام آدمی کسی بھی طور پر ہماری ترجیحات کا حصہ نہیں ہے۔یہ سوچ لوگوں میں جہا ں اشتعال پھیلارہی ہے وہیں ان میں بغاوت بھی پیدا ہورہی ہے مگر ہم کچھ بھی سیکھنے کے لیے تیار نہیں ۔ریاست اور حکومت کا نظام بڑی آسانی کے ساتھ کمزور طبقات پر یہ الزام تو لگاتا ہے کہ لوگ بالخصوص نئی نسل انتہا پسندی اور پر تشدد رجحانات کی طرف بڑھ رہی ہے ۔لیکن یہ ہی ریاست اور حکومت کا نظام اس پر کچھ سوچنے کے لیے تیار نہیں کہ لوگوں کی سطح پر یہ انتہا پسندانہ سوچ کیونکر جڑ پکڑ رہی ہے اور اس کے محرکات کیا ہیں۔ایسے لگتا ہے کہ ہمارا حکومتی نظام اندھے لوگوں پر مشتمل ہے یا ان کی عقل و دانش کہیں گم ہوکر رہ گئی ہے ۔لیکن ایسا نہیں بلکہ اس کے مقابلے میں یہ طاقت ور لوگ کمزور طبقات کو دبا کر حکمرانی کے نظام میں ہی موجود رہیں گے اور لوگوں کا استحصال کرتے ہی رہیں گے۔عام آدمی کا نظام سماجی ،سیاسی اور معاشی انصاف کی بنیاد پر آگے بڑھتا ہے لیکن ہم نے ان معاملات سے اپنی توجہ اٹھالی ہے اور ایسے معاملات پر زیادہ کوششیں کی جاتی ہیں جو عوام دشمنی کے زمرے میں آتے ہیں۔
ہمارے ریاست اور حکمرانی کے نظام کو احساس نہیں ہے یا وہ غفلت کررہے ہیں کہ لوگوں میں اس نظام کے بارے میں سخت ردعمل پیدا ہورہا ہے ۔ اگر اشرافیہ نے لوگوں کے مسائل یا نظام کی بہتری پیدا کرنے میں غفلت کا عملی مظاہرے کو جاری رکھا تو پھر لوگوں میں موجود سخت ردعمل کو کتنا روکا جاسکے گا۔یہ جو ہم سماجی، سیاسی اور معاشی انقلاب کی باتیں کرتے ہیں یا سب کچھ بدلنے کی باتیں کی جاتی ہیںیہ کام محض لفاظی سے نہیں ہوگااور نہ ہی جذباتی نعرے اب اپنا رنگ دکھا سکیں گے۔
پاکستان کو عملی طور پر اس وقت نظام کی تبدیلی کی ضرورت ہے اور اس تبدیلی کے لیے ایک بڑی سیاسی تحریک لیکن اس سے پہلے ایک بڑی سیاسی بحث کو آگے ہی بڑھا کر ہم اپنی منزل حاصل کرسکتے ہیں۔سیاسی،آئینی اور قانونی راستے کو ہی بنیاد بنا کر ہمیں چاروں اطراف سے ان آوازوں کو بلند کرنا ہے کہ ظلم اور استحصال کا نظام تبدیل ہونا چاہیے۔اس میں کلیدی کردار نئی نسل کا ہے مگر اس نئی نسل کی قیادت کون کرے گا، یہ بنیادی نوعیت کا سوال ہے ۔کیونکہ منظم تبدیلی ایک بڑیی سیاسی اور قیادت کی موجودگی میں آگے بڑھتی ہے۔لیکن اگر ایسا نہ ہو تو پھر انتشار کی سیاست نمایاں طورپر ابھر کر سامنے آتی ہے جو مزید مسائل پیدا کرے گی۔