ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ

انسانی زندگی کا معیار شہریوں کے بنیادی حقوق سے منسلک ہے۔

انسانی زندگی کا معیار شہریوں کے بنیادی حقوق سے منسلک ہے۔ انسانی حقوق کی پاسداری میں معروف بین الاقوامی انسانی حقوق کی غیر سرکاری تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی سالانہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال مسلسل خراب ہورہی ہے۔ ان ممالک میں امریکا، یورپ، اسرائیل اور مشرق وسطیٰ کے ممالک، بھارت، پاکستان اور افغانستان وغیرہ شامل ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے سیکریٹری جنرل Ages Callmard نے رپورٹ کے اجراء کے موقع پر کہا کہ انسانی حقوق کی دنیا بھر میں صورتحال خراب ہوتی جارہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ طاقتور ممالک انسانی حقوق  کے تحفظ میں زیادہ سنجیدہ نہیں ہیں۔ اس رپورٹ میں 102 ممالک کے حالات کا جائزہ لیا گیا ہے اور 400 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ حقائق پر نظر آتی ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مختلف ریاستوں میں طاقت کے استعمال سے منحرفین کا خاتمہ کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں غزہ کی تشویش ناک صورتحال کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔

اسرائیل براہِ راست فلسطینی بچوں سمیت ہزاروں افراد کے قتل کا ذمے دار ہے۔ رپورٹ میں ایک اہم نکتہ شامل کیا گیا ہے کہ عالمی عدالتوں کو انصاف سے روکنے کے لیے بڑی طاقتیں مسلسل دباؤ ڈالتی ہیں۔ امریکا اور چند دیگر ممالک نے عالمی عدالت انصاف کی جانب سے اسرائیل کے وزیر اعظم کو جنگی مجرم قرار دینے کے فیصلے پر عمل نہیں کیا ہے بلکہ صدر ٹرمپ نے تو یہ فیصلہ دینے والے عالمی عدالت انصاف کے ججوں کے امریکا میں داخلہ پر پابندی عائد کردی ہے جو بین الاقوامی صورتحال میں ایک خطرناک اقدام ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ میں کلائمنٹ چینج کا بھی خاص طورپر ذکر کیا گیا ہے۔ امریکا کے صدر ٹرمپ فضائی آلودگی کو روکنے کے لیے Renewable Energyکی حوصلہ افزائی کے لیے تیار نہیں ہیں۔ Renewable Energy دراصل Fossil Fules کا متبادل ہے اور اس انرجی کے استعمال سے کلائمنٹ چینج کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ کلائمنٹ چینج سے ترقی پزیر ممالک جن میں پاکستان اور اطراف کے ممالک شامل ہیں براہِ راست متاثر ہیں۔ کلائمنٹ چینج سے پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش سیلابوں، مسلسل بارشوں ،پہاڑی تودے گرنے ، سخت سردی اور گرمی کے موسموں سے عام آدمی کے لیے مشکلات بڑھ گئی ہیں۔

اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو ممالک Conflict Zoneکے دائرہ میں آتے ہیں ان ممالک میں انٹرنیٹ پر پابندیاں، شہریوں کی نگرانی اور بنیادی حقوق سلب کرنے والے قوانین نافذ کیے گئے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں بھارت کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا گیا ہے کہ وہاں حکومت کی سرپرستی میں مذہبی انتہاپسندی کی بناء پر اقلیتوں کی صورحال ناگفتہ بہ ہے۔

مذہبی انتہاپسندی سے بھارت کی سب سے بڑی اقلیت مسلمان سخت دہشت زدہ ہے۔ گزشتہ سال ہجوم کا مختلف الزامات لگا کر مسلمان نوجوانوں کو ہلاک کرنے کے واقعات بڑھ گئے ہیں۔ اس جنونیت سے صرف مسلمان ہی متاثر نہیں ہیں بلکہ عیسائی اور ہندوجاتی کا پسماندہ طبقہ دلت براہِ راست متاثر ہے۔ ہندو مذہبی انتہاپسند گروہ مسیحوں کی عبادت گاہوں پر حملے کرتے ہیں اور پادریوں اور نن کو ہراساں کرتے ہیں۔ اسی طرح اونچی ذات کے ہندو دلت لڑکیوں پر مجرمانہ حملے کرتے ہیں۔ اس صورتحال کے نتیجے میں کئی دلت لڑکیوں کو خودکشی جیسا آخری حربہ استعمال کرنا پڑا۔

اس رپورٹ میں افغانستان کا بھی ذکر ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ طالبان کی حکومت نے خواتین کی تعلیم اور روزگار کا حق چھین لیا ہے۔ ایسی ہی صورتحال اقلیتوں کے ساتھ ہے۔ طالبان حکومت نے ایسی قانون سازی کی ہے جس سے غلامی کے نظام کو نئی زندگی مل جائے گی۔ طالبان کے علماء کو کوئی بھی جر م کرنے پر خصوصی آئینی تحفظ حاصل ہے مگر عورتوں اور اقلیتوں کے لیے بدترین سزائیں قانون میں شامل کی گئی ہیں۔ اس رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ روس، بنگلہ دیش اور برما میں بھی انسانی حقوق کی صورتحال مسلسل خرب ہے۔ برما میں اقلیتی گروہ روہنگیا برادری دوسرے درجے کے شہری کی حیثیت سے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

یہ لوگ آسٹریلیا، فلپائن، تھائی لینڈ، ملائیشیا اور سنگاپور وغیرہ پناہ کے لیے جانے کی کوشش کرتے ہیں مگر یہ ممالک اس کمزور مسلمان اقلیت کو پناہ دینے کو تیار نہیں ہیں۔ بنگلہ دیش برما کا پڑوسی ملک ہے مگر بنگلہ دیش کی حکومت بھی اس برادری کے مزید افراد کو قبول کرنے کو تیار نہیں ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی رپورٹ میں ایران کا ذکر کیا گیا ہے۔

اس رپورٹ میں خواتین کے حقوق کے علاوہ کچھ لوگوںکی پھانسیوں کا ذکر شامل ہے۔ اس رپورٹ میں پاکستان کا ذکر بھی کیا گیا ہے اور مختلف نوعیت کی پابندیوں کی بات کی گئی ہے۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ میں خواتین اور بچوں پر تشدد کے بارے میں کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کی رپورٹ کا حوالہ بھی دیا گیا ہے اور تحریر کیا گیا ہے کہ پاکستان میں گزشتہ سال خواتین پر ہونے والے تشدد میں 25 گنا اضافہ ہوا ہے۔

 ایمنسٹی انٹرنیشنل کی دنیا بھر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں جاری ہونے والی سالانہ رپورٹ انسانی حقوق کی پاسداری کرنے والی عالمی شخصیتوں اور اداروں کے لیے انتہائی اہمیت کی حامل جانی جاتی ہے۔ خاص طور پر یورپی یونین اس رپورٹ کو خصوصی طور پر اہمیت دیتی ہے۔ انسانی حقوق کی مسلسل خلاف ورزیوں سے عام شہری کا طرز زندگی متاثر ہوتا ہے۔ عام آدمی اور ریاست کے درمیان فاصلے طویل ہوتے ہیں اور غیر جمہوری اور طالع آزما قوتیں اس خلیج سے بھرپور فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان غیر جمہوری قوتوں کے بیانیہ سے نوجوان ضرور متاثر ہوتے ہیں۔

اس بناء پر ضروری ہے کہ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی اس رپورٹ پر پیپلز پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی چیئرمین شپ میں قائم قومی اسمبلی کی انسانی حقوق کی سلیکٹ کمیٹی غور کرے۔ یہ کمیٹی 2سال سے عملی طور پر متحرک نہیں ہے اور سلیکٹ کمیٹی کے ارکان روایتی طور پر اس رپورٹ کو مسترد کرنے کے بجائے رپورٹ میں اٹھائے گئے نکات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کریں اور جہاں ضروری ہو مظلوم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے قانون سازی کی جائے۔

Load Next Story