جبری مشقت کے ذریعے تیار کردہ اشیاء درآمد کرنے پر پابندی عائد
وفاقی حکومت نے جبری مشقت کے ذریعے اشیاء بنانے والے ممالک سے جبری مشقت سے تیار کردہ اشیاء درآمد کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے، ان ممالک سے درآمد کرنے والے درآمد کنندگان کے لیے متعلقہ دستاویزی ثبوت یا سرٹیفکیشن کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے وفاقی حکومت نے باضابطہ طور پر نوٹیفکیشن جاری کر دیا ہے جس کے ذریعے امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں ترامیم کر دی گئی ہیں۔
امپورٹ اینڈ ایکسپورٹ (کنٹرول) ایکٹ 1950 کی دفعہ تین کی ذیلی دفعہ (1) کے تحت حاصل اختیارات کو بروئے کار لاتے ہوئے امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں مزید ترامیم کے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق مذکورہ حکم نامے کے پیراگراف 7 میں ذیلی پیراگراف (2) کے بعد ایک نیا ذیلی پیراگراف (3) شامل کر دیا گیا ہے جس کے تحت ایسے ممالک یا اداروں سے اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کر دی گئی ہے جو مکمل یا جزوی طور پر جبری مشقت کے ذریعے تیار یا پیدا کی گئی ہوں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کی جانب سے ممنوعہ قرار دی جانے والی اشیاء کی روشنی میں وقتاً فوقتاً ان اشیا، اداروں اور ممالک کی فہرست جاری کی جائے گی جن پر یہ پابندی لاگو ہوگی۔
مزید برآں ان ممالک سے درآمد کرنے والے درآمد کنندگان کے لیے لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ متعلقہ دستاویزی ثبوت یا سرٹیفکیشن فراہم کریں جس سے یہ ثابت ہو سکے کہ درآمد کی جانے والی اشیا جبری مشقت کے ذریعے تیار یا پیدا نہیں کی گئی ہیں۔