محکمہ کچی آبادی کے افسر کی بار بار ترقی اور ملازمت کی بحالی پر عدالت کا اہم فیصلہ

امان اللہ شیخ نے سیاسی دباؤ کے ذریعے خود کو دوبارہ بحال کروایا اور 150 غیر قانونی بھرتیاں بھی کیں، درخواست گزار

(فوٹو: فائل)

کراچی:

محکمہ کچی آبادی کے افسر کی بار بار ترقی اور ملازمت کی بحالی پرعدالت نے اہم فیصلہ جاری کردیا۔

سندھ ہائیکورٹ میں محکمہ کچی آبادی کے افسر امان اللہ شیخ کی بار بار ترقی اور بحالی کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس میں عدالت نے ان کی ڈبل پروموشن اور ملازمت پر بحالی کو ختم کر دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ نظرثانی درخواست مسترد ہونے کے بعد دوبارہ نظرثانی درخواست دائر کرنا بھی غیرقانونی ہے۔

درخواست گزار کے وکیل صولت رضی ایڈووکیٹ نے مؤقف اختیار کیا کہ امان اللہ شیخ نے کئی بار غیرقانونی طور پر ترقی حاصل کی۔ 2013 میں سپریم کورٹ نے امان اللہ شیخ کی گریڈ 16 سے 18 تک ترقی کو غیرقانونی قرار دیا تھا، تاہم سپریم کورٹ کے حکم کے 3 ماہ بعد مذکورہ افسر نے خود کو بحال کروایا اور گریڈ 19 میں ترقی بھی حاصل کر لی۔

درخواست گزار کے مطابق گریڈ 19 میں ترقی کے بعد امان اللہ شیخ نے ڈیڑھ سو غیرقانونی بھرتیاں بھی کیں۔ وکیل نے مزید بتایا کہ چیئرمین کچی آبادی نے ان بھرتیوں پر امان اللہ شیخ کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا اور بعد ازاں انہیں ملازمت سے برطرف بھی کر دیا گیا۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ چیئرمین کچی آبادی نے برطرفی کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست بھی مسترد کر دی تھی، تاہم امان اللہ شیخ نے سیاسی دباؤ کے ذریعے خود کو دوبارہ بحال کروا لیا۔

Load Next Story