میانمار؛ سابق حکمراں آنگ سان سوچی کو فوجی حکومت نے جیل سے گھر میں نظر بند کردیا
میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد سے آنگ سان سوچی قید تھیں
میانمار کی فوجی حکومت نے نوبیل امن انعام یافتہ سابق حکمراں کو جیل سے ایک مخصوص رہائش گاہ میں نظربند کردیا گیا جہاں وہ اپنی سزا مکمل کریں گی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق 80 سالہ آنگ سان سوچی دارالحکومت نیپیداو میں مختلف مقدمات میں قید رکھا گیا تھا جن کی سزائیں مجموعی طور پر 33 سال تک پہنچ گئی تھیں تاہم بعد میں یہ سزائیں کم کر دی گئیں۔
ابھی یہ واضح نہیں کہ میانمار میں جمہوریت کی جدوجہد میں سختیاں جھیلنے پر نوبیل امن انعام حاصل کرنے والی آنگ سان سوچی نے موجودہ فوجی حکومت سے کوئی راضی نامہ کیا ہے یا طبعیت کے باعث انھیں گھر میں نظربند کیا گیا۔
آنگ سان سوچی نے ملک میں جمہوریت کی بحالی کے لیے طویل جدوجہد کی اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی تھیں جس پر1991 میں انھیں نوبیل امن انعام دیا گیا تھا۔ ان کے والد بھی ایک جمہوری رہنما تھے۔
بعد ازاں وہ بیرون ملک منتقل ہوگئی تھیں اور پھر دوبارہ اپنے ملک میں آکر سیاست میں حصہ لیا اور 2015 میں ان کی جماعت نے حکومت بنائی۔ ان کے پاس کوئی حکومتی عہدہ نہیں تھا لیکن میانمار کی اصل حکمراں وہی تھیں۔
البتہ 2021 میں فوج نے بغاوت کرکے حکومت کا تختہ الٹ دیا اور حکمراں آنگ سان سوچی کو گرفتار کرکے متعدد مقدمات میں قید کی سزائیں سنائی گئیں۔
انسانی حقوق کی تنظیموں اور بین الاقوامی سطح پر آنگ سان سوچی کی سزاؤں کو فوجی حکومت کے سیاسی بنیاد پر بنائے بوگس مقدمات کی سوچی سمجھی سازش قرار دیا گیا۔
علاوہ ازیں آنگ سان سوچی کی قانونی ٹیم اور اہل خانہ کو بھی گزشتہ کئی برسوں سے اُن کے ساتھ براہِ راست ملاقات یا رابطے کی اجازت نہیں دی گئی۔
آنگ سان سوچی کے بیٹے کِم آریس نے اس اعلان پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھیں اپنی والدہ کے زندہ ہونے یا مقام کے بارے میں کوئی واضح ثبوت نہیں ملا ہے اور ریاستی میڈیا کی جاری کردہ تصاویر پر ان کا اعتماد نہیں۔