ایران نے امریکا کیساتھ مذاکرات کیلیے نیا مسودہ پاکستان کے حوالے کردیا
ایران امریکا مذاکرات کل اسلام آباد میں متوقع ہیں
ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات کے لیے نئی تجاویز کا مسودہ ثالثی کے لیے پاکستان کو بھیج دیا۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے ارنا نے دعویٰ کیا ہے کہ جنگ بندی مذاکرات سے متعلق اپنی نئی تجاویز جمعرات کی شام پاکستان کے حوالے کی ہیں۔
اب یہ تجاویز پاکستانی حکومت امریکا کو ارسال کرے گی جس کے بعد ان کا جواب دیکھا جائے گا اور آنے والا جواب واپس ایرانی حکومت کو بھیجا جائے گا۔
#ایران متن تازهترین طرح مذاکراتی را به #میانجی_پاکستانی داد
ایران متن طرح مذاکراتی خود را شامگاه پنجشنبه ۱۰ اردیبهشت به #پاکستان به عنوان میانجی مذاکره با #ایالات_متحده، تحویل داده است. https://t.co/UaevvjflIy pic.twitter.com/AoeOYVgJFtاس حوالے سے تاحال فریقین کی جانب سے کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے اور نہ اس نئے مسودے سے متعلق کوئی معلومات مل سکی ہیں۔
تاہم ایک امریکی خبر رساں ویب سائٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کی اس نئی تجویز میں مرحلہ وار امن عمل کی بات کی گئی ہے، جس میں پہلے جنگ بندی کو مستحکم کرنا، پھر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا، اور بعد ازاں پیچیدہ معاملات جیسے جوہری پروگرام کو زیر بحث لانا شامل ہو سکتا ہے۔
یاد رہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کے اس پورے عمل میں پاکستان کلیدی ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان پیغامات کا تبادلہ کروا رہا ہے بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی اس عمل میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ پاکستان کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں جنگ بندی ممکن ہوئی اور مذاکرات کا سلسلہ جاری ہے تاہم کسی حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے دونوں فریقین کو بڑے سمجھوتے کرنا ہوں گے۔رائٹرز کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکا نے بعض ایرانی تجاویز پر تحفظات کا اظہار کیا تھا خاص طور پر اس بات پر کہ ایران جوہری پروگرام کے مسئلے کو فوری طور پر زیر بحث لانے کے بجائے مؤخر کرنا چاہتا ہے۔
رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ جوہری پروگرام پر یہی اختلافات اب تک کسی جامع امن معاہدے میں بڑی رکاوٹ سمجھے جا رہے ہیں۔