5 ایکڑ زمین کا اعلان
دنیا کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ زمین کی تقسیم کبھی آسان نہیں رہی۔ برازیل میں زمین کے لیے تحریکیں چلیں، قبضے ہوئے، خون بہتا رہا۔ بھارت میں زمینی اصلاحات کے باوجود تنازعات ختم نہ ہو سکے۔ جنوبی افریقہ میں زمین کی ملکیت آج بھی ایک سیاسی زخم ہے اور کراچی میں کیا ہو رہاہے ہر ایک جانتا ہے۔ اکثر سوسائٹیز جوکہ 1970/60 کے آس پاس ممبران کو الاٹ ہوئی تھیں اب کس طرح ان پر قبضہ مافیا قبضہ کرکے غیر الاٹیوں کو فروخت کر دیا کرتے ہیں۔ چند دن قبل وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کی جانب سے کسانوں کو مفت زمین دینے کا اعلان کیا گیا۔
یہ خبر حالیہ دنوں میں خاصی نمایاں رہی ہے اور دیگر صوبوں کی طرف سے اس طرح کے اقدامات اٹھانے کی توقع کی جا رہی ہے۔ مریم نواز کی اسکیم کے تحت ہر مستحق کسان کو تقریباً 5 ایکڑ زمین دی جائے گی۔ یہ زمین صرف 10 سالہ لیز پر ہوگی یعنی کرایہ اور قیمت ادا نہیں کرنا ہوگی، کسانوں سے کوئی فیس نہیں لی جائے گی اور فوری کاشت کے لیے 50 ہزار روپے سے ڈھائی لاکھ روپے تک گرانٹ بھی دی جائے گی۔ مجموعی طور پر اربوں روپے مالیت کی اراضی اس منصوبے میں شامل ہے۔ اس اسکیم کے ساتھ پنجاب حکومت نے دیگر مراعاتی اقدامات بھی جوڑے ہیں۔
لیکن یہ اعلان محض سرکاری اعلان بن کر نہیں رہ گیا بلکہ یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ بہت سی سرکاری زمینوں پر چاہے وہ بنجر کیوں نہ ہوں قبضہ ہو چکا ہے۔ بہت سی زمینوں کو آباد ہوئے کئی دہائیاں گزر چکی ہیں، مگر وہ زمین اب بھی سرکار کے ہی نام ہے۔ اس اسکیم کے اعلان نے بہت سے سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں کہ زمین کی تقسیم کے وقت مزاحمت کہاں سے اٹھے گی۔ کیا یہ زمین ابھی تک خالی ہے یا اس پر پہلے ہی غیر رسمی قبضہ ہے یا وہاں وہ لوگ رہتے ہیں اور کاشتکاری کرتے ہیں اور اس زمین کو اپنی محنت سے آباد کر چکے ہیں۔
پاکستان میں مختلف رپورٹس کے مطابق زمینوں کا ایک تہائی حصہ یا 20 سے 30 فی صد تک کسی نہ کسی شکل میں متنازع یا غیر واضح ملکیت کا شکار ہے اور یہی وہ بات ہو سکتی ہے جہاں ریاستی اعلان اور زمینی حقیقت ٹکرا سکتی ہے۔ اس اسکیم میں اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ ایک کسان کا خاندان جو پون صدی سے زمین تو کاشت کر رہا ہے مگر کبھی کاغذ حاصل کرنے کی یا بنوانے کی کوشش نہیں کی تو کیا اسے قابض قرار دے کر کسی اور کو الاٹ کر دیا جائے گا؟ یہ وہ سوال ہے جو اس اسکیم کے نفاذ کے وقت جگہ جگہ درپیش ہو سکتا ہے۔
پاکستان کی معیشت میں زراعت کا حصہ تقریباً ایک چوتھائی ہے۔ صرف 5 فیصد بڑے زمیندار تقریباً 64 فی صد زمین کے مالک ہیں اور لاکھوں کسان مکمل طور پر بے زمین ہیں۔ اس اسکیم کو نفاذ کے وقت کچھ باتوں کو مدنظر رکھنا ہوگا، زمین کا شفاف ریکارڈ ہونا چاہیے اور ایسا شفاف ریکارڈ ہونا چاہیے جوکہ تلہ گنگ کے دیہات نامی کتاب کے مصنف طارق محمود ملک نے برطانوی دور اور کہیں اس سے قبل مغلیہ دور میں غیر آباد زمینوں کو قابل کاشت بنانے کا جو نقشہ کھینچا ہے وہ آج بھی اپنی مثال آپ ہے۔ یہ کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ دیہی زندگی صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ ثقافت رشتے اور زمین سے جڑی تاریخ کا مجموعہ ہے۔
اس کتاب میں مصنف نے جس باریکی سے شجرہ نسب کی تاریخ اور ان خاندانوں نے کس طرح تلہ گنگ کے مختلف دیہاتوں کی غیر آباد زمینوں کو آباد کیا، تلہ گنگ کے ہر گاؤں میں کم از کم 60 سے 70 خاندانوں کے آباؤ اجداد جوکہ 600 سال یا 500 سال قبل آئے تھے۔ ہر گاؤں کے افراد کا شجرہ ہر زمین کا ایک قصہ، کون کب آیا، کس نے کنویں کھودے، کس نے بنجر زمین کو زرخیز بنایا ان سب باتوں کا انتہائی جانفشانی سے جائزہ لیا ہے کہ ہزاروں ایکڑ زمینوں کا سچ سامنے آ گیا۔انھوں نے بڑی جانفشانی سے ہر گاؤں میں زمین کی تقسیم کے متعلق معلومات فراہم کی ہیں۔ مثلاً تلہ گنگ کے قریب گاؤں اکوال کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’بندوبست قانونی ہنگام وراثت اور غیر وراثت 17 جولائی 1863 کو درج کیا گیا تھا۔ ‘‘تھوہا محرم خان کے بارے میں لکھا کہ 400 سال قبل محرم خان نے اس ویرانے کو آباد کیا تھا۔ اس کتاب میں تلہ گنگ کے دیہی علاقوں میں رہنے والے یا کہیں دور سے آنے والے ہندو اور اعوان خاندان کے افراد کے نام زمین کے حوالے سے تفصیلات فراہم کی ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ہندو اور سکھوں کے چلے جانے کے بعد بھی ان کے آبا و اجداد کے نام ان کی ’’گوتیں‘‘ اور زمین کے بارے میں تفصیل سے لکھا۔ تھوہا محرم خان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ چونکہ زمین کی بے قدری تھی اس لیے جس نے جتنا حصہ تصرف میں لے لیا اس کا حقدار ہوا، جس کا ذکر ’’مثل وراثت دیہہ میں جولائی 1864 میں درج کیا گیا تھا۔‘‘ تلہ گنگ کے دیہات نامی کتاب کے مصنف طارق محمود ملک نے شجرہ نسب کے ساتھ جڑی زمین کی تاریخ بیان کرکے دیگر علاقوں کے مصنفین کو دعوت عام دے دی تھی کہ وہ اپنے علاقوں کے بارے میں ایسی ہی تفصیلات کتابی شکل میں لے کر آئیں۔
اگرچہ اس سلسلے میں کئی علاقوں میں کچھ کام ہو چکا ہے اور کچھ کتابیں لکھی جا چکی ہیں لیکن اس کے باوجود ابھی بہت زیادہ تصنیفی کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کہیں کہیں زمین کے اصل حقداروں کا علم ہو سکے۔ اس طرح سے ناجائز قبضوں کا علم ہو سکتا ہے۔ اپنا کھیت اپنا روزگار اسکیم سے تقریباً 9 ہزار خاندان مستفید ہوں گے۔ 160 ارب روپے کا یہ منصوبہ ہے، زمینوں کی الاٹمنٹ کے وقت پہلے والے زمینداروں کو ترجیح دینا ہوگی اور زراعت کے شعبے سے وابستہ ایسے کسانوں کو الاٹ کیا جائے جو پہلے سے کاشتکاری تو کر رہے ہیں لیکن وہ بے زمین کسان ہیں انھی کو زمین الاٹ کی جائے ورنہ 5 ایکڑ زمین دینے کا اعلان بے مقصد ہو کر رہ جائے گا۔