امن اور انسانیت پر موقف عالمی ضمیر کی آواز

اگر مذہبی رہنما بھی خاموش رہیں گے تو دنیا میں اخلاقی آواز کمزور ہو جائے گی

امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدہ صورتحال اور جنگی جنون کے تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک بار پھر سخت بیانات کے باعث عالمی توجہ کا مرکز بن گئے ہیں۔

تازہ سیاسی بیانات میں وہ مذہبی رہنما پوپ لیو XIV کے حوالے سے بھی کھل کر سامنے آتے دکھائی دیتے ہیں، جس پر عالمی سطح پر مختلف ردِعمل سامنے آ رہا ہے۔

ٹرمپ کے ان مبینہ مؤقف اور بیانات کے بعد کیتھولک مسیحی حلقوں میں شدید بے چینی اور برہمی کی لہر دیکھی جا رہی ہے، جب کہ ناقدین کے مطابق اس نوعیت کی بیان بازی نہ صرف مذہبی ہم آہنگی کو متاثر کر سکتی ہے بلکہ عالمی سیاسی ماحول کو مزید کشیدہ بنانے کا باعث بھی بن سکتی ہے۔

عالمی منظرنامہ اس وقت سیاسی، مذہبی اور سفارتی کشمکش کے ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، بڑی طاقتوں کے درمیان بڑھتی ہوئی محاذ آرائی اور بین الاقوامی اداروں کی کمزور ہوتی ہوئی مؤثریت نے دنیا کو ایک غیر یقینی صورتِ حال سے دوچار کر رکھا ہے۔

ایسے میں مذہبی قیادت، بالخصوص کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پوپ لیو XIV کی حالیہ سرگرمیوں اور بیانات نے عالمی سطح پر ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔یہ لفظی جنگ اس وقت شروع ہوئی جب صدر ٹرمپ نے پوپ لیو کو ان کی امیگریشن اور خارجہ پالیسی (خصوصاً ایران کے معاملے میں) پر تنقید کرنے پر ’’خارجہ پالیسی کے لیے کمزور اور نقصان دہ‘‘ قرار دیا تھا۔

ٹرمپ نے یہاں تک کہا کہ وہ پوپ کے ’’بڑے مداح نہیں ہیں‘‘ اور انھیں سیاست میں دخل نہیں دینا۔ یہ بحث محض ایک مذہبی رہنما کے بیانات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے سیاست، اخلاقیات اور بین الاقوامی تعلقات کے درمیان حد ِ فاصل کے حوالے سے بھی کئی سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

پوپ لیو XIV کی شخصیت ویٹی کن سٹی اور عالمی کیتھولک برادری میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے، وہ نہ صرف مذہبی رہنما ہیں بلکہ کروڑوں افراد کے لیے اخلاقی رہنمائی کا ایک اہم ذریعہ بھی تصور کیے جاتے ہیں۔

پوپ کے عہدے کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ وہ عالمی سطح پر امن، برداشت، انسانی حقوق اور اخلاقی اصولوں کی نمائندگی کریں۔ پوپ لیو نے منصب سنبھالنے کے بعد اپنے ابتدائی خطابات ہی میں اس بات پر زور دیا تھا کہ دنیا کو تقسیم نہیں بلکہ اتحاد اور مکالمے کی ضرورت ہے۔

ان کے نزدیک مذہب کا بنیادی مقصد انسان کو انسان سے جوڑنا اور نفرت کے بجائے محبت کو فروغ دینا ہے۔حالیہ مہینوں میں پوپ لیو XIV نے دنیا میں جاری جنگوں اور بالخصوص مشرق وسطیٰ کے بحران پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔

انھوں نے اپنے ایک عالمی پیغام میں کہا کہ جنگیں انسانی تہذیب کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں اور اگر عالمی برادری نے بروقت سفارت کاری اور مذاکرات کا راستہ نہ اپنایا تو نتائج مزید تباہ کن ہو سکتے ہیں۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ طاقت کا استعمال ہمیشہ حل نہیں ہوتا بلکہ اکثر اوقات یہ مسائل کو مزید پیچیدہ بنا دیتا ہے۔ ان کے مطابق دنیا کو اس وقت’’ہتھیاروں کی دوڑ‘‘نہیں بلکہ ’’امن کی دوڑ‘‘کی ضرورت ہے، اگرچہ انھوں نے کسی کا نام نہیں لیا، تاہم ان کا اشارہ بظاہر Donald Trump کی انتظامیہ کی طرف تھا، جس پر الزام ہے کہ وہ عیسائی قوم پرستی کو استعمال کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کو جواز فراہم کر رہی ہے۔

پوپ نے اپنے سرکاری ایکس (سابقہ ٹوئٹر) اکاؤنٹ پر لکھا:’’خدا کسی بھی تنازعے کو برکت نہیں دیتا جو کوئی مسیح، یعنی امن کے شہزادے کا پیروکار ہے، وہ کبھی اُن لوگوں کے ساتھ نہیں ہو سکتا جو کبھی تلوار اٹھاتے تھے اور آج بم گراتے ہیں۔‘‘

انھوں نے مزید کہا’’فوجی کارروائی نہ آزادی کے لیے جگہ پیدا کرے گی اور نہ ہی امن لائے گی۔ امن صرف عوام کے درمیان بقائے باہمی اور مکالمے کے صبر آزما عمل سے ہی ممکن ہے۔‘‘ دوسری جانب ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ عہدیدار مسلسل مذہبی زبان استعمال کرتے ہوئے یہ تاثر دیتے رہے ہیں کہ امریکا کی ایران کے خلاف کارروائیاں خدائی حمایت سے ہو رہی ہیں، جب کہ ساتھ ہی’’تباہی اور موت‘‘کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔

جب ٹرمپ نے دھمکی دی کہ اگر ایران نے آبنائے ہرمز نہ کھولی تو ’’ ایک پوری تہذیب آج رات ختم ہو سکتی ہے‘‘، تو پوپ لیو نے اس بیان کو’’بالکل ناقابل قبول‘‘قرار دیا۔یہ بیانات عالمی میڈیا میں نمایاں طور پر رپورٹ ہوئے اور مختلف ممالک میں ان پر مختلف ردعمل سامنے آیا۔

کچھ حلقوں نے اسے اخلاقی جرات قرار دیا جب کہ بعض سیاسی مبصرین نے اسے سفارتی معاملات میں مذہبی مداخلت کے طور پر دیکھا۔اسی دوران امریکا کی سیاسی فضا میں بھی اس معاملے نے جگہ بنائی، جہاں سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پوپ لیو کے بعض بیانات پر تنقید کی۔

ٹرمپ نے ان بیانات کو’’سیاسی طور پر غیر حقیقت پسندانہ‘‘قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی سیاست میں طاقت اور عملی اقدامات زیادہ اہم ہیں۔ان کے مطابق صرف امن کی اپیلیں زمینی حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتیں، بلکہ اس کے لیے مضبوط پالیسی اور سخت فیصلے درکار ہوتے ہیں۔

اس تنقید کے بعد یہ معاملہ صرف مذہبی یا اخلاقی بحث نہیں رہا بلکہ ایک سیاسی بحث کی شکل اختیار کر گیا، جس میں مذہب اور ریاست کے کردار پر سوالات اٹھنے لگے۔

پوپ لیو کا مؤقف:ان تنقیدوں کے جواب میں پوپ لیو XIV نے اپنے مؤقف کو مزید واضح کرتے ہوئے کہا کہ ان کی باتیں کسی سیاسی جماعت یا ملک کے خلاف نہیں ہیں۔ انھوں نے زور دیا کہ مذہبی قیادت کا بنیادی کام انسانیت کی خدمت اور امن کی حمایت کرنا ہے۔

ان کے مطابق اگر مذہبی رہنما بھی خاموش رہیں گے تو دنیا میں اخلاقی آواز کمزور ہو جائے گی۔ پوپ نے کہا کہ وہ کسی دباؤ کے سامنے اپنی اخلاقی ذمے داری سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور انسانیت کے حق میں آواز بلند کرتے رہیں گے۔

اسی عرصے میں پوپ لیو XIV نے افریقہ کے مختلف ممالک کا دورہ بھی کیا۔ اس دورے کا مقصد مذہبی ہم آہنگی، سماجی انصاف اور غربت کے خاتمے جیسے موضوعات پر توجہ دلانا تھا۔افریقی خطے میں اپنے خطابات کے دوران انھوں نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ دنیا میں پائیدار امن صرف اس وقت ممکن ہے جب معاشی ناہمواریوں، مذہبی انتہا پسندی اور سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ کیا جائے۔

انھوں نے نوجوانوں کو خاص طور پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ وہ نفرت انگیز نظریات سے دور رہیں اور علم، برداشت اور مکالمے کو فروغ دیں۔ موجودہ عالمی صورتحال کو دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ دنیا پہلے ہی کئی بحرانوں سے گزر رہی ہے۔

توانائی کا بحران، معاشی عدم استحکام، علاقائی جنگیں اور ماحولیاتی مسائل نے عالمی نظام کو دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔ایسے میں پوپ لیو XIV جیسے عالمی رہنماؤں کے بیانات ایک علامتی اہمیت بھی رکھتے ہیں۔

پوپ لیو XIV کے حالیہ بیانات اور ان پر ہونے والا ردعمل اس بات کا ثبوت ہے کہ آج کی دنیا میں مذہب، سیاست اور اخلاقیات ایک دوسرے سے مکمل طور پر الگ نہیں رہ سکتے۔ ہر فریق اپنے زاویے سے سچائی بیان کرتا ہے، لیکن اصل ضرورت ایک ایسے توازن کی ہے جہاں طاقت اور اصول دونوں ساتھ چل سکیں۔

پوپ لیو کا پیغام اخلاقی موقف کے طور پر دیکھا جائے، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی بنیادی دعوت امن، برداشت اور انسانی اقدار کی بقا کے گرد گھومتی ہے۔دنیا کو اس وقت جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ یہی پیغام ہے کہ اختلافات کے باوجود مکالمے کا دروازہ کھلا رکھا جائے اور جنگ کو آخری نہیں بلکہ سب سے کمزور راستہ سمجھا جائے۔

Load Next Story