سندھ میں سیاہ کاری کے بڑھتے واقعات
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ خواجہ سراؤں کی رہنما ڈاکٹر محرب اعوان نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگر سندھ نہ ہوتا تو شاید ہمارے لیے پاکستان میں کوئی جائے پناہ نہ ہوتی۔ امر جلیل کے خلاف جب فتویٰ دیا گیا تھا ،تب بھی سندھ نے زبردست مزاحمت دکھائی تھی۔
ڈاکٹر شاہنواز کنبھار کی پولیس کے ہاتھوں پٹائی کرنے کے واقعے کے بعد بھی سندھ نے اپنے شعور کا زبردست مظاہرہ کیا تھا۔ سندھ کی باشعور خواتین نے خیرپور کے علاقے ٹنڈو مستی میں کاری کرکے قتل کی گئی، روبینہ عرف خالدہ چانڈیو جسے بے گور و کفن دفن کیا گیا تھا، اس کی قبر پر اجرک اور پھولوں کی چادر چڑھائی اور نماز جنازہ بھی ادا کی۔
ان کی اس ہمت پر انھیں داد دینی پڑے گی۔ مگر افسوس کہ اس کے باوجود سندھ میں کارو کاری کی وارداتوں میں اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے اور اس حوالے سے قانون نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی۔ جاہل لوگ اپنی بچیوں کو سرعام بہیمانہ طریقے سے بے عزت اور قتل کرکے فخر محسوس کرتے ہیں، معاشرے میں ان کو غیرت مند سمجھا جاتا ہے۔
اس حوالے سے نامور دانشور پروفیسر اعجاز قریشی نے حالیہ دنوں ایک تقریب میں کہا ہے کہ سندھ کے لوگ اپنی غیرت کو اپنی معصوم بچیوں کے بجائے دھرتی سے جوڑیں۔ ان کی اس بات سے شاید ہی کوئی اختلاف رائے کرے مگر ان روح فرسا واقعات کو کس طرح روکا جا سکتا ہے۔
جہاں تک قانون سازی کا تعلق ہے تو سندھ اسمبلی ان واقعات کی روک تھام کے لیے بہت حد تک قانون سازی کرچکی ہے ،تاہم اس پر عملدرآمد کے معاملے میں سندھ کی جاگیردارانہ سوچ بہت بڑی رکاوٹ ہے جن کے قبضے میں پولیس اور انتظامیہ دونوں ہیں۔
حال ہی میں ام رباب چانڈیو کے تہرے قتل کیس میں جو فیصلہ ہوا اس سے سندھ کے شعور کو بہت بڑا دھچکا لگا ہے۔ عالمی سطح پر انصاف کی فراہمی میں پاکستان کی عدلیہ کس نمبر پر آتی ہے؟ ورلڈ جسٹس پروجیکٹ (WJP) کی 2025 کی رپورٹ کے مطابق، پاکستان انصاف کی فراہمی اور قانون کی حکمرانی (Rule of Law) کے عالمی انڈیکس میں 143 ممالک میں سے 130ویں نمبر پر ہے۔
یعنی پاکستان کی عدلیہ عالمی درجہ بندی میں 143 ممالک کی فہرست میں 130ویں پوزیشن پر ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ملک میں قانون کی بالادستی اور عدالتی آزادی کو چیلنجز کا سامنا ہے، جب کہ جنوبی ایشیا کے چھ ممالک میں پاکستان پانچویں نمبر پر ہے۔
بنیادی حقوق کی فراہمی میں پاکستان 125ویں اور دیوانی انصاف (Civil Justice) میں 128ویں نمبر پر ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں قانون کی حکمرانی کمزور ہو رہی ہے۔
ان تمام عوامل سے پتہ چلتا ہے کہ پاکستان میں سزا کا قانون صرف کمزور کے لیے ہے۔ اس حوالے سے ایک کہاوت بڑی مشہور ہے کہ ’’قانون وہ جال ہے جس میں کمزور پھنس جاتا ہے اور طاقتور اسے توڑ کر نکل جاتا ہے۔‘‘ آج تک سوائے چند ایک واقعات میں شاذرونادر ہی کسی طاقتور کو سزا ملی ہو۔
اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ 7اپریل کو باقرانی (ضلع لاڑکانہ) میں دو نوجوان شادی شدہ لڑکیوں نغمہ جتوئی اور شاہدہ جتوئی کو گولیاں مارکر قتل کیا گیا ہے۔ اسی طرح ٹنڈو مستی خیرپور میں ایک نوجوان لڑکی خالدہ چانڈیو کو جب کہ ہالا کے قریب گیارہویں جماعت کی طالبہ شمائلہ چانڈیو کو شادی سے انکار اور پڑھائی جاری رکھنے کا اصرار کرنے پر قتل کردیا گیا۔
میرپورخاص میں میڈیکل کی طالبہ فہمیدہ لغاری نے مبینہ طور پر اساتذہ کی جانب سے جنسی ہراسانی سے پریشان ہوکر خودکشی کرلی۔ کراچی میں ایک 13 سالہ مسیحی لڑکی مقدس جنسی زیادتی کی وجہ سے اسپتال میں دم توڑ گئی۔
بلدیہ ٹاؤن میں مبینہ طور پر سابقہ شوہر شوکت نے گھر میں گھس کر ایک35 سالہ عورت سمعیہ اور اس کے دو بیٹوں 14سالہ شہروز اور 12 سالہ عبداللہ کو قتل کیا اور فرار ہوگیا۔
میہڑ میں ایک گیارہ سالہ طالبہ شبانہ کھوسو کو صرف جنسی ہراسانی کی وجہ سے اسکول چھوڑنا پڑا مگر اس کے باوجود ملزمان نے اسے اغوا کیا اور کچھ دن بعد چھوڑ دیا، جب کہ نوشہرو فیروز سے دو بہنوں17سالہ ریشماں اور 8 سالہ جوائی کلو کو اغوا کرلیا گیا ہے۔
تاحال پولیس انھیں بازیاب کرانے میں ناکام رہی ہے۔ جب کہ ایسے ان گنت واقعات کو لوگ صرف اس وجہ سے چھپاتے ہیں کہ ان کو اپنی عزت اچھالے جانے کا خوف ہوتا ہے۔
گزشتہ تین ماہ کے دوران سندھ میں کاروکاری/سیاہ کاری کے الزام میں 27خواتین سمیت 37 افراد قتل ہوئے ہیں۔ سب سے 18 واقعات لاڑکانہ میں وقوع پذیر ہوئے ہیں۔
ان واقعات کو حکومت عدلیہ کو موثر بناکر بآسانی روک سکتی ہے، کیونکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے کم از کم میری نظروں سے کم ہی کوئی ایسی خبر سامنے آئی ہے جس میں کسی وڈیرے، جاگیردار، میر، پیر یا سرمایہ دار کی کوئی لڑکی اغوا کی گئی ہو؟
صرف کمزوروں کی لڑکیوں کے اغوا کی خبریں آتی رہتی ہیں ۔ ان واقعات کو روکنے کے لیے جو قوانین بنائے گئے ہیں وہ غیر موثر رہے ہیں جس کی ذمے دار پولیس اور انتظامیہ ہے۔ حکومت نے اپنے اراکین اسمبلی کو علاقے بانٹ دیے ہیں جہاں وہ سیاہ و سفید کے مالک ہیں اور انھیں چیلنج کرنے والا کوئی نہیں۔
جس کا ثبوت مورو واقعہ ہے جس میں دو افراد قتل اور کئی زخمی ہوگئے مگر ملزم ایک بھی گرفتار نہ ہوا، اگر یہی سلسلہ چلتا رہا تو انصاف کے جنازے کو شاید کوئی کندھا دینے والا بھی نہ مل پائے۔