کیا بلوچوں میں بھی ادیب و شاعر ہیں؟
یادش بخیر! یہ سن نوے کی دہائی کی بات ہے جب میں اکیڈمی ادبیات پاکستان کے سندھ کراچی ریجنل دفتر میں بطور فری لانسر کتابوں،مضامین اور دیگر تحریروں کی ایڈیٹنگ اور پروف ریڈنگ کیا کرتا تھا۔ان دنوںآغا نور محمد پٹھان، اکیڈمی ادبیات پاکستان سندھ کے ریجنل ڈائریکٹر تھے اور ممتاز صحافی و کالم نگار نذیر ناجی اکیڈمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین تھے،جب کہ ملک کے وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف تھے۔
اکیڈمی ادبیات پاکستان میں ملک کے عظیم شاعروں،ادیبوں، صحافیوں،کالم نگاروں اور سیاسی و سماجی شخصیات کا آنا جانا لگا رہتا تھا اور مجھے ان سے ملنے ان سے بات چیت کرنے اور ان کے زریں خیالات سننے کا شرف حاصل رہا ہے۔
جن میں جمیل الدین عالی، جمیل جالبی، محسن بھوپالی، آفاق صدیقی،خیال آفاقی، عصمت پٹیل، احفاظ الرحمان ، بابا نجمی اور بہت سارے نام ہیں۔
یہاں ایک یادگار تاریخی واقعہ یہ پیش آیا کہ اکیڈمی ادبیات پاکستان سندھ کراچی کے جس کمرے میں ایک کتاب کی ایڈیٹنگ کرنے میں مصروف تھا وہاں ایک فیکس مشین بھی تھی۔اسی اثناء میں فیکس مشین سے ایک فیکس آیا یعنی ایک تحریری کاغذ نمودار ہوا۔
جسے فیکس مشین کی منہ سے نکالا اور دیکھا کہ یہ فیکس اسلام آباد سے اکیڈمی ادبیات پاکستان کے چیئرمین نذیر ناجی کی جانب سے جاری کردہ ہے۔ میں اسے ایک نظر پڑھنے لگا اور حیران رہ گیا۔ اس فیکس تحریر کی لب و لباب یہ تھا کہ اکیڈمی ادبیات پاکستان، سندھ کے عظیم صوفی شاعر شاہ عبد اللطیف بھٹائی کے نام سے منسوب’’ شاہ لطیف کمال ایوارڈ‘‘ کا اجراء کرنا چاہ رہا ہے جو کہ ملک بھر کے مادری زبانوں کے ادیبوں اور شاعروں کو دیا جائے گا۔
اس تحریر میں اردو، سندھی، پشتو، پنجابی، گجراتی، سرائیکی اور دیگر مادری زبانوں کے ادیبوں اور شاعروں کا ذکر تھا کہ اور ہدایت کی گئی تھی کہ ان علاقائی ادیبوں اور شاعروں کے ناموں کی فہرست ارسال کی جائے تاکہ انھیں اس ایوارڈ کے لیے نامزد کیا جاسکے۔
یہ سب پڑھنے کے بعد میری بلوچیت نے مجھے آواز دی کہ ان ناموں میں بلوچ زبان کے ادیبوں اور شاعروں کا ذکر نہیں ہے۔ یہ کیسے ہوسکتا ہے؟اس فیکس تحریر کو لے کر میں دوسرے کمرے کی طرف چل پڑا ، جہاں ریجنل ڈائریکٹر آغا نور محمد پٹھان تشریف فرما تھے۔
سلام کرکے میں کمرے میں داخل ہوا اور انھیں یہ فیکس تحریر پیش کی۔انھوں نے اسے پڑھا اور اپنے سامنے میز پر رکھ دیا۔ میں نے ریجنل ڈائریکٹر کو ادب سے مخاطب کرتے ہوئے عرض کی ۔’’جناب اس میں بلوچی زبان کے ادیبوں اور شاعروں کا ذکر موجود نہیں ہے۔کیا انھیں اس ایوارڈ سے نوازا نہیں جائیگا؟
یہ سن کر آغا صاحب نے حیرت سے کہا ۔’’کیا بلوچوں میں بھی ادیب و شاعر ہیں؟‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ’’ بلوچوں میں تو دو ہی ادیب و شاعر ہیں۔ایک گل خان نصیر اور دوسرا عطا شاد۔‘‘
یہ سن کر میں چونک اٹھا بلکہ تڑپ اٹھا اور کہا کہ’’ جناب صوبہ بلوچستان ہو یا کہ صوبہ سندھ کراچی ہو یا پھرکراچی کا قدیمی علاقہ لیاری اور دنیا بھر میں جہاں جہاں بلوچ آباد ہیں وہاں بلوچ ادیبوں اور شاعروں کی بڑی تعداد ہے اور ان کی کتابیں بھی ہیں۔دور جانے کی ضرورت نہیں صرف لیاری کے اندر پتھر اٹھاؤ تو نیچے سے ادیب و شاعر نکلیں گے۔ ایسا میں نے محاورتاً کہا۔
یہ سن کر آغا صاحب نے تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ’’ پھر وہ نظر کیوں نہیں آتے؟ یعنی لیاری سے باہر کیوں نہیں نکلتے تاکہ لوگوں میں ان کی پہچان بنیں۔‘‘
میں نے کہا کہ انھیں صرف بلوچ قارئین پڑھتے ہیں کیوں کہ ان کی تخلیقات صرف بلوچ زبان میں لکھی ہوئی ہوتی ہیں۔
آغا صاحب نے کہا کہ’’ انھیں چاہیے کہ وہ اپنی تخلیقات کا اردو ترجمہ شائع کرائیں۔ ‘‘
میں نے کہا کہ ’’ وہ غریب لوگ ہیں ان کے پاس وسائل نہیں ہیں۔‘‘
یہ سن کر آغا صاحب نے کہا کہ ’’کیا تم مجھے ان بلوچ ادیبوں اور شاعروں سے ملوا سکتے ہو؟‘‘
میں نے کہا’’ ضرور، میں انھیں یہی دفتر میں اپنے ساتھ لاؤں گا۔‘‘
ملاقات کا وقت طے ہوگیا۔
لیاری میں سب سے پہلے میں نے نوجوان بلوچ شاعر عبد القیوم پنا سے رابطہ کیا جو میرے عزیز بھی ہیں۔ انھیں میں نے سارا قصہ بیان کیا۔ انھوں نے لیاری سے وابستہ بلوچ ادیبوں اور شاعروں سے رابطے کرنے کا وقت مقرر کیا ۔سب سے پہلے ہم مہاجر کیمپ گئے جہاں بلوچ ادیب عبد الغنی پرواز رہائش پذیر تھے جو فرزند لیاری تھے بعد میں مہاجر کیمپ میں جا بسے تھے۔
اس کے بعد ہم ایک اور بلوچ ادیب سے ملے ان کا پورا نام یاد نہیں آرہا، البتہ نشانی کے طور پر یہ بتاتا ہوں کے ان کے نام کے آخر میں زئی آتا تھا اور معروف بلوچ ادیب و دانشور سید ہاشمی کے انتقال کے بعد ان کی کتاب’’ سید گنج ‘‘جو کہ بلوچی زبان کی پہلی مکمل ڈکشنری کی چھپائی ان کے ذمہ تھی۔
لیاری کے فرزند سندھی زبان کے ادیب و مصنف جمن ہالو کے فرزند اصغر ہالو سے بھی میں نے ملاقات کی جو کہ پاکستان نیشنل شپنگ کارپوریشن، پی این ایس سی کے افسر ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر بھی تھے ان کو بھی صورت حال سے آگاہ کیا اور ساتھ چلنے کی دعوت دی۔
اسی طرح میں اور قیوم پنا ہر ایک بلوچ ادیب و شاعر سے ملتے رہے اور ان سے اکیڈمی ادبیات پاکستان جانے کے وقت و تاریخ طے کرتے رہے اور ان کو تاکید کرتا رہا کہ وہ اپنے ساتھ اپنی تخلیقات کی کتابوں کو بھی ہمراہ لائیں۔
بعد ازاں ہم سب تقریبا دس بارہ افراد مقررہ وقت اور تاریخ کے مطابق اکیڈمی ادبیات پاکستان کے دفتر پہنچے ،جہاں آغا صاحب نے خوش آمدید کے کلمات کہے۔ میں نے ان بلوچ ادیبوں اور شاعروں کا فرداً فرداً تعارف کرایا اور ان کی کتابوں کو انھیں پیش کیا۔
یہ سب کچھ جان کر ریجنل ڈائریکٹر آغا نور محمد پٹھان کو جیسے کوئی خزانہ ہاتھ آگیا ہو ۔ بہت ہی خوشی کا اظہار کیا اور باتوں باتوں میں آغا نور محمد پٹھان نے دستیاب علاقائی زبانوں پر مشتمل ادیبوں اور شاعروں کی ماہ وار نشست۔’’شام گل دستہ‘‘ کا اہتمام کرنے کا اعلان کیا جس میں ہر زبان کے ادیب اور شاعر کو اپنی تخلیقات پیش کرنے کی آزادی تھی۔
یہ سلسلہ کافی عرصے تک جاری رہا اور ایک کامیاب تجربہ ثابت ہوا ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ میں نے ریجنل ڈائریکٹر آغا نور محمد پٹھان سے’’ سید گنج‘‘ کی چھپائی کے حوالے سے مالی تعاون کی درخواست کی اور لیاری سے وابستہ بلوچ ادیبوں و شاعروں کی تخلیقات کو منظر عام پر لانے اور ان کی اردو ترجمہ کرنے کے بابت اخراجات برداشت کرنے کی استدعا کی۔
میں اس وقت تک اکیڈمی ادبیات پاکستان سے وابستہ رہا جب تک کراچی کے حالات قدرے بہتر تھے ، بعد ازاں کراچی کے حالات ایسے خطرناک ہوگئے تھے کہ گھر سے باہر نکلنا بھی محال تھا،اگر مجبوری کے تحت نکلنا اشد ضروری ہوتا تو گھر والے زندہ سلامت واپسی کے لیے دعائیں مانگا کرتے تھے۔
ان دنوں لیاری کراچی کا واحد علا قہ تھا جو امن کا گہوارہ تھا اور کراچی کے حالات سے تنگ خاندان کے خاندان، لیاری میں پناہ لینے آتے تھے۔ مگر تعصب زدہ میڈیا نے کراچی میں خون ریز واقعات کو کوئی بدنما نام نہیں دیا جب کہ متحدہ قومی موومنٹ اور مہاجر قومی موومنٹ ایک دوسرے کے خلاف صف آراء تھے۔
بس اس دہشت گردی خون ریزی اور غارت گری کو نامعلوم افراد کے نام سے منسوب کیا کرتے تھے ۔ اس کے کئی سالوں بعد جب لیاری میں بھی کراچی کے بھیانک سائے پڑگئے تو تعصب زدہ میڈیا نے لیاری کو بدنام زمانہ نام’’ گینگ وار‘‘ سے منسوب کیا اور حقائق سے ہٹ کر بھی من گھڑت قصے کہانیوں سے لیاری کا میڈیا ٹرائل کیا گیا۔
خیر چھوڑیں۔ ان باتوں میں اب رکھا بھی کیا ہے؟۔ سب کے سب قصہ پارینہ بن گئے ہیں۔الغرض یہ کہ بلوچ قوم میں لاتعداد ادیب و شاعر بھی رہ چکے ہیں اور موجود بھی ہیں اور ان کی تخلیقات منظر عام پر جلوہ گر ہوتی رہتی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ بلوچ ادیبوں اور شعراء کی اپنی جدا گانہ دنیا ہے، یہ اسی میں مگن رہتے ہیں۔