ایران؛ نوبیل انعام یافتہ نرگس محمدی دل میں شدید تکلیف کے باعث جیل سے اسپتال منتقل
نوبیل انعام یافتہ نرگس محمدی دل کے عرضے کے باعث جیل سے اسپتال منتقل
ایران میں قید انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور امن کے نوبیل انعام یافتہ نرگس محمدی کو شدید قلبی عارضے کے باعث جیل سے ہنگامی طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات اُس فاؤنڈیشن نے بتائی جس سے نرگس محمدی منسلک تھیں۔ نرگس محمدی ایران کے شہر زنجان کی جیل میں قید ہیں۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ نرگس محمدی کی صحت میں اچانک اور خطرناک حد تک بگاڑ پیدا ہوا جس کے باعث فوری طبی امداد ناگزیر ہو گئی۔
فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ نرگس محمدی کو جیل میں دو مرتبہ مکمل بے ہوشی کے دورے پڑے اور انھیں شدید نوعیت کا دل کا مسئلہ لاحق ہوا۔
بعد ازاں جیل حکام نے انھیں قریبی اسپتال منتقل کیا۔ جہاں ان کا علاج جاری ہے تاہم ایرانی حکومت کی جانب سے کوئی بیان سامنے نہیں آیا۔
ان کے وکلا نے بتایا کہ مارچ کے آخر میں نرگس محمدی کو دل کا دورہ پڑنے کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا۔ جب وکلا نے ملاقات کی تو وہ انتہائی کمزور، زرد چہرہ اور چلنے کے لیے مدد کی محتاج تھیں۔
فاؤنڈیشن نے الزام عائد کیا ہے کہ نرگس محمدی کی صحت کی یہ سنگین حالت تقریباً 140 دنوں کی “منظم طبی غفلت” کا نتیجہ ہے جو ان کی گرفتاری (12 دسمبر) کے بعد سے جاری تھی۔
بیان میں کہا گیا کہ اگرچہ ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم کے ذریعے تہران میں علاج کی سفارش پہلے سے موجود تھی تاہم اس پر عمل نہیں کیا گیا۔
فاؤنڈیشن کا کہنا ہے کہ اسپتال منتقلی اس وقت عمل میں آئی جب جیل کے ڈاکٹروں نے تسلیم کیا کہ نرگس محمدی کی حالت کو جیل میں سنبھالنا ممکن نہیں رہا۔ اس کے بعد انہیں فوری طور پر طبی مرکز منتقل کیا گیا تاکہ ان کی جان بچائی جا سکے۔
یاد رہے کہ ایران کی معروف انسانی حقوق کی کارکن نرگس محمدی کو سال 2023 میں نوبیل امن انعام سے نوازا گیا۔ یہ اعزاز انھیں ایران میں خواتین کے حقوق کے لیے جدوجہد، سزائے موت کے خلاف مسلسل آواز اٹھانے اور انسانی آزادیوں کے فروغ کے اعتراف میں دیا گیا۔
وہ اس وقت جیل میں قید تھیں اس لیے انہوں نے یہ انعام ذاتی طور پر وصول نہیں کیا بلکہ ان کے اہلِ خانہ نے اوسلو میں منعقدہ تقریب میں ان کی نمائندگی کی۔
نرگس محمدی طویل عرصے سے ایران میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف سرگرم ہیں اور انہیں متعدد بار گرفتاری اور قید کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اس کے باوجود وہ اپنی جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔