اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کیلیے جاسوسی؛ ایران میں 2 افراد کو پھانسی دیدی گئی

 وہ 1980 سے 1988 تک ایران عراق جنگ میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹس کے طور پر کام کر رہے تھے

داعش سے تعلق رکھنے والے دو جنگجوؤں نے زائرین کی بس میں بم نصب کیا تھا

ایران میں اسرائیل کے خفیہ ادارے موساد کے لیے جاسوسی کے الزام میں دو افراد کو پھانسی پر لٹکا دیا گیا جب کہ گزشتہ روز بھی ایک نوجوان کو سزائے موت دی گئی تھی۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تنسیم نیوز کے مطابق یعقوب کریمپور اور ناصر بقرزادہ پر الزام تھا کہ وہ 1980 سے 1988 تک ایران عراق جنگ میں اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے ایجنٹس کے طور پر کام کر رہے تھے۔

ایران کی سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود دستاویز سے پتا چلتا ہے کہ ملزمان پر موساد کے ساتھ تعاون کرنے کے عوض ڈیجیٹل فنڈنگ بھی ملتی تھی۔ ملزمان موساد سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعے رابطے میں تھے۔

دونوں ملزمان نے اہم ترین جوہری تنصیب نطنز کے ساتھ ساتھ حساس مقامات سے متعلق معلومات اور ڈیٹا جمع کرکے موساد کو فراہم کیا تھا۔ جس سے ملک کی قومی سلامتی خطرے میں پڑ گئی۔

ملزمان کو گرفتاری کے بعد مقامی عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سزائے موت سنائی گئی جسے سپریم کورٹ نے بھی برقرار رکھا جس کی تعمیل میں آج صبح دونوں مجرموں کو پھانسی دیدی گئی۔

 

 

Load Next Story