انٹرفیتھ شادیوں کا رحجان
قیام پاکستان کا فیصلہ مسلمانوں کے حق میں بہتر تھا یا نہیں، یہ سوال آج بھی اکثر سامنے آجاتا ہے خاص کر بھار ت میں رہنے والے مسلمانوں کے مختلف معاملات کے باعث یہ سوال آج بھی زندہ ہے۔ راقم کے ایک قاری نے سوشل میڈیا کی ایک پوسٹ ہماری توجہ کے لیے بھیجی ہے جس میں یہ سوال ایک بار پھراٹھایا گیا ہے۔
اس ضمن میں پوسٹ میں ایک بھارتی مسلمان صحافی کچھ اس قسم کے خیالات کا اظہار کر رہے ہیں کہ’’ مذہب تبدیلی یعنی کنورجن کی رفتار ہر سال پچھلے سال کے مقابلے میں بڑھ رہی ہے، اب یہ بات نہیں ہے کہ صرف فلم ایکٹر مذہب تبدیل کر رہے ہیں یا ملحد بن رہے ہیں، اب تو مڈل کلاس کی لڑکیاں بھی مذہب تبدیلی کر رہی ہیں۔‘‘
اس قاری کا خیال ہے کہ ہمارے بزرگوں نے ایسے معاملات سے بچنے کے لیے ہی پاکستان بنایا تھا۔ کثیر المذہبی سماج میں بسنے والوں کے ساتھ رہنے کا یہی مسئلہ ہوتا ہے ، والدین کو اولادکی جانب سے مذہب تبدیلی یا انٹر فیتھ میرج یا لوافیئر کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ تمام والدین کے لیے یہ صورتحال یقینا فکر انگیز ہوتی ہے جس کااندازہ مختلف اعدادوشمار سے بھی ہوتا ہے۔
مثلاًبین الاقوامی ادارے ’’پیو ریسرچ سینٹر‘‘کی چند برس قبل جاری کی جانے والی سروے رپورٹ کے مطابق 80 فیصد مسلمان کسی دوسرے مذاہب میں شادیوں کے خلاف ہیں،گویا 20 فیصد ایسے مسلمان بھی ہیں جن کے نزدیک مذہب کی تبدیلی کوئی مسئلہ نہیں، یہ حیرت انگیز بات ہے۔
بھارت میں تو ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ جب کوئی غیرمسلم لڑکی کسی مسلم لڑکے سے محبت کی شادی کرتی ہے اور مرضی سے اپنا مذہب تبدیل کرتی ہے تو انتہا پسند ہندو اس کو ’’لو جہاد‘‘قرار دیتے ہیں۔
دائیں بازو کی ہندو نوازتنظیموں کا الزام ہے کہ مسلم نوجوان ایک سازش کے تحت غیر مسلم لڑکیوں کو اپنی محبت میںپھنساتے ہیں اور پھر ان سے شادی کرکے جبراً ان کا مذہب تبدیل کرا دیتے ہیں تاہم پیوریسرچ سینٹر کی رپورٹ بتاتی ہے کہ ’’لوجہاد‘‘کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ یہ ایک سیاسی پروپیگنڈہ ہے اور لوگوں کو اکسانے کے لیے اس کا اختراع کیا گیا ہے۔
بھارت میں شوبز کی دنیا میں ایسی شادیاں عام ہیں جن میں دلہا اور دلہن کا مذہب الگ ہوتا ہے۔ مثلاً شاہ رخ خان (مسلم) اور گوری خان (ہندو) جوکہ بالی ووڈ کے سب سے کامیاب اور معروف بین المذاہب جوڑوں میں سے ایک ہیں، اسی طرح مزید دیگر شخصیات سیف علی خان (مسلم) اور کرینہ کپور (ہندو)، عامر خان (مسلم) اور کرن راؤ (ہندو)، سنیل دت (ہندو) اور نرگس (مسلم)، ریتک روشن (ہندو) اور سوزین خان (مسلم)، فرح خان (مسلم) اورسریش کندر (ہندو)، زاید خان (مسلم) اور ملائکہ پاریکھ (ہندو) اور شبانہ اعظمی (مسلم) اور جاوید اختر ( سیکولر شناخت) وغیرہ۔
مشہور امیرشخصیات اور شوبز کی دنیا سے تعلق رکھنے والی شخصیات کی بھی دنیا بھر میں بین المذاہب شادیاں ہوئی ہیں۔ بھارت بھی اس میں نمایا ں رہا ہے، تاہم اب یہ سلسلہ متوسط طبقے تک پھیل گیا ہے۔ دنیا بھر میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال دکھائی دیتی ہے۔
اعدادو شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ رجحان خاص طور پر ان ممالک میں زیادہ دیکھا جاتا ہے جہاں قانونی آزادی، تعلیم، شہری زندگی اور مخلوط معاشرہ زیادہ ہے۔
لندن، برمنگھم اور مانچسٹر جیسے شہروں میں مذہب تبدیل کیے بغیر شادی (Interfaith marriage) کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ فرانسیسی قانون مکمل مذہبی آزادی دیتا ہے۔یوں دیکھا جائے تو دنیا کے مختلف ممالک میں مذہب تبدیل کیے بغیر (Interfaith marriage) شادیاں ہوجاتی ہیں۔
بات یہ ہے کہ انسان اپنے ارد گرد کے ماحول،کلچر اور نظریات سے بھی متاثر ہوتا ہے۔ ہندوستان میں بھی کچھ یہی صورتحال ہے اور دنیا بھر میں بھی یہی معاملہ ہے خاص کر ترقی یافتہ مالک میں۔ان ممالک میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے آئے ہوئے نوجوانوںکی اکثریت وہاں کے لبرل اور غیر مذہبی نظریات سے متاثر ہوتی ہے اور رفتہ رفتہ انھیں اپناتی بھی ہے،اب صرف عوام نہیں، ریاستیں بھی اپنے نظریات تبدیل کر رہی ہیں۔
غور کیا جائے تو اب بات اس سے بھی آگے بڑھ چکی ہے یعنی لوگ ہم جنس پرستی کے نظریات سے متاثر ہوکر اپنا شریک سفر منتخب کر رہے ہیں۔ مختصر یہ کہ اپنے نظریات کا تحفظ موجودہ دور میں مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ ہمیں شکر کرنا چاہیے کہ ہمارے بزرگوں نے پاکستان بنایا جہاں ہم مسلمان اپنے عقائد کے مطابق زندگی گزاررہے ہیں۔