امن کا راستہ اپنایے!

کوئی ایک ایسا دن بتا دیجیے جس میں‘ مملکت خداداد پاکستان کسی نہ کسی گرداب ‘ مصیبت یا آفت کا شکار نہ ہوا ہو۔

کوئی ایک ایسا دن بتا دیجیے جس میں‘ مملکت خداداد پاکستان کسی نہ کسی گرداب ‘ مصیبت یا آفت کا شکار نہ ہوا ہو۔ چودہ اگست انیس سو سینتالیس سے شروع کر لیجیے، کیلنڈر سامنے رکھیے ، ایک ہی جیسے بے معنی اور جذباتی نعرے‘ کھوکھلی پالیسیاں اور وعظ‘ اس کے سوا کچھ بھی سامنے نہیں آتا۔ ہم کوئی ایک مسئلہ بھی حل نہیں کر سکے۔

مگر سب حکومتوں نے ایک خاص حکمت عملی اختیار کر کے اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کی کامیاب کوشش ضرور کی ہے۔قیام پاکستان کے ساتھ ہی مقتدر طبقے نے انڈیا کے ساتھ مخالفت کی پالیسی وضع کردی جس نے ہمارے کثیر مالی وسائل ضایع کر ڈالے ہیں۔ ترقی کو بھول جایئے، سالمیت کو سنگین ترین مسائل کا سامنا ہے۔ مسائل حل کرنے کے بجائے ہر دور کی حکومت نے ڈنگ ٹپاؤ پالیسیاں اختیار کیں اور اقتدار کو مال و زر کمانے کا ذریعہ بنایا ہے، کئی ایسے حقائق ہیں جو نہ بدلے جا سکتے ہیں اور نہ ہی لکھے جا سکتے ہیں کیونکہ ان سے سچ تک پہنچنا آسان ہو جاتا ہے، ان پر کسی قسم کی بات کرنا خطرات کے زمرے میں آتا ہے۔

ہماری بدقسمتی اور چیرہ دستیوں کی کہانیاں اپنی جگہ پر درست ہیں، طالب علم کا گمان ہے کہ ہم مسائل کی دلدل میں مزید دھنس چکے ہیں۔ مگر ہمیں بتایا یہ جا رہا ہے کہ منزل بس قریب ہی ہے،عوام تھوڑی سی مزید قربانی دیں تو معاملہ بالکل درست ہو جائے گا۔ لوگوں سے زبردستی پیسے نکلوانے کو کسی صورت میں سراہا نہیں جا سکتا۔ یہ کوئی ایک حکومت یا ایک دہائی کی بابت گزارش نہیں ہے، ملک بننے سے لے کر آج کی تاریخ تک معاملات بگاڑ کی بنیاد پر ایستادہ ہیں۔

ہندوستان اور ہم ایک دوسرے کی جان کے درپے ہیں۔ کیا اس دشمنی کو قومی مفاد سے آراستہ حکمت عملی اختیار کر کے بتدریج کم کرنا دانش مندی ہے؟ یا اس آگ پر مزید تیل چھڑکنا درست ہے؟ لیکن دونوں ممالک کا مقتدر طبقہ دوسری ڈگر پر چل رہاہے۔ ایک دوسرے سے دشمنی کو جذباتیت کے پیرائے میں جذب کر دیا گیا ہے، جس سے لوگوں میں اصل نکتہ کی طرف آنے کو‘ وطن دشمنی کے برابر قرار دے دیا جاتا ہے ۔ مشرقی پاکستان کی ہزیمت ہم نے اتنی آسانی سے فراموش کروانے کی جدوجہدکی کہ صرف افسوس ہوتا ہے۔

حمودالرحمن کمیشن رپورٹ کو کیبنٹ ڈویژن کی الماریوں میں چھپا دیا گیا۔ جب بھارت نے اس رپورٹ کو آشکارا کیا تو پھر مجبوری میں کمیشن کے چند اوراق کو عیاں کیا‘ جو اس وقت کے مقتدر طبقہ کے خلاف چارج شیٹ تھی اور ہے ۔ زبانی جمع خرچ کے بعد‘ اس رپورٹ کو بھی ٹھنڈا کر دیا گیا۔ آج اس کے متعلق کوئی بات نہیں کرتا۔ مگر سوال یہ ہے ‘ کہ کیا معروضی حالات بدل گئے ہیں۔ شائد نہیں ؟ اس کے باوجود ہم نے کچھ نہیں سیکھا۔آج بھی مسائل کا حل طاقت کے زور پر تلاش کرنے کی کوشش جاری ہے۔

اپریل 1984ء میں ہندوستان نے سیاچن کے کچھ حصہ پر قبضہ کر لیا تو ضیاء الحق کا اس پر کیا رد عمل تھا کہ سیاچن تو ایک ایسا علاقہ ہے جہاں گھاس تک نہیں اگتی۔ سوچیے‘ کیا کوئی حکمران اتنا غیر ذمے دارانہ بیان دے سکتا ہے؟جواب آپ خوب جانتے ہیں۔کوئی چوں چاں نہیں ہوئی کہ ضیاء الحق کے ہاتھ میں آہنی ڈنڈا تھا۔ ان کے نزدیک ‘ اقتدار کو اصل خطرہ پیپلزپارٹی سے تھا۔ مگر یہ اس شخص کی پاکستان کے ساتھ زیادتی تھی جو تاریخ کے اوراق میں دب کر رہ گئی ۔

 ہم نے کسی قسم کا کوئی مثبت فیصلہ کرنے سے شعوری سطح پر انکار کر دیا۔ کارگل جنگ جو مئی سے لے کے جولائی 1999ء تک رہی۔ یہی کھیل دوبارہ دہرایا گیا۔ جنر ل پرویز مشرف نے اپنی شکست کو سیاسی وزیراعظم کے گلے کا ڈھول بنا ڈالا۔ کیونکہ وزیراعظم مضبوط فیصلے نہیں کر پائے۔ لہٰذا ان کی حکومت کو غیر قانونی طریقے سے روند ڈالا گیا۔ بنیادی سچ یہ ہے کہ ہندوستان سے ہماری دشمنی ‘ ہماری قومی ترقی کے لیے زہر قاتل بن چکی ہے۔ ہمسایہ ملک سے اچھے تعلقات استوار کیے بغیر ہمارا آگے بڑھنا ممکن نہیں ہے۔

 23اپریل 2025ء کو ہندوستان نے انڈس بیس واٹر ٹریٹی کو یک طرفہ طور پر (Held in abeyance) کر دیا۔ اب ہندوستان خود کو دریائے سندھ‘ جہلم اور چناب کے متعلق کوئی ڈیٹا فراہم کرنے کا پابند نہیں سمجھتا۔ ساتھ ساتھ وہ اب ان تینوں دریاؤں پر ڈیم بنانے کے لیے بھرپور کام کر رہا ہے۔

فی الحال تو ان دریاؤں پر پانی کو پاکستان کے لیے بند نہیں کیاگیا ۔ مگر جیسے ہی ہندوستان‘ اپنے آبی ذخائر بنا لے گا، اسی وقت ان دریاؤں میں پانی کے بہاؤ کو روک دیا جائے گا۔ پاکستان کے زرعی شعبہ پر کیا اثرات پڑیں گے؟ اس پر ہمارے پورے نظام میں کوئی بھی سنجیدہ بات کرنے کے لیے تیار نہیں۔ کیا یہ ہمارے لیے بہتر ہے یا خطرناک ؟اس سے قطع نظر‘ ہم نے اس تنازع کو حل کرنے کے لیے معاملہ فہمی کی کوئی مؤثر کوشش نہیں کی۔ البتہ اس حوالے سے جذباتی نعرے ضرور سننے کو مل جاتے ہیں ، دل پر ہاتھ رکھ کر فرمائیے، کیا قومی سلامتی کے نازک مسائل ‘ اس طرح حل کیے جا سکتے ہیں؟

تمام معاملات کو ذرا اقتصادی زاویے سے بھی دیکھ لیجیے۔ ایران اور امریکا کی جنگ کے دوران ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ کیا گیا۔ پہلا اضافہ اس وقت کیا گیا ، جب جنگ شروع ہوئے صرف چند دن گزرے تھے۔ خلیج ہرمز سے تیل بردار جہازوں کی ٹریفک جاری تھی، ویسے بھی ایران نے پوری جنگ کے دوران بھی پاکستان کے بحری جہازوں پر کوئی پابندی نہیں لگائی لیکن پٹرول کی قیمت میں یک طرفہ اضافہ کر دیا جاتا ہے۔ مطلب بالکل صاف ہے کہ ہمارے پاس پٹرول کو زخیرہ کرنے کا نظام انتہائی محدود ہے، شاید صرف چند دنوں تک محدود ہے۔

یہ تمام حقائق سامنے رکھنے کا ایک مقصد ہے۔ ہمیں اپنے ملک کو ٹھوس بنیادوں پر استوار کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ہمسایوں سے مسلسل دشمنی معاشی ترقی کے ثمرات کو کھا جاتی ہے۔ پاکستان پر غیرملکی قرضوں کا بوجھ بہت زیادہ بڑھ چکا ہے، ایسے حالات میں ہمارے پاس ہمسایوں کے ساتھ لڑائی نہیں بلکہ پرامن بقائے باہمی کے اصول پر تعلقات استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ قومی سطح پر ہمارے پاس ایسے سیاست دان اور سٹیک ہولڈرز موجود ہیں ‘ جو دونوں ملکوں کے تعلقات کو بہتری کی طرف مائل کر سکتے ہیں۔

اگر ہم نے اپنے مسائل واقعی حل کرنے ہیں تو امن کا ڈول ڈالے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ امریکا‘ روس اور چین کی ‘ اس صلح صفائی میں مدد لی جا سکتی ہے۔ اس میں کوئی ہارجیت والی بات نہیں ہے ۔ ہمارا ملک‘ سب سے زیادہ مقدم ہے۔ دونوں ملکوں کی قیادت سے یہی کہنا چاہوں گا کہ انا کو پس پشت ڈالیے ۔ اپنے وسائل اور مسائل کو دیکھیے، پھر فیصلہ کیجیے کہ میری اس تجویز سے اتفاق ہے کہ نہیں۔ مگر کیا یہ ممکن ہے؟ میں توصرف یہ جانتا ہوں کہ دشمنی مسائل کو بڑھا تو سکتی ہے ، کم نہیں کر سکتی ۔باقی ہر ایک کی اپنی اپنی سوچ ہے؟

Load Next Story