کسی جہاز پر حملہ نہیں ہوا؛ 2 امریکی پرچم بردار جہاز بھی آبنائے ہرمز عبور کرگئے؛ سینٹکام
ایرانی پابندیوں کے باوجود دو امریکی پرچم بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزر گئے؛ سینٹکام
یو ایس سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے ایرانی فوج کے ان دعوؤں کی سختی سے تردید کر دی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ امریکا کا ایک جنگی جہاز آبنائے ہرمز میں میزائل حملے کا نشانہ بنا اور اسے پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
ایرانی دعوے کی تردید سینٹکام نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کی جس میں کہا گیا کہ امریکی بحریہ کا کوئی بھی جہاز نشانہ نہیں بنا۔ تمام جنگی جہاز معمول کے مطابق اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ امریکی افواج پروجیکٹ فریڈم کے تحت خطے میں تعینات ہیں جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں پھنسے تجارتی جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنا اور سمندری گزرگاہ کو فعال بنانا ہے۔
🚫 CLAIM: Iranian state media claims that Iran's Islamic Revolutionary Guard Corps hit a U.S. warship with two missiles.
✅ TRUTH: No U.S. Navy ships have been struck. U.S. forces are supporting Project Freedom and enforcing the naval blockade on Iranian ports. pic.twitter.com/VFxovxLU6Gیاد رہے کہ ’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ دراصل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان کردہ ایک نیا بحری آپریشن ہے جس کے تحت امریکا ان بحری جہازوں کو بحفاظت نکالنے کی کوشش کر رہا ہے جو ایران کی جانب سے عملی طور پر قائم کردہ ناکہ بندی کے باعث رکے ہوئے ہیں۔
بیان میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ امریکی نیوی کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز اس وقت خلیج عرب میں موجود ہیں اور انھوں نے کامیابی کے ساتھ آبنائے ہرمز عبور کر لیا ہے۔
دریں اثنا اپنے ایک اور بیان میں یو ایس سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں دو امریکی پرچم بردار تجارتی جہازوں کو بھی بحفاظت اس راستے سے گزار دیا گیا ہے۔
ایران کی پاسداران انقلاب نے امریکا کے اس دعوے کو مسترد کر دیا کہ حال ہی میں دو امریکی پرچم بردار تجارتی جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے ہیں۔
تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق جاری بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران کوئی بھی تجارتی جہاز یا آئل ٹینکرآبنائے ہرمز سے نہیں گزرا۔ امریکی دعوے بے بنیاد اور مکمل جھوٹ ہیں۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین گزرگاہوں میں شامل ہے جہاں سے دنیا بھر میں تقریباً 20 فیصد عالمی تیل کی ترسیل ہوتی تھی لیکن امریکا اسرائیل حملوں کے ردعمل میں ایرانی بندش کے باعث یہ آمدورفت بند ہے اور پیٹرول کی قیمتیں آسمانوں سے باتیں کر رہی ہیں۔