مشترکہ اقدامات پر اتفاق

انھوں نے پی ٹی آئی کو صرف کے پی تک محدود کر دیا ہے

m_saeedarain@hotmail.com

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی کی رہائش گاہ پر وزیر اعلیٰ کے پی سہیل آفریدی کی آمد اور مشترکہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ بانی کی رہائی سمیت دیگر معاملات پر آپس میں باہمی مشاورت سے آئندہ سے مشترکہ اقدامات کیے جائیں گے۔

اس موقع پر سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر راجہ ناصر عباس، پی ٹی آئی کے دیگر لیڈروں کے علاوہ مصطفیٰ نواز کھوکھر بھی موجود تھے ۔ اس موقع پر وزیر اعلیٰ کے پی کے یکطرفہ فیصلوں پر بھی بات ہوئی اور مل کر مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا گیا جو ایک اچھا اور تحریک انصاف کے لیے مثبت فیصلہ ثابت ہو سکتا ہے، کیونکہ اس موقع پر جذباتی اور جلد باز افراد کے علاوہ دور اندیش اسد قیصر و دیگر رہنما بھی موجود تھے جب کہ محمود خان اچکزئی ایک سینئر بزرگ اور تدبر والے سیاستدان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔

قبل ازیں وزیر اعلیٰ کے پی کے فیصلوں کی وجہ سے ان رہنماؤں میں اختلافات پیدا ہو گئے تھے کیونکہ اسلام آباد میں 9 اپریل کے جلسے کے سلسلے میں تحریک تحفظ آئین کے مرکزی رہنماؤں، پی ٹی آئی کے بعض مرکزی رہنماؤں خصوصاً وزیر اعلیٰ کے پی میں اسلام آباد جلسے کے انعقاد کے لیے کوئی مشاورت نہیں ہوئی تھی اور محض اس لیے پی ٹی آئی نے 9 اپریل کو جلسہ منعقد کرنا ضروری سمجھا تھا کہ 9 اپریل 2022 کے روز پی ٹی آئی کے وزیر اعظم کو ہٹانے کی عدم اعتماد تحریک پر ووٹنگ ہوئی تھی۔

جو مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی پر مشتمل اپوزیشن نے آئینی طور پر پیش کی تھی جس کی حمایت پی ٹی آئی حکومت کی اتحادی جماعتوں، ایم کیو ایم، مسلم لیگ (ق)، بلوچستان عوامی پارٹی، بی این پی مینگل نے بھی کی تھی مگر پی ٹی آئی کے وزیر اعظم نے اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش ہونے کے بعد پہلے تو تحریک کی ناکامی کے دعوے کیے تھے مگر جب انھوں نے دیکھا کہ اپوزیشن کے پاس مطلوبہ تعداد پوری ہو گئی تھی کیونکہ پی ٹی آئی تنہا رہ گئی تھی اور اس کے اپنے اتحادی تک وزیر اعظم کی من مانی اور غلط فیصلوں کے باعث حکومت کا ساتھ چھوڑ گئے تھے اور اسپیکر اسد قیصر کی طرف سے آئینی طور پر طلب کردہ اجلاس منعقد ہو جاتا تو وزیر اعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جانی تھی۔

اپوزیشن کی تحریک سو فی صد آئینی تھی جس کو روکنے میں اسپیکر اسد قیصر نے فریق بننے سے انکار کر دیا تھا جس پر وزیر اعظم کی ہدایت پر ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری کی صدارت میں اجلاس شروع ہوا تھا۔

وزیر قانون مستعفی ہو چکے تھے جس پر فواد چوہدری کو وزیر قانون کا عہدہ دیا گیا جو تحریک کے خلاف سرگرم تھے اور انھوں نے اپنی تقریر میں ڈپٹی اسپیکر کو کہا تھا کہ تحریک عدم اعتماد غیر آئینی ہے۔ منصوبے کے تحت ڈپٹی اسپیکر نے وزیر اعظم کے کہنے پر سو فی صد آئینی تحریک عدم اعتماد کو غیر آئینی قرار دے کر مسترد کرکے مذکورہ اجلاس منسوخ کرنے کا غیر آئینی فیصلہ دیا تھا۔

 سپریم کورٹ میں اس وقت چیف جسٹس اور ججز نے فوری طور مداخلت کرکے اگلے روز اجلاس منعقد کرنے کا حکم دیا تھا اور پی ٹی آئی کے صرف علی محمد خان کی موجودگی اور پی ٹی آئی کی غیر حاضری کے باعث اپوزیشن کی تحریک کامیاب ہوئی تھی اور ملک کی تاریخ میں پہلی بار وزیر اعظم کو ہٹایا گیا تھا۔

محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس کو بانی نے دونوں ایوانوں کا اپوزیشن لیڈر بنایا مگر دونوں تحریک اعتماد کو آئینی سمجھتے تھے اس لیے دونوں نے اسلام آباد میں 9اپریل کے جلسے کے انعقاد کی مخالفت کی جس پر یہ جلسہ منسوخ کرنا پڑا تھا۔

9 اپریل 2026ء کو دنیا بھر کی نظریں اسلام آباد پر تھیں جہاں امریکا و ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں مذاکرات ہونے تھے جس کی حساسیت پی ٹی آئی کو بعد میں محسوس کرکے اپنا 9 اپریل کا جلسہ منسوخ کرنا پڑا تھا۔

بعد میں وزیر اعلیٰ کے پی نے اپوزیشن رہنماؤں سے مشاورت کے بغیر مردان میں پی ٹی آئی کے جلسے کا اعلان کیا تھا جس میں محمود خان اچکزئی اور راجہ ناصر عباس نے مدعو کیا جانے کے باوجود شرکت سے انکار کر دیا تھا۔

پی ٹی آئی کے وزیر اعلیٰ کے پی اور ان کے حامی بعض رہنما اپنے ہی صوبے میں جلسے اور ریلیاں ضرور کر رہے ہیں جہاں وہ اپنی حکومت کی سرپرستی کے باوجود موثر سیاسی طاقت نہیں دکھا پا رہے اور انھوں نے پی ٹی آئی کو صرف کے پی تک محدود کر دیا ہے اور اس کی قومی شناخت کو نقصان پہنچایا ہے اور اب کے پی میں ہی ریلیاں نکالنے کا بھی اعلان کیا جا چکا ہے۔

ملک کی سب سے بڑی پارٹی قرار دینے والے پی ٹی آئی کے جلد باز اور جذباتی رہنما سوا دو سال میں موجودہ حکومت کا کچھ بگاڑ سکے اور نہ ہی اپنے بانی کی رہائی تو دور کی بات سہولتیں تک دلا پائے اور نہ ہی اڈیالہ جیل کے باہر کوئی بڑا پاور شو کر سکے کیونکہ ان میں وقت کے لحاظ سے سیاسی رہنما محمود اچکزئی، بیرسٹر گوہر اور اسد قیصر جیسے دور اندیش موجود نہیں ہیں۔

اب محمود اچکزئی کی رہائش گاہ پر بانی کی رہائی اور انھیں قانونی سہولتیں دلانے، آئندہ بجٹ، این ایف سی ایوارڈ، صوبائی حقوق کے حصول، ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال اور مبینہ انتقامی مقدمات سمیت منصفانہ قومی وسائل کی تقسیم، اپوزیشن جماعتوں سے رابطے بڑھانے کے لیے مشترکہ اقدامات کرنے کا جو متفقہ فیصلہ کیا گیا ہے۔اس پر عمل ہو جائے اور سینئر اپوزیشن رہنماؤں کو اعتماد میں لے کر دور اندیشی سے فیصلے کیے گئے تو سیاسی صورت حال میں بہتری اور بانی کی مشکلات کم کرائی جا سکتی ہیں۔

Load Next Story