ایف بی آر میں وزیر اعظم امدادی پیکج کے تحت متوفی کوٹہ پر ملازمت کے تنازع سے متعلق درخواست

درخواستگزار حفیظ اللہ نے وزیر اعظم امدادی پیکج کے تحت متوفی کوٹہ پر ملازمت کی درخواست دی

سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ نے ایف بی آر میں وزیر اعظم امدادی پیکج کے تحت متوفی کوٹہ پر ملازمت کے تنازعے سے متعلق درخواست پر 2 ہفتوں میں درخواستگزار کو تقرری نامہ جاری کرنے کا حکم دیدیا۔

جسٹس عدنان الکریم میمن کی سربراہی میں دو رکنی آئینی بینچ کے روبرو ایف بی آر میں وزیر اعظم امدادی پیکج کے تحت متوفی کوٹہ پر ملازمت کے تنازعے سے متعلق درخواست کی سماعت ہوئی۔

اسد اللہ بلو ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ درخواستگزار حفیظ اللہ نے وزیر اعظم امدادی پیکج کے تحت متوفی کوٹہ پر ملازمت کی درخواست دی۔ مئی 2023 میں گریڈ 11 کے عہدے کے لئے تقرری کی پیشکش کی گئی۔

جون 2023 میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے عبوری حکم کے تحت جوائنٹ روک دی گئی۔ سپریم کورٹ نے ستمبر 2024 میں وزیر اعظم امدادی پیکج کو کالعدم قرار دیا۔ اسٹبلشمنٹ ڈویژن نے بھی وضاحت جاری کی کہ فیصلے سے قبل کی گئی تقرریاں برقرار رہیں گی۔ ایف بی آر تاحال تقرری ریگولر کرنے سے انکاری ہے۔

سرکاری وکیل نے موقف اپنایا کہ تقرری کے وقت عدالت کا عبوری حکم موجود تھا۔ بھرتی کا عمل مکمل نا ہونے سے درخواستگزار کو کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہوا۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پورا عمل غیر موثر ہوچکا ہے۔

جسٹس عدنان الکریم میمننے ریمارکس دیئے کہ اصل نکتہ یہ ہے کہ درخواستگزار کو سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل تقرری کی پیشکش کی گئی تھی یا نہیں؟درخواستگزار کو بھرتی کے تمام مراحل مکمل کرنے کے بعد باقاعدہ آفر لیٹر جاری کیا گیا۔

سپریم کورٹ نے وزیر اعظم امدادی پیکج کو کالعدم قرار دیتے ہوئے پہلے سے کی گئی تقرری کو تحفظ فراہم کیا تھا۔ آفر لیٹر جاری ہونا تقرری کا عمل مکمل ہونے کی علامت ہے۔

ایف بی آر کا جنوری 2025 کا خط غیر قانونی ہے۔ متعلقہ حکام 2 ہفتوں میں درخواستگزار کو تقرری نامہ جاری کریں۔ عدالت نے ایف بی آر کو 2 ہفتوں میں درخواستگزار کو تقرری نامہ جاری کرنے کا حکم دیدیا۔

Load Next Story