کراچی اسٹاک مارکیٹ سیاسی بحران کی زد میں 222 پوائنٹس گرگئے
کے ایس ای 100 انڈیکس 28800 اور28700 پوائنٹس کی دو حدیں بیک وقت گنواکر 28630.12 پر بند
انویسٹرز کے ساڑھے 62 ارب ڈوب گئے، 355 کمپنیوں میں سے 81 کے بھاؤ میں اضافہ، 260 کے داموں میں کمی۔ فوٹو: آن لائن/فائل
کراچی اسٹاک ایکس چینج کی کاروباری سرگرمیاں منگل کو بھی سیاسی بحران کے زیر اثر رہیں۔
الٹی میٹم کی مدت ختم ہونے کے باوجود دونوں سیاسی جماعتوں کا حکومت مخالف دھرنا ختم نہ ہونے اور حکومت کی جانب سے ریڈزون کی سیکیورٹی فوج کے حوالے کرنے کے اعلان جیسے عوامل نے سرمایہ کاروں کو مضطرب کیے رکھا اور مارکیٹ بدستور مندی کی لپیٹ میں رہی جس سے انڈیکس کی 28800 اور 28700 پوائنٹس کی دو حدیں بیک وقت گر گئیں۔ کاروباری دورانیے کے وسط میں ایک موقع پرمندی کی شدت 564.18 پوائنٹس کی کمی تک جاپہنچی تھی لیکن اس دوران سرکاری مالیاتی اداروں کی سرمایہ کاری بڑھائی گئی جس سے مندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی۔
مندی کے سبب 73.23 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید 62 ارب 51 کروڑ 89 لاکھ 65 ہزار 355 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ کیپٹل مارکیٹ جاری سیاسی بحران کی وجہ سے مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور کاروباری حجم گھٹ گیا ہے کیونکہ سرمایہ کاری کے تمام شعبے موجود صورتحال سے مضطرب ہیں اور وہ ان حالات میں اپنے سرمائے کو ڈبونے کے حق میں نہیں ہیں۔
ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں اور این بی ایف سیز کی جانب سے مجموعی طور پر77 لاکھ19 ہزار 445 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اس کے برعکس مقامی کمپنیوں کی جانب سے 27 لاکھ 21 ہزار 696 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے22 لاکھ 75 ہزار 849 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے16 لاکھ37 ہزار 253 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 10 لاکھ 84 ہزار 648 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔
مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 222.03 پوائنٹس کی کمی سے 28630.12 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 97.05 پوائنٹس کی کمی سے 19973.99 اور کے ایم آئی30 انڈیکس180.57 پوائنٹس کی کمی سے 46538.70 ہو گیا۔ مجموعی طور پر14 کروڑ 47 لاکھ 35 ہزار930 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 355 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 81 کے بھاؤ میں اضافہ، 260 کے داموں میں کمی اور 14 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
جن کمپنیوں کے قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں شیزان انٹرنیشنل کے بھاؤ 43 روپے بڑھ کر 943 روپے اور ایکسائیڈ پاکستان کے بھاؤ 33.34 روپے بڑھ کر 700.27 روپے ہو گئے جبکہ نیسلے پاکستان کے بھاؤ 385 روپے کم ہوکر7315 روپے اور رفحان میظ کے بھاؤ380 روپے کم ہوکر10120 روپے ہو گئے۔
الٹی میٹم کی مدت ختم ہونے کے باوجود دونوں سیاسی جماعتوں کا حکومت مخالف دھرنا ختم نہ ہونے اور حکومت کی جانب سے ریڈزون کی سیکیورٹی فوج کے حوالے کرنے کے اعلان جیسے عوامل نے سرمایہ کاروں کو مضطرب کیے رکھا اور مارکیٹ بدستور مندی کی لپیٹ میں رہی جس سے انڈیکس کی 28800 اور 28700 پوائنٹس کی دو حدیں بیک وقت گر گئیں۔ کاروباری دورانیے کے وسط میں ایک موقع پرمندی کی شدت 564.18 پوائنٹس کی کمی تک جاپہنچی تھی لیکن اس دوران سرکاری مالیاتی اداروں کی سرمایہ کاری بڑھائی گئی جس سے مندی کی شدت میں کمی واقع ہوئی۔
مندی کے سبب 73.23 فیصد حصص کی قیمتیں گرگئیں جبکہ سرمایہ کاروں کے مزید 62 ارب 51 کروڑ 89 لاکھ 65 ہزار 355 روپے ڈوب گئے۔ ماہرین اسٹاک کا کہنا ہے کہ کیپٹل مارکیٹ جاری سیاسی بحران کی وجہ سے مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور کاروباری حجم گھٹ گیا ہے کیونکہ سرمایہ کاری کے تمام شعبے موجود صورتحال سے مضطرب ہیں اور وہ ان حالات میں اپنے سرمائے کو ڈبونے کے حق میں نہیں ہیں۔
ٹریڈنگ کے دوران غیرملکیوں، بینکوں ومالیاتی اداروں اور این بی ایف سیز کی جانب سے مجموعی طور پر77 لاکھ19 ہزار 445 ڈالر مالیت کی تازہ سرمایہ کاری کی گئی جبکہ اس کے برعکس مقامی کمپنیوں کی جانب سے 27 لاکھ 21 ہزار 696 ڈالر، میوچل فنڈز کی جانب سے22 لاکھ 75 ہزار 849 ڈالر، انفرادی سرمایہ کاروں کی جانب سے16 لاکھ37 ہزار 253 ڈالر اور دیگر آرگنائزیشنز کی جانب سے 10 لاکھ 84 ہزار 648 ڈالر مالیت کے سرمائے کا انخلا کیا گیا۔
مندی کے باعث کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 222.03 پوائنٹس کی کمی سے 28630.12 ہوگیا جبکہ کے ایس ای30 انڈیکس 97.05 پوائنٹس کی کمی سے 19973.99 اور کے ایم آئی30 انڈیکس180.57 پوائنٹس کی کمی سے 46538.70 ہو گیا۔ مجموعی طور پر14 کروڑ 47 لاکھ 35 ہزار930 حصص کے سودے ہوئے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کا دائرہ کار 355 کمپنیوں کے حصص تک محدود رہا جن میں 81 کے بھاؤ میں اضافہ، 260 کے داموں میں کمی اور 14 کی قیمتوں میں استحکام رہا۔
جن کمپنیوں کے قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ان میں شیزان انٹرنیشنل کے بھاؤ 43 روپے بڑھ کر 943 روپے اور ایکسائیڈ پاکستان کے بھاؤ 33.34 روپے بڑھ کر 700.27 روپے ہو گئے جبکہ نیسلے پاکستان کے بھاؤ 385 روپے کم ہوکر7315 روپے اور رفحان میظ کے بھاؤ380 روپے کم ہوکر10120 روپے ہو گئے۔