آبنائے ہرمز …صورتحال سنگین
ایران کی پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز پر غیرملکی جہازوں پر پابندی لگادی ہے
آبنائے ہرمز کے گرد موجودہ کشیدگی کو اگر محض ایک وقتی عسکری تناؤ سمجھ لیا جائے تو یہ بھی غلط فہمی ہوگی، کیونکہ اس کے پس منظر میں کئی دہائیوں پر محیط سیاسی بداعتمادی، علاقائی رقابتیں، توانائی کے عالمی مفادات اور طاقت کے توازن کی پیچیدہ کشمکش کارفرما ہے۔
ایران اور امریکا کے درمیان تعلقات پہلے ہی عدم اعتماد کی گہری کھائی میں گرے ہوئے ہیں اور ایسے میں جب بحری راستوں پر براہ راست تصادم کے امکانات پیدا ہوتے ہیں تو یہ صورتحال محض دو ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی سطح پر اس کے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں پیش آنے والا ہر واقعہ فوری طور پر عالمی سیاست اور معیشت کے ایجنڈے پر آ جاتا ہے۔
اگلے روز جس طرح ایران نے امریکی بحری جہاز کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا اور اماراتی و جنوبی کوریائی جہازوں پر مبینہ حملوں کی خبریں سامنے آئیں، اس نے نہ صرف خطے میں بے چینی پیدا کی بلکہ عالمی طاقتوں کو بھی متحرک کر دیا۔ امریکا کی جانب سے سخت ردعمل اور کھلی دھمکیاں اس بات کا اظہار ہیں کہ واشنگٹن اس معاملے کو اپنی عالمی حیثیت اور ساکھ کے تناظر میں دیکھ رہا ہے۔ ادھر ایران کے بیانات اور اقدامات اس کے دفاعی مؤقف اور خودمختاری کے تصور کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس طرح دونوں فریق اپنی اپنی داخلی اور خارجی ضروریات کے تحت ایسے بیانیے تشکیل دے رہے ہیں جو تصادم کو روکنے کے بجائے بعض اوقات اسے مزید ہوا دیتے ہیں۔
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ آبنائے ہرمز کی جغرافیائی حیثیت اسے دنیا کے اہم ترین اسٹرٹیجک پوائنٹس میں شامل کرتی ہے۔ عالمی تیل کی بڑی مقدار اسی راستے سے گزرتی ہے اور اس کی بندش یا حتیٰ کہ اس کے بارے میں غیر یقینی صورتحال بھی عالمی منڈیوں میں شدید اتار چڑھاؤ کا باعث بنتی ہے۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ نہ صرف ترقی پذیر ممالک کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے بلکہ ترقی یافتہ معیشتوں پر بھی دباؤ ڈالتا ہے۔ اس لیے اس آبی گزرگاہ کا محفوظ اور کھلا رہنا عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میں ہے، لیکن اس کے طریقہ کار پر اختلافات ہی اصل تنازع کی بنیاد ہیں۔
امریکا کی جانب سے شروع کیا گیا’’پروجیکٹ فریڈم‘‘ بظاہر ایک حفاظتی اقدام کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، جس کا مقصد عالمی تجارت کے لیے راستہ کھلا رکھنا ہے، لیکن ایران اسے اپنی خودمختاری کے خلاف ایک اشتعال انگیز قدم سمجھتا ہے۔ اس منصوبے کے تحت امریکی بحری جہازوں کی موجودگی نے خطے میں عسکری سرگرمیوں کو بڑھا دیا ہے اور اس کے نتیجے میں کسی بھی غلط اندازے یا حادثاتی تصادم کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ ایسے حالات میں معمولی غلطی بھی بڑے بحران کو جنم دے سکتی ہے۔ایران کی عسکری حکمت عملی میں حالیہ برسوں میں نمایاں تبدیلی دیکھی گئی ہے، جہاں اس نے غیر روایتی حربوں جیسے ڈرون، کروز میزائل اور بحری گوریلا جنگ پر زیادہ انحصار کرنا شروع کیا ہے۔ اس حکمت عملی کا مقصد براہ راست بڑی جنگ سے گریز کرتے ہوئے اپنے مخالف کو دباؤ میں رکھنا ہے۔ آبنائے ہرمز میں حالیہ واقعات اسی حکمت عملی کی جھلک پیش کرتے ہیں جہاں محدود مگر مؤثر کارروائیوں کے ذریعے پیغام دیا جا رہا ہے کہ ایران اپنے مفادات کے دفاع کے لیے ہر حد تک جا سکتا ہے۔
امریکا کی عسکری برتری اور عالمی رسوخ اسے یہ اعتماد دیتا ہے کہ وہ ایسے اقدامات کر سکتا ہے جو اس کے مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری ہوں، تاہم افغانستان اور عراق جیسے تجربات نے یہ بھی ثابت کیا ہے کہ عسکری طاقت کا استعمال ہمیشہ مطلوبہ نتائج نہیں دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی پالیسی سازوں کے درمیان بھی اس بات پر اختلاف پایا جاتا ہے کہ ایران کے ساتھ کس حد تک سختی برتی جائے اور کہاں سفارت کاری کو موقع دیا جائے۔یہاں ایک اہم پہلو اسرائیل کا کردار بھی ہے، جو اس کشیدگی کو اپنے اپنے مفادات کے تناظر میں دیکھتاہے ۔
اسرائیل ایران کو اپنے لیے سب سے بڑا خطرہ تصور کرتا ہے اور کسی بھی ایسی صورتحال کو اپنے دفاعی اقدامات کے جواز کے طور پر استعمال کر سکتا ہے۔ خلیجی ممالک کسی بڑے تصادم کے ممکنہ اثرات سے خوفزدہ ہیں کیونکہ جنگ کی صورت میں سب سے زیادہ نقصان اسی خطے کو ہوگا۔یورپی یونین کا ردعمل نسبتاً محتاط مگر اصولی رہا ہے، جہاں بین الاقوامی قانون اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا گیا ہے۔ یورپ کی دلچسپی اس بحران کو کم کرنے میں اس لیے بھی ہے کہ وہ پہلے ہی توانائی کے مسائل اور دیگر جیوپولیٹیکل چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ اس لیے وہ کسی بھی نئے تنازع سے بچنا چاہتا ہے جو اس کی معیشت کو مزید کمزور کر سکتا ہو۔ان تمام عوامل کے درمیان ایک مثبت پہلو سفارتی کوششوں کا تسلسل ہے، جو اس بحران کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، اگرچہ بظاہر بیانات سخت اور ماحول کشیدہ نظر آتا ہے، لیکن پس پردہ رابطے جاری ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو امید کو زندہ رکھتا ہے کہ صورتحال مکمل تصادم کی طرف نہیں جائے گی۔پاکستان کا کردار اس تناظر میں خاص اہمیت اختیار کر گیا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب بڑی طاقتیں براہ راست ایک دوسرے کے سامنے کھڑی ہیں، پاکستان نے ایک ذمے دار اور متوازن ثالث کے طور پر خود کو پیش کیا ہے۔ ایرانی جہاز کے عملے کی منتقلی اور اس حوالے سے تعاون اعتماد سازی کی ایک واضح مثال ہے۔ یہ اقدام نہ صرف انسانی ہمدردی کی بنیاد پر اہم ہے بلکہ اس نے فریقین کے درمیان ایک مثبت اشارہ بھی دیا ہے۔پاکستان کی خارجہ پالیسی کا یہ پہلو کہ وہ بیک وقت مختلف طاقتوں کے ساتھ تعلقات برقرار رکھ سکتا ہے، اسے ایک منفرد حیثیت دیتا ہے۔ امریکا کے ساتھ اس کے تاریخی تعلقات اور ایران کے ساتھ جغرافیائی و ثقافتی قربت اسے ایک ایسا پل بناتے ہیں جو دونوں کے درمیان رابطہ قائم کر سکتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ایران کی جانب سے پاکستان کی کوششوں کو سراہا گیا ہے، جو اس کی سفارتی کامیابی کا ایک اہم اشارہ ہے۔ایرانی وزیر خارجہ کا یہ بیان کہ موجودہ بحران کا حل فوجی طاقت نہیں بلکہ سفارت کاری میں ہے، دراصل ایک وسیع تر حقیقت کی نشاندہی کرتا ہے۔ جدید دنیا میں جنگیں نہ صرف مہنگی ہوتی ہیں بلکہ ان کے نتائج بھی غیر یقینی ہوتے ہیں۔ اس کے برعکس مذاکرات ایک ایسا راستہ فراہم کرتے ہیں جس کے ذریعے دونوں فریق اپنے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے ایک قابل قبول حل تک پہنچ سکتے ہیں۔یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ایران نے امریکا کو ایسے عناصر سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے جو اسے مزید بڑے تنازع میں دھکیل سکتے ہیں۔ یہ بیان خطے کی پیچیدہ سیاست کی طرف اشارہ کرتا ہے جہاں مختلف طاقتیں اپنے اپنے مفادات کے لیے حالات کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اس تناظر میں کسی بھی فریق کی جانب سے غیر محتاط اقدام پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں مبتلا کر سکتا ہے۔
معاشی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو آبنائے ہرمز میں کشیدگی کے اثرات انتہائی وسیع ہوتے ہیں۔ تیل کی قیمتوں میں اضافہ، عالمی تجارت میں رکاوٹیں اور سرمایہ کاری کے رجحانات میں تبدیلی جیسے عوامل عالمی معیشت کو متاثر کرتے ہیں۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی معاشی مشکلات کا شکار ہوتے ہیں، اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ اس بحران کے حل کے لیے فعال کردار ادا کرے۔اطلاعاتی جنگ بھی اس تنازع کا ایک اہم پہلو بن چکی ہے، جہاں ہر فریق اپنی کامیابیوں اور مخالف کی ناکامیوں کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے۔
اس سے نہ صرف عوامی رائے متاثر ہوتی ہے بلکہ پالیسی سازوں پر بھی دباؤ بڑھتا ہے۔ ایسے میں ذمے دارانہ صحافت اور مستند معلومات کی فراہمی انتہائی اہم ہو جاتی ہے تاکہ غلط فہمیوں کو کم کیا جا سکے۔اگر مستقبل کے امکانات کا جائزہ لیا جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ صورتحال ایک نازک موڑ پر کھڑی ہے۔
ایک طرف کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے جو کسی بڑے تصادم کا پیش خیمہ بنے، جب کہ دوسری طرف سفارتی کوششیں کامیاب ہو سکتی ہیں جو مذاکرات کی راہ ہموار کریں۔ اس کا انحصار بڑی حد تک فریقین کے فیصلوں اور عالمی برادری کے کردار پر ہوگا۔پاکستان کے لیے یہ ایک اہم موقع ہے کہ وہ اپنی سفارتی صلاحیتوں کو مزید مؤثر انداز میں استعمال کرے، اگر وہ اس بحران میں مثبت کردار ادا کرنے میں کامیاب ہوتا ہے تو یہ نہ صرف اس کی عالمی ساکھ کو بہتر بنائے گا بلکہ خطے میں امن و استحکام کے لیے بھی اہم ثابت ہوگا۔ تاہم اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی پالیسی میں تسلسل اور توازن برقرار رکھے۔
آبنائے ہرمز کا بحران محض ایک علاقائی مسئلہ نہیں بلکہ ایک عالمی چیلنج ہے جس کا حل صرف مشترکہ کوششوں سے ممکن ہے۔ پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور سفارت کاری ہی واحد راستہ ہیں۔ موجودہ حالات میں امید کی کرن یہی ہے کہ پس پردہ رابطے جاری ہیں، اعتماد سازی کے اقدامات ہو رہے ہیں اور فریقین مکمل تصادم سے گریز کر رہے ہیں۔ اگر یہ رجحان برقرار رہا تو بعید نہیں کہ آنے والے دنوں میں امریکا اور ایران مذاکرات کی میز پر بیٹھیں اور ایک ایسا حل تلاش کریں جو نہ صرف ان کے باہمی تعلقات کو بہتر بنائے بلکہ پورے خطے میں استحکام کی بنیاد رکھے۔ یہی وہ راستہ ہے جو دنیا کو ایک ممکنہ بحران سے بچا سکتا ہے اور عالمی امن کے لیے ایک مثبت مثال قائم کر سکتا ہے۔