سفارت کاری ، پالیسی سازی اور اعلیٰ تعلیم
salmanabidpk@gmail.com
دنیا بھر میں جامعات یا تعلیم و تحقیق کے ادارے قومی بیانیے کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔اسی طرح جو سفارت کاری یا پالیسی عمل یا پالیسی سازی میں بھی ہم جامعات کے کردار کو آسانی سے نظر انداز نہیں کرسکتے ۔ یہ جو متبادل بیانیہ کی جنگ ہے جو آج ابلاغ کے محاذ پر ہی لڑی جاری ہے، اسے بھی علمی اور فکری طاقت جامعات سمیت تعلیم و تحقیق کے ادارے ہی دیتے ہیں ۔لیکن اس عمل کی کامیابی کے لیے ریاستی اور حکومتی سطح پر تعلیم یعنی پرائمری سے لے کر ہائر ایجوکیشن اور ہائر ایجوکیشن سے لے کر علمی و فکری تحقیق کے عمل سمیت ملک میں بڑے پیمانے پر مختلف پروفیشن یا اسپلائزیشن کی بنیاد پر تھنک ٹینک ریاستی،حکومتی اور غیر حکومتی سطح پر نہ صرف قائم کیے جاتے ہیں بلکہ ان کی عملی سطح پر سرپرستی بھی سیاسی،انتظامی اور مالی بنیادوں پر کی جاتی ہے۔
خود جامعات کی سطح پر اس طرزکے تھنک ٹینک قائم کرنا ان جامعات کی ذمے داری کے زمرے میں آتے ہیں اور حکومت اس میں جامعات کی سطح پر بڑی مالی سرمایہ کاری کرتی ہیں ۔یہ نہیں کہ ہماری بڑی جامعات کی سطح پر اس سطح کے ادارے نہیں ہیں بلکہ محدود وسائئل اور حکومتی عدم توجہ کی وجہ سے ان کی عدم فعالیت اہم مسئلہ ہے ۔
اس وقت پاکستان عالمی سطح پر سفارت کاری اور ڈپلومیسی کے محاذ پر ملنے والی پزیرائی پر کافی مطمن نظر آتا ہے اور اس کا اعتراف عالمی دنیا کی سطح پر بھی کیا جارہا ہے۔لیکن اس پزیرائی کے باوجود ہمیں اس محاذ پر لانگ ٹرم ،مڈ ٹرم اور شارٹ ٹرم بنیادوں پر ایک بڑے فریم ورک کی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔اس عمل میں ریاست ،حکومت اور جامعات سمیت مختلف نوعیت کے تھنک ٹینک یا پالیسی سازی میں موجود اہم افراد یا اداروں کے درمیان مضبوط رابطہ کاری کو قائم کرکے ہم سفارت کاری اور پالیسی سازی سے جڑے چیلنجز سے نمٹ سکتے ہیں ۔لیکن یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سفارت کاری اور پالیسی سازی کے عمل میںکامیابی کسی ایک فرد یا ادارے تک محدود نہیں اور نہ ہی یہ کام سیاسی تنہائی میں بھی نہیں کرسکیں گے۔
ایک دوسرے کے کردار کی اہمیت کو تسلیم کرکے ہی قومی بیانیہ کی تشکیل اور پالیسی سازی میں وہ مربوط نظام قائم کیا جاسکتا ہے جو ہماری قومی ضرورت کے زمرے میں آتا ہے ۔لیکن ہمارا قومی مسئلہ یا مجموعی مزاج یہ بن گیا ہے کہ ہم حالات کی بنیاد پر ردعمل کی پالیسی کا شکار ہوتے ہیں اور اسی بنیاد پر نہ صرف سرگرم ہوتے ہیںبلکہ اپنا ردعمل بھی دیتے ہیں۔اس وقت بھی اگر ہم اپنی پالیسیوں کو دیکھیںتو پالیسی سازی کا عمل چند لوگوں تک محدود ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ اس معاشرے کے پڑھے لکھے یا تحقیق سے جڑے علمی و فکری حلقوں یا افراد کا گلہ ہے کہ ہمیں پالیسی سازی کے عمل میں نہ صرف نظ انداز کیا جاسکتا ہے بلکہ پالیسی کے عمل میں ہماری رسائی نہ ہونے کے برابر ہے۔
اصل میں ہماری ریاست اور حکومت کا نظام جامعات سے وہ کام ہی نہیں لے سکا جو دنیا کی بڑی بڑی جامعات تعلیم و تحقیق ، پالیسی سازی ،بیانیہ کی تشکیل اور سفارت کاری کی سطح پر متبادل فکر کی تشکیل کی صورت میں لیتی ہیں ۔اس کا ایک اندازہم ہائر ایجوکیشن پر تعلیمی بجٹ کے مختص کرنے کے عمل سے دیکھ سکتے ہیں ۔ محدود وسائل یا جامعات کی سرپرستی نہ کرکے ہم کچھ بھی حاصل نہیں کرسکیں گے۔ہمارے جو سیاسی،سماجی ،معاشی قانونی سطح کے اشاریے پاکستان کے اندر دیکھنے کو مل رہے ہیں، وہ کافی تفریق کے پہلووں کو نمایاں کرتے ہیں اور ظاہر کرتے ہیں کہ ہماری حکومت کی سطح پر جو پالیسی سازی کا عمل ہے وہ مختلف نوعیت کے تضادات رکھتا ہے ۔
پچھلے دنوں لاہور میں ایک فکری نشست نعیم مسعود کے ادارے ہائر ایجوکیشن ایڈوکیسی اینڈ ڈولیپمنٹHEADکی طرف سے انعقاد کی گئی جو کافی فکر انگیزتھی۔اس نشست کا عنوان ’’سفارت کاری اور پالیسی سازی میں اعلی تعلیم کا کردار ‘‘تھا۔اس نشست کے مہمان خاص ممتاز ماہر تعلیم اور سابق ایگزیکٹو سربراہ ہائر ایجوکیشن ڈاکٹر ضیا القیوم،وائس چانسلر انجیرنگ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر، سابق چیرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن پنجاب پروفیسر ڈاکٹر نظام الدین ،لاہور کالج اینڈ ویمن یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر عظمی قریشی،پروفیسر ڈاکٹر شاہد فاروق ڈین پنجاب یونیورسٹی،پروفیسر ڈاکٹر محمد کامران وائس چانسلر اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور،سابق وزیر مملکت چوہدری جعفر اقبال،پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس وائس چانسلر یونیورسٹی آف سرگودھا، ڈاکٹر انجم طاہرہ لاہور کالج ویمن یونیورسٹی، سیکریٹری ریونیو شفقت اللہ مشتاق،ڈاکٹر مشتاق عبدالقادر اور دیگر ماہرین تعلیم سمیت راقم بھی شامل تھا۔بنیادی نقطہ یہ ہی سامنے آیا کہ جو خلیج ریاست ،حکومت اور جامعات کی سطح پر موجود ہے اس کو ختم یا کم کرنے میں سب کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ دنیا کی بڑی اور جدید جامعات کیسے اپنی ریاست کی سفارت کاری اور ڈپلومیسی سمیت پالیسی سازی کے عمل میں فائدہ اٹھارہی ہیں اور ان کا داخلی میکنزئم کیا ہے ۔کیونکہ اب دنیا بیانیہ کی جنگ میں تبدیل ہوگئی ہے اور اس میں ڈیجیٹل میڈیا کو اہمیت حاصل ہوگئی ہے،اس لیے جامعات کو مستقل اور پائدار بیانیہ اور بیانیہ سازی کی تشکیل میں علمی و فکری سطح پر تحقیق کو بنیاد بنا کر آگے بڑھانے کی ضرورت ہے ۔
ڈاکٹر ضیا القیوم اور ڈاکٹر شاہد منیر ،ڈاکٹر نظام الدین اور ڈاکٹر قیصر عباس کی یہ بات کافی درست تھی کہ ہمیں جامعات سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان کے نئے کردار پر بہت کام کرنا ہوگا اور جو کام ہوگیا ہے اس کام کو بنیاد بنا کر چلنے میں بڑے کردار ریاست اور حکومت کے اپنے نظام کا ہے۔ان کے بقول جب پالیسی سازی میں وہ لوگ شامل ہوںگے جو اس پالیسی کی سطح پر کوئی مہارت نہیں رکھتے یا اس پر ان کی گہرائی کم ہے تو پھر اس طرز کی پالیسی سے ہمیں بڑے نتائج کی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ دنیا کہاں جارہی ہے اور کیسے اس نے اپنے تعلیم کے میدان میں نئی جہتوں کو پیدا کرکے اپنی جامعات کو اپنی ہی ریاست میںاسے قابل قبول بنایا ہے۔
یہ جو پاکستان کو اس وقت داخلی ،علاقائی اور عالمی سطح پر سیاسی،سماجی ،معاشی ،قانونی ،سیکیورٹی اور سفارت کاری سمیت عام آدمی کے مفادات پر مبنی چیلنجز ہیں ان کا علاج مضبوط ،مربوط اور مشاورت پر مبنی پالیسی سازی کی بنیاد پر ہی ہوگا۔یہ جو اس وقت پاکستان میں عام آدمی کے جو حالات ہیں وہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہماری پالیسی سازی اور عوام کے مسائل اور مشکلات میں ایک بڑی تقسیم یا خلیج نظر آتی ہے۔یہ خلیج بنیادی طور پر لوگوں کا ریاست او ر شہری کے درمیان موجود عمرانی ماہدہ کو بھی کمزور کرتا ہے۔
اس لیے ہمیں سفارت کاری یا ڈپلومیسی یا پالیسی سازی کو محض علاقائی یا عالمی سیاست کے دائرہ تک محدود ہوکر دیکھنے کی بجائے اس کو داخلی مسائل سے جڑے فریم ورک کی بنیاد پر بھی دیکھنا چاہیے۔ کیونکہ اگر لوگ ملک کے اپنے داخلی نظام میںسیاسی اور معاشی طور مستحکم نہیںہونگے لوگوں کا اس نظام پر اعتماد بحال نہیں ہوسکے گا۔مگر بحران یہ ہے کہ یہاں ریاست اور حکومت کی سطح پر جامعات کے کردار کو تسلیم کرنے کی بجائے اس کی اہمیت کو اور زیادہ محدود کیا جارہا ہے۔ملک کی سطح پر یکطرفہ پالیسی سازی کا عمل ہمارے داخلی مسائل کو کم کرنے کی بجائے بڑھارہا ہے اور پالیسی سازی سے جڑے افراد خود سمجھتے ہیں کہ ان کو بھی اس عمل میں نظعرانداز کرکے پالیسی سازی کو ایک مخصوص طبقہ تک محدود کردیا ہے۔
اسی طرح سفارت کاری کے عمل میں ہمیں نئی سطح کی جہتوں کی ضرورت ہے ۔اس کے لیے جامعات کو بھی بنیاد بنا کر ہمیں ان سے فائدہ اٹھانے کی ضرورت ہے ۔یہ جو سوچ اور فکر ریاست کے نظام میں پائی جاتی ہے کہ ہم ہر فن مولا ہیں اور ہمیں سب کچھ آتا ہے۔
یہ ہی وہ سوچ ہے جو ہمیں زیادہ مضبوط انداز سے آگے بڑھنے کی بجائے پیچھے کی طرف دکھیلتی ہے۔ہمیں بنیادی طور پر جامعات کے فریم ورک کو ایک بڑے تناظر میں دیکھ کر مستقل کی طرف پیش قدمی کرنی چاہیے۔جو چیلنجز بطور ریاست اور حکمرانی کے ہمیں درپیش ہیں ان کا علاج بھی تعلیم اور تحقیق کے اعلی معیار اور ایک دوسرے کی معاونت کی مدد سے تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ایک المیہ یہ ہے کہ ہم سفارت کاری اور پالیسی سازی میں جامعات کے کردار کو تلاش کرنے اور اس کی اہمیت پر زور دے رہے ہیں ۔لیکن دوسری طرف اگر غیر منطقی انداز میں ایجوکیشن پالیسی سازی کی جائے گی تو پھر مستقل میں پائیدار نتائج یا بہتر نتائج کا حصول آسانی سے ممکن نہیں ہوسکے گا۔